عشق
کاپی پیسٹ کہتے ہیں جس کو عشق ( اویس قرنی عرف چھوٹا غالب) ٹیگ: اویس قرنی عشق چھوٹا غالب کہتے ہیں جس کو عشق 1 2 3 اگلا > غدیر زھرا لائبریرین وجہ تسمیہ عشقہ ایک جڑی بوٹی ہے، وہ جس درخت پہ چڑھتی ہے اسے خشک کر دیتی ہے۔ اسی مماثلت کے پیش نظر اس کیفیت کو بھی عشق کا نام دیا گیا۔ کیونکہ یہ مرض بھی جس کو ہوتا ہے اسے خشک کر دیتا ہے۔ طب کی رو سے عشق مالیخولیا کی ایک قسم ہے۔ جس میں انسان ہمیشہ کسی محبوب اور پسندیدہ شئے کا تصور ہر وقت باندھے رہتا ہے۔ اسی کا خیال، اسی کا ذکر ، اسی کی شکل و صورت ہر وقت پیشِ نظر رہتی ہے۔ اس کا سبب کسی ایک شئے کے تفکرات اور خیالات کی کثرت ہے۔ اس سے احتراقِ روح ہوتا رہتا ہے اور رطوبت خشک ہوتی رہتی ہے۔ اور خون بھی جل جل کر سودائے محرقہ بنتا رہتا ہے۔ یبوست بڑھتی رہتی ہے۔ اور یبوست کا خاصہ ہے کہ جو شکل قبول کر لیتی ہے وہ پھر مشکل سے چھوڑتی ہے۔ لہذا عشق میں جو خیالات قائم ہو جاتے ہیں ، وہ نکلنے نہیں پاتے۔ مرزا غالب کا شعر محلِ نظر رہے بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا (تعریف) عشق کی سب سے پہ...