فیس بک ڈائجسٹ

روئ میں انگارہ.....ظفرجی

کسی دور افتادہ گاؤں کے کچّے گھر میں ایک بوڑھا میراثی اور میراثن اپنی اپنی چارپائیوں پہ محو استراحت تھے- شب کے کسی پہر ایک کالے چور نے دیوار میں نقب لگائ- دیوار کھود کر جونہی چور نے سر اندر کیا تو میراثی کی آنکھ کھل گئ- وہ زور سے کھنگارا تو چور وہیں دبک کر لیٹ گیا-
میراثی کو شرارت سوجھی - اس نے ساتھ دھرے حقّے کی چلم سے ایک جلتا بجھتا انگارہ اٹھایا اور چور کے سر پر دے مارا-  چور اس کی جلن  برداشت کئے خاموشی سے لیٹا رہا-
میراثی نے چور پر پے در پے تجربات شروع کر دیے - اس نے انگارے پھینکے....چور پر حقے کا گندا پانی ڈالا... کھانس کر بغلم تھوکی، لیکن چور ٹس سے مس نہ ہوا اور سرنہواڑے پڑا رہا-
تجربات کے دوران غلطی سے ایک انگارہ میراثن پر بھی جاگرا- وہ ہڑبڑا کر اٹھی اور میراثی کی سات پشت کو دھو ڈالا-
میراثی اطمینان سے بولا " او نیک بختے....غلطی ہوگئ ...تجھ سے اچھا تو یہ چور ہے جو کب سے میری حرکتیں برداشت کر رہا ہے-
راوی لکھتا ہے کہ مراثی کی بلاغت پر چور بھی عش عش کر اٹھا- اس نے نہ صرف نقب کی معافی مانگی بلکہ مراثی کو پلّے سے کچھ دیکر رخصت ہوا-
اگست 2014ء میں فیس بک ڈائجسٹ پر دھرنے کی مخالفت میں انٹری دی تھی- ان دنوں PTI کے نوجوان کارکنوں کا جنون عروج پر تھا- شروع شروع کے دن تھے اور ہم حب شریفان میں ناک ناک تک دھنسے ہوئے تھے- ان دنوں فراغت بھی بہت میّسر تھی- ہم نے PTI اور اس کے کپتان پر جلتے بجھتے انگارے بھی پھینکے اور حقّے کا پانی بھی- اگر کسی نے میرا "قّصہ چہاردرویش بے تصویر" پڑھا ہو تو اندازہ کر سکتا ہے میری تحریر میں چھپے زہر کا- Hamdard Husaini ، Fakhar Hussain Bhatti ، Arif Khattak ، سمیت بے شمار PTI پرست اور لیفٹسٹ میرے ساتھ آن بورڈ تھے- مجھ پر ان اصحاب کی طرف سے تنقید بھی ہوئ لیکن بڑے تدبر اور حوصلے کے ساتھ- لیلائے تبدیلی کے سب سے بڑے قیس ھمدرد حسینی صاحب بھی برابر میری تحاریر پڑھتے رہے اور میرے جلتے بجھتے انگاروں کو تبدیلی کی برف سے ٹھنڈا کر کے مجھے لوٹاتے رہے- ان دنوں نہ تو مجھے اپنی پوسٹ پر چوکیدار بن کر بیٹھنا پڑا اور نہ ہی پوسٹ سے ناک پر رومال رکھ کر فرار ہونا پڑا-
قوم کی بدقسمتی کہ اس پر 23 مارچ کی ایک اور صبح طلوع ہو گئ- اسی دن لکھنؤ سے Mohd Shadman نامی ایک دوست میرے ساتھ ایڈ ہوا- اس نے ان باکس میں اپنا تعارف کروا کے بتایا کہ وہ فرسٹ ائیر کا طالب علم ہے اور میرے قلم سے تحریک پاکستان کے بارے میں ایک متوازن سی تحریر چاھتا ہے- کچھ دیر کی چیٹ کے بعد میں نے "ڈیڑھ صدی" کی ٹرین میں اسے مدعو کر ڈالا- میں نے اس کے ابہام کو دور کرنے کےلئے آزادی کے مضمون پر ڈیڑھ صدی کی تین اقساط قربان کر دیں- میں نے کوشش کی کہ متوازن طریقے سے قائداعظم اورپاکستان کا دفاع کر سکوں- بمبئ سے ایک اور ساتھی Rehan Khan  بھی آزادی کی ان تحاریر کو خصوصی دلچسپی سے پڑھتے رہے اور ان باکس میں اظہار خیال بھی فرماتے رہے-
ایک دن ان دونوں حضرات نے ان باکس میں توجہ دلائ کہ ہندوستان سے زیادہ قائداعظم اور پاکستان کے مخالفین خود آپ کی وال پر موجود ہیں- میں نے تمام کمنٹس دوبارہ پڑھے تو کچھ قلوب سے بغض قائد رس رس کر کومنٹس میں بہتا دکھائ دیا- مجھے ہرگز گورا نہ تھا کہ ہندوستانی مہمانوں کے سامنے کوئ حضرت قائد اعظم سے بغض کا مظاہرہ کرے- اسی سبب مجھے ایک وضاحتی پوسٹ جاری کرنا پڑی-
میری بدقسمتی کہ بطور ایک سیاسی مثال مولانا فضل الرحمن صاحب مد ظلہ کا اسم گرامی بھی مجھ سے ٹائپ ہو گیا- اس پر کچھ حضرات نے کافی چیں بچیں ہوئے اور ان باکس میں کھٹ پٹ کرنے لگے- میں ان باکس میں سوائے ریلیکس ہونے کے اور کچھ نہیں کرتا- جب کھٹ پٹ زیادہ ہوئ تو مجھے ایک انگارہ پھینکنا ہی پڑا- یہ انگارہ وکی پیڈیا کے حقّے میں بھی موجود ہے اور 1990ء اور 1993ء کے روزناموں میں بھی دہک رہا ہے- میری معلومات کا ذریعہ الیکٹرونکس پرنٹ اور سوشل میڈیا ہی ہے- ظاہر ہے مولانا ممدوح کے محاسن و مناقب کے لئے میں آسمانی صحائف کی طرف رجوح کرنے سے تو رہا-
میں جے یو آئ پنجاب، برادرم یوسف خان ، حماداللہ لغاری ، اور عمیر حفیظ کا بے حد ممنون ہوں جنہوں نے اس مسئلے پر میری بہترین رہنمائ فرمائ- ان حضرات نے مولانا صاحب کو یقیناً قریب سے دیکھا ہوگا- اگرچہ میں ان حضرات کی تاویلات سے مؤدبانہ اختلاف کا حق رکھتا ہوں  لیکن بحث کو طول دے کر سیاسی منافرت کو ہوا نہیں دینا چاھتا-
باقی پوسٹ مذکورہ پر ترابی وزیر صاحب اور ھمدرد حسینی بھائ کے پاس ایک ہی ماڈل کی توپیں ہیں- بلکہ "اینی فیلڈ رائفل" کہنا زیادہ مناسب ہو گا جس کی وجہ سے 1857ء کی جنگ بھڑکی تھی- سو دونوں چربی زدہ کارتوس لئے ایک دوسرے کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنا رہے ہیں- دونوں کا رویہ حد درجہ سوقیانہ ہے- اور اصلاح احوال کی سخت ضرورت ہے-
تیسرے نمبر پر وہ بچے ہیں جن کا کام بنا تحریر سمجھے پٹاخے چلانا اور ٹائر جلانا ہے- فیس بک پر یہ حضرات وہی کام کر رہے ہیں جو سیاسی جماعتوں سے خفیہ طور منسلک دہشت گرد تنظیمیں ، دھاڑیل ، اور ٹارگٹ کلرز انجام دیتے ہیں- شاید اسی لیے جماعت کے کارپرداز ان کی تربیّت کا اہتمام نہیں کرتے-
حرف آخر یہ کہ انگارے کی قسمت کا تعیّن ہمیشہ میٹیریل کرتا ہے- یہ برف پر گرے تو وہ اسے بجھا دیتی ہے...روئ پر گرے تو آگ بھڑک اٹھتی ہے اور لوہے پر گرے تو وہ اسے ہواؤں کے فیصلے پر چھوڑ دیتا ہے-

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری