تعارف
ان سے ملئے۔
نام محمد اقبال بھٹی ....کنّیت بھٹی ..
..زمانہ 229 ق-م سے 1885ء
سترہویں صدی کے مؤرخین نے انے بالاتفاق سکندر اعظم لکھا ہے- بہادر ایسے کہ کبوتروں کے غول کو ہلکی سی ہش کرکے اڑا دے۔ کھڑے گھوڑے پر جست لگا کر بیٹھے....اور گھوڑے سمیت نیچے آن گرے - سخی اس قبیل کے کہ چھوٹے بازار کے ایک ہوٹل سے چائے پی کر اٹھے اور کاؤنٹر پر سو کا نوٹ چھوڑ آئے- بعد میں وہ نوٹ جعلی نکلا-( بہرحال نوٹ والا قصہ سراسر جھوٹ و مضمون کو طویل کرنے کو لکھا گیا ۔)
بہادر ایسا کہ بجلی چورو کے بچّے ان کے نام سے اپنے بزرگوں کو ڈرایاکرتے ھیں-
ابا ابا میٹر صاف کرنے والے انکل آگئے ۔
صبح ھوتے ہی ان کے ڈر سے صدر میں لگے کمبھوں و میٹرز سے لگے کُنڈے اتر جاتے ھے ۔ اور سب ڈر کے مارے انہیں بجلی کے میٹرز کیساتھ سیلفیاں لیتے دیکھ رہے ہوتے-
جس گلی کو گزرتے وہاں افراتفریح مچ جاتی- ان کا مشہور مکالمہ فلم "شہنشاہ" کی زینت بنا....."رشتے میں تو ہم تمہارے باپ لگتے ہیں....نام ہے اقبال بھٹی "-
تاریخی کتاب " اقبال چائے والا " کے مصنف فارغ گورکھپوری نے انہیں صدر سب ڈویژن کا سب سے زیادہ چائے پینے والا لکھا ہے- جو کسی بھی دور افتادہ ھوٹل پہ ‛ کڑک دودھ پتی کا سن کر پہنچ جاتا ھے اور شام کا کھانا کھانے تک صرف چائے ھی پیتا ھے -
جاوید گپی روایت کرتا ھے ‛329 ق- م میں اقبال بھٹی نے جھانسی کی رانی " کے خلاف علم بغاوت بلند کیا- اس جنگ کو ہاتھیوں کی جنگ کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں ہاتھیوں نے لڑنے سے انکار کر دیا تھا- یہ مرد سرخیل ایک طویل معرکے کے بعد گرفتار ہوا- رانی جھانسی نے کمال ترحم کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں ایک زرق برق ہاتھی کے پاؤں سے دوبار کچلوانے کی کوشش کی - لیکن اقبال بھٹی جسم پر سرسوں کا تیل مل کر آیا تھا- سو ہاتھی پھسل کر گرا اور رانی جھانسی اپنے ھی ھاتھی کے نیچے آکر ماری گئ-
اقبال بھٹی اور جاوید گپی کی ملاقات کا اگرچہ کوئ تاریخی ثبوت نہیں ملتا لیکن تاریخ دان اس بات پر سوفیصد متفق ہیں کہ دونوں ہم عصر ھے - مشہور تاریخ داند کامران لیاقت لائین مین ٹو " اس پر برسوں خاموش رہے ہیں- ایک دن منہ پر پانی کے چھینٹے مارے گئے تو انہوں نے بتایا کہ دونوں کی ملاقات ہوئ تھی.....عالم رویاء میں-
اقبال بھٹی ایک روایت شکن اصول پرست میٹر ریڈر ھے - نہ تو انکا کا کوئ فرقہ ہے نہ ہی کوئ سیاسی جماعت- ان کے پاس بجلی کے میٹرز کو ڈفیکٹیو کرنے کے کوڈز کے کئ گودام ہیں- یہ کوڈ وہ اپنی بھٹی میں تیار کرتے ہے اور بادشاہوں کی طرح ریڈنگ بیچ میں استمال کرتے ہے-ان گوداموں کی چابیاں سام سنگ کے موبائیل میں محفوظ ہیں- یہ موبائیل چوبیس کی ریڈنگ پر اکثر سلو رھتا و ھینگ ھوتا ھے ۔
مشہور ایڈمن اسسٹنٹ محمد اشرف نے انکی سروس بک میں " " میں لکھا کہ اقبال بھٹی ایک ٹانگ پر کھڑے ھوکر بھی چائے اور سگریٹ دونو کو مکس پی سکتا ھے-
1855ء میں وائسرائے ھند نے ان سے بل ڈسٹی بیوٹر کا عہدہ لیا تو انہوں نے ذرا سا بھی احتجاج نہ کیا- آخرکو میٹر ریڈر بن کر دیکھا دیا ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں