مذہبی برین واش
صائمہ نورین لغاری کیس : سندھ کو تکفیری قوتوں سے بچایا جائے
صائمہ نورین لغاری ایک سندھی بلوچ مڈل کلاس گھرانے میں پیدا ہوئی اور اس کا پورا گھرانا کسی بھی لحاظ سے ریڈیکل نہیں کہاجاسکتا اور نہ ہی اس گھرانے کو سندھ کی تہذیب و ثقافت سے بے بہرہ کہا جاسکتا ہے۔اس کے والد عبدالجبار لغاری بھی زمانہ طالب علمی سے لیکر درس و تدریس سے وابستہ ہونے کے بعد سے ترقی پسند فکر وسیاست سے ہی جڑے ہوئے ہیں اور اس گھر کے کسی اور فرد پہ ریڈیکل دیوبندی ازم کے سائے نظر بھی نہیں آتے لیکن صائمہ نورین لغاری کب اس ریڈیکل ازم کا شکار ہوئی اور کب وہ داعش کے پاکستانی نیٹ ورک کے ہاتھوں برین واش ہوئی ابتک اس بارے میں قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔لیکن اس کی کہانی ہمیں یہ ضرور بتاتی ہے کہ پاکستانی ریاست اور اس ریاست میں مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ غالب جہادی اور تکفیری بیانیوں نے ایسے سماں پیدا کردیا کہ اس نے سندھ کی ایک مڈل کلاس لبرل کلچر میں پلی بڑھی ناری جو ایم بی بی ایس کی طالبہ تھی کو برین واش کرڈالا ، اس میں یقینی بات ہے کردار داعش سے زیادہ کردار مغربی میڈیا کی اس گھوسٹ رپورٹوں نے ادا کیا تھا جو رجیم بدلنے اور مڈل ایسٹ میں اپنے مخالفوں کو شیطان ثابت کرنے کے لئے تواتر سے شایع کی جارہی ہیں، ٹوئٹر ، فیس بک پہ جعلی وڈیوز، جعلی تصاویر سے غصّے اور اشتعال کو تیز کیا جاتا ہے اور پھر خود بخود دہشت گرد ، درندے، انسانیت کے مجرم ہیرو لگنے لگتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں امریکہ کا سب سے بڑا لبرل نام فرائیڈز مین نے امریکی حکومت سے کہا ہے کہ شامی صدر کو ہٹانے کے لئے داعش سے اتحاد کرلیا جائے جبکہ ہیلری کلنٹن کی ای میلز نے پہلے ہی بھانڈہ پھوڑ دیا ہے کہ داعش کے ابھار میں امریکیوں کا کردار بنتا ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کے اس دور میں صائمہ نورین جیسی لڑکیوں کے لئے یہ کوئی بعید بات نہیں ہے اس نے سی این این، فاکس نیوز ، بی بی سی ، واشنگٹن پوسٹ ، نیویارک ٹائمز کی مینوفیکچرڈ رپورٹس اور گیس لائٹنگ نفسیاتی ہتھکنڈوں پہ مبنی جعلی صحافتی پروپیگنڈے کا اثر لیا ہو اور ایسے ہی پاکستان کے اندر بھی کئی ایسے لوگ ہیں جن کے مبہم تجزیوں اور جعلی رپورٹنگ نے اسے پاکستان میں بسنے والی کرسچن، شیعہ ، صوفی سنّی، احمدیوں ، ہندؤں کو "دشمن " اور اسلام کو مٹانے میں اہم کردار سمجھنے پہ مجبور کردیا ہو۔جب دی نیوز انٹرنیشنل جیسے اخبار کا انوسٹی گیشن ایڈیٹر انصار عباسی ہو، ایکسپریس پہ اوریا جان مقبول اور جنگ و جیو میں سليم صافی جیسے لوگ بیٹھے ہوں اور اے آر وائی میں طالبان کے جاسوس سمجھ کر افغانستان میں قید کاٹنے والے بیٹھے ہوں تو ایسے میں صائمہ نورین لغاری جیسی لڑکیوں کا ریڈیکل ہونا کوئی بعید از قیاس بات نہیں ہے۔اور یہ کام اتنی خاموشی سے کیا جارہا تھا کہ ہمارے سندھی لبرل مڈل کلاس گھرانوں کے سربراہوں کو بھی اس کی کانوں کان خبر نہ ہوئی ۔
مجھ سمیت کئی لوگوں نے سندھی دانش کو اندرون سندھ تکفیر اور جہاد ازم کی فیکڑیوں بارے خبردار کرنا شروع کیا تھا اور یہ بھی بتایا تھا کہ تکفیری فاشسٹوں نے سندھ کے تعلیمی اداروں کو اپنا مرکز بنایا ہے اور حیران کن امر یہ ہے کہ تکفیری جہاد ازم کے حامیوں نے دیوبندی پس منظر کے مڈل کلاس گھرانوں کو اپنا ٹارگٹ اور ہدف بنایا جہاں کسی نہ کسی انداز ميں تبلیغی جماعت کا عمل دخل ہے۔اور صائمہ نورین لغاری جس تعلیمی ادارے میں پڑھ رہی تھی اس میں بھی تبلیغی جماعت کا اثر بہت زیادہ ہے۔حال ہی میں ہیرالڈ نے حیدرآباد میں پولیس مقابلے میں مارے جانے والے پانچ نوجوانوں کی جو پروفائل دی ہیں ان سے سندھی مڈل کلاس دیوبندی گھرانے ، تبلیغی جماعت اور تکفیر ازم اور جہاد ازم کے باہمی ربط کی سمجھ آتی ہے۔
مجھے پروفیسر عبدالجبار لغاری کے گھرانے سے دلی ہمدردی ہے کہ ان کے گھرانے پہ ایک بڑی مصیبت ٹوٹ پڑی ہے اور نورین لغاری کا داعش میں شامل ہونا اور پھر ان کے مشن کا حصّہ بن جانا ان کے لئے بڑے صدمے کا سبب ہے۔لیکن کسی بڑی تباہی میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے نورین لغاری کا گرفتار ہوجانا غنمیت ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ نورین لغاری کی اصلاح کی کوشش کی جائے گی اور اسے نارملائزڈ کیا جائے گا اور نورین لغاری کا کیس اسٹڈی ریڈیکلائزیشن کے خاتمے کے لئے پالیسی تیار کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں