بنات الرسول (محترم قاری حنیف ڈار )
بنات الرسول ﷺ ـ
بسم اللہ والصلوۃ والسلام علی رسولِ اللہ ﷺ ـ
ھم بچپن سے پڑھتے آئے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ۲۵ سال کی عمر میں شادی کی جبکہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی عمر اس وقت 40 سال تھی ـ پھر شیعہ بھائیوں کی طرف سے یہ اعتراض بھی نظر سے گزرتا کہ 40 سال کے بعد عورت کے یہاں اتنے بچے پیدا ھونا محل نظر ھے ـ لہذا نبئ کریم ﷺ کی زندہ اولاد صرف حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ھی ہیں اور باقی زینب و رقیہ اور ام کلثوم سلام اللہ علیہھن حضرت خدیجہ کی بہن حضرت ھالہؓ کی بیٹیاں ہیں جن کو حضرت خدیجہ نے اپنے یہاں پالا ،،
اگر بات سی طرح ھو جیسا کہ ھم پڑھایا اور سکھایا گیا تھا تو پھر ۱۵ سال کے اس ساتھ میں اتنی بچیوں کا جوان ھو جانا اور شادی کر دینا واقعی ایک عجوبہ ھی لگتا ھے مگر بات اس طرح بالکل نہیں ھے بلکہ اس طرح ھے جیسے قرآن بیان کرتا ھے ـ بیوی کے سابقہ شوھر سے جو بیٹیاں ھوں ان کو ربیبہ کہا جاتا ھے جو کہ ’ رب ‘ سے نکلا ھے یعنی پالی گئ بیٹی کو ربیبہ جمع جس کی ربائب ہے اور سورہ النساء میں جہاں محرم رشتے بیان کئے گئے ہیں اور جن سے شادی حرام قرار پائی ھے وھاں اس کو ذکر کیا گیا ھے [ وربائبكم اللاتي في حجوركم من نسائكم اللاتي دخلتم بهن فإن لم تكونوا دخلتم بهن فلا جناح عليكم ] النساء ـ۲۳
( اور تمہارے گھرکی وہ پروردہ بچیاں جو تمہاری ان بیویوں میں سے ھوں جن کے ساتھ تمہارا تعلق قائم ھو چکا ھے وہ بھی تم پر حرام ہیں ، ہاں اگر ماں سے تعلق قائم ھوئے بغیر طلاق دے دی جائے تو پھر ان سے شادی میں کوئی حرج نہیں )
مگر اللہ پاک نے سورہ الاحزاب میں جہاں نبئ کریم ﷺ کو حکم دیا ھے کہ آپ لونڈیوں اور آزاد عورتوں میں تفریق کی خاطر آزاد عورتوں سے کہیں کہ وہ گھر سے بڑی چادر لے کر اس طرح نکلا کریں کہ وہ چادر ان کے کچھ چہرے کو ڈہانپے رکھے ـ اس آیت میں تین کیٹیگریز کا ذکر فرمایا ھے ،،،
اے نبئ کہہ دیجئے اپنی بیویوں کو اور اپنی بیٹیوں کو اور مومنوں کی عورتوں کو کہ وہ اپنی چادروں میں سے کچھ لٹکا لیا کریں اپنے اوپر سے ،،
[ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا ( الاحزاب ـ 59)
چونکہ امت کی عورتیں نبی کی بیٹیاں ہی ھوتی ہیں اس لئے اس بات کو خلط ملط ھونے سے روکنے کے لئے امت کی عورتوں کو الگ سے خطاب کیا گیا تا کہ ’’ بناتک ‘‘ کو کچھ لوگ امت کی بیٹیاں قرار نہ دے دیں بلکہ نبی ﷺ کی ازواج اور بیٹیوں کو الگ کر لیا ،، اس طرح یہ بات سو فیصد طے کر دی گئ کہ نبئ کریم ﷺ کی دو سے زیادہ بیٹیاں تھیں ،،،
اب ھمارے پاس ایک طے شدہ پیمانہ اور ایسی ٹارچ موجود ھے جس کی روشنی میں ھم نبئ کریم ﷺ کی پہلی شادی اور اولاد کو دیکھیں گے ،،یعنی ھم اندھا دھند تاریخ کے جنگل میں نہیں گھسیں گے بلکہ کتاب اللہ کی روشنی لے کر گھسیں گے اور ھر اس روایت کو قبول کریں گے جو اس میزان پر پورا اترے گی اور ھر اس روایت کو رد کر دیں گے جو قرآن کی مخالفت کرے گی یا قرآن کے بیان کردہ کو مشکوک کرے گی ـ اس سے بالاتر اور غیر متعصب ھو کر کہ کس نے روایت کی ھے بلکہ یہ دیکھیں گے کہ کس کے بارے میں روایت کی ھے ـ
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی عمر کے بارے میں مختلف اقوال موجود ہیں اور خود نبئ کریم ﷺ کی عمر کے بارے میں بھی مختلف اقوال موجود ہیں مگر ہمیں بس ایک ھی اس طرح پڑھایا گیا ھے کہ گویا یہ متفق علیہ بات ھے ،
تمام تاریخی کتب میں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کو رسول اللہ ﷺ کی پہلی زوجہ کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے اور اکثر مؤرخین کا خیال ہے کہ خدیجہ کی عمر اس وقت 25 سال تھی۔ ابن عبدالبر نے لکھا ہے کہ خدیجہؓ رسول اللہ ﷺ کی پہلی زوجہ ہیں اور جب تک وہ بقید حیات تھیں آپ ﷺ نے دوسری شادی نہيں کی ہے۔ ابن عبدالبر نے لکھا ہے کہ آپ نے 26 سال بعد از عام الفیل، 25 سال کی عمر میں خدیجہ سلام اللہ علیہا سے شادی کی ہے۔ جبکہ اسی نے الزہری کے حوالے سے لکھا ہے کہ شادی کے وقت آپ کی عمر 21 سال تھی۔ مسعودی بھی خدیجہ کو ھی آپ کی پہلی زوجہ سمجھتا ہے۔ اور "البسوی" اور بعض دیگر مؤرخین بھی زہری کے قول کی تائید کرتے ہیں۔ ابن اثیر اسی رائے کی تائید کرتے ہوئے اس بات کا قائل ہے کہ یہ شادی بعثت سے قبل انجام پائی ہے۔ اگرچہ ابن اثیر نے شادی کے وقت آپ کی عمر کے بارے میں مختلف اقوال بیان کئے ہیں جن میں حضرت خدیجہ کی عمر 21، 22، 25، 28، 30 اور 37 سال بتائی گئی ہے۔ حضرت خدیجہ نے ۵۰ سال کی عمر میں انتقال فرمایا یوں بہیقی کی روایت کے مطابق شادی کے وقت حضرت خدیجہ کی عمر ۲۵ سال تھی اور یہ سب سے قوی قول ھے ، جس کو ھم ران کے نیچے دبائے بیٹھے رھے اور چالیس سال والے کو خوب فروغ دیا تا کہ بعد میں رسول اللہ ﷺ کی بیٹیوں کے بارے میں سوال کھڑا کر سکیں ـ
اگر حضرت خدیجہ کی عمر شادی کے وقت ۲۵ سال تھی جیسا کہ اکثریت کا قول ھے اور نبئ کریم ﷺ شادی کے وقت حضرت خدیجہ سے چھوٹے تھے تو پھر نبئ کریم ﷺ کی عمر شادی کے وقت ۲۱ سال تھی ـ گویا سیرت حلبیہ کی وہ روایت ۱۰۰ فیصد درست قرار پاتی ھے جس میں حضرت حمزہ اور رسول اللہ ﷺ کو ھم عمر قرار دیا گیا ھے ـ
حضرت خدیجہ علیہا السلام نہ بیوہ تھیں اور نہ ہی طلاق یافتہ تھیں بلکہ یہ قول درست ھے کہ آپ کنواری تھیں اور ایک با اثر اور متمول خاتون کا چالیس سال تک کوئی رشتہ نہ آنا عجیب اور ناممکن بات لگتی ھے ،، اس لئے حضرت خدیجہ کی عمر ۲۵ سال نبئ کریم ﷺ کی عمر ۲۱ سال تھی جب شادی ھوئی ، پہلی اولاد حضرت زینبؓ ھیں دوسری رقیؓہ پھر ام کلثومؓ پھر حضرت فاطمہؓ پیدا ھوئیں پھر قاسم پیدا ھوئے جو کہ بعثت سے متصل پہلے پیدا ھوئے اور 4 نبوی میں وفات پائی ـ
اس پس منظر میں اب قرآن کا قول بچیوں کی عمر اور شادیوں کا سارا مسئلہ حل ھو جاتا ھے _
رہ گئ مشرکوں سے نکاح کی بات تو بعثت سے پہلے سارے نکاح مشرکوں میں ھی ھوئے تھے ، مکے والے مشرکوں سے نکاح کی حرمت نبئ کریم ﷺ کی طرف سے بعثت کے بعد مسلسل ۱۳ سال کی محنت اور اتمام حجت کے بعد نازل ھوئی تھی ، اس سے پہلے نکاح پڑھنے پڑھانے والے میاں بیوی اور گواہ و نکاح خواں سب ھی دین ابراھیمی کے پیرو ھی کہلاتے تھے ، نبئ کریم ﷺ کا خطبہ نکاح حضرت ابوطالب نے پڑھا تھا ، اس لئے یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں کہ نبئ کریم ﷺ نے ابولہب کے بیٹوں کو بیٹیاں کیوں دیں ؟ ابولہب نبئ کریم ﷺ کا سگا تایا تھا دشمنی تو اعلان نبوت کے بعد شروع ھوئی ـ
اب آیئے اس طرف کہ نبئ کریم ﷺ کی دیگر بچیوں کا انکار کیوں کیا جاتا ھے ـ
یہ صرف حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی فضیلت کو حتمی ثابت کر کے ان میں سے معصوموں کی ایک خاص نسل چلائی جاتی ھے جس کی کوئی دلیل کتاب اللہ میں موجود نہیں ہے ،، اگر فضیلت بیٹیوں میں ھے تو وہ نبئ کریم ﷺ کی تمام بیٹیوں اور ان کے شوھروں اور ان کی کی اولادوں کو حاصل ھے ، اور اگر کوئی خاص الخاص نسلی فوقیت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حاصل ھے تو پھر وہ ان کی ساری اولاد کو حاصل ھے ،، کیونکہ وہ فضیلت ایک ھی طریق سے اولادوں میں منتقل ھوئی ھے ،جس طریقے سے حسنین کریمین سلام اللہ علیہما صلبِ پدر سے منتقل ھوئے ہیں ، باقی اولادیں بھی بالکل اسی طریق سے منتقل ھوئی ہیں آخر وہ کونسا فلٹر تھا جس نے دوسری اولاد کو وہ فضیلت منتقل نہیں ھونے دی !
سید کون ھیں ؟
حضرت علیؓ کی حضرت فاطمہؓ سمیت 9 بیویاں تھیں، یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ھے ! اس کے علاوہ ان کی متعدد لونڈیاں بھی تھیں ،ان بیویوں اور لونڈیوں سے جناب شیرِ خدا کے 14 بیٹے اور 17 بیٹیاں تھیں!
1- لیلی بنت مسعود تمیمی ٓ ان سے عبیداللہ اور ابوبکر پیدا ھوئے !
2-ام البنین بنت حزام - اان سے عباس-جعفر-عبداللہ-عثمان پیدا ھوئے !
3-اسماء بنت عمیس -- ان سے یحی -محمد اصغر پیدا ھوئے !
4 صہباء بنت ربیعہ - ان سے عمر اور رقیہ پیدا ھوئے !
5-امامہ بنت ابی العاص -( یہ حضرت زیبنب بنت رسول اللہ کی بیٹی تھیں) ان سے محمد اوسط پیدا ھوئے !
6- خولہ بنت جعفرحنفیہ - ان سے محمد بن حنفیہ پیدا ھوئے !
7- ام سعید بنت عروہ- ان سے ام الحسن- رملہ الکبری پیدا ھوئیں !
8-محیاہ بنت امرا القیس - ان سے ایک بیٹی پیدا ھوئی جو بچپن میں ھی فوت ھوگئی!
لونڈیوں میں سے جو اولاد ھوئی وہ کچھ اس طرح ھے !
1 ام ھانی 2-میمونہ 3-زینب الصغری 4-رملہ الصغری 5-ام کلثوم صغری 6- فاطمہ 7- امامہ 8- خدیجہ 9-ام الکرام 10- ام سلمہ 11- ام جعفر 12 جمانہ 13- نفیسہ !
سید کے ٹائٹل کے لئے یہ سارے آپس میں صدیوں سے لڑتے آئے ھیں،، اور بنو عباس نے جو مظالم آلِ علیؓ پر کیئے ان کے پیچھے بھی سیادت کی جنگ تھی ! فاطمی بار بار سیادت کا دعوی لے کر اٹھتے اور سختی کے ساتھ کچل دیئے جاتے ! جب یہ ھی طے نہ ھو سکا کہ سید کون ھیں تو زکوۃ اور صدقات کا کیسے طے ھو گا کہ کس کس پر حرام ھیں،، اس کا ایک ھی مصدقہ پیمانہ ھے،،جن جن کو خیبر کی جاگیر سے سالانہ کی بنیاد پر خرچ ملتا تھا جس کی وجہ سے ان کو زکوۃ کی ممانعت کر دی گئی تھی ،، وہ سارے سید ھیں ! ( ڈھونڈ ان کو اب چراغِ رُخِ زیبا لے کر )
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں