سگریٹ بھٹی
اقبال بھٹی کی سچیاں گلاں ۔
قصہ پڑھنے سے پہلے یاد رھے اس واقعہ کے کردار حقیقی اور زندہ سلامت ھے لہذا جھوٹ نہ سمجھا جائے البتہ
جہاں کردار حقیقی ھے وھی پورے کا پورا قصہ جھوٹ ھے ۔
آپکا سید جاوید
فارغ البال ‛ ( آدھا گنجم آدھا بالوم )دشمن اناج روڈ ‛نندیاں پور حال صدر سبڈویژن صدر ‛‛
اقبال بھٹی صاحب ہمارے لڑکپن کے دوست ، ایک بہترین میٹر ریڈر و شاعر ، نقاد ، اور بلا کے چائے خور اور سگریٹ دشمن ھے گرمی میں پیاس کی مانند ھر وقت چہاس کے شکار .
جبکہ سگریٹ ایسے پیتے ھیں جیسے ارادہ کر رکھا ھوں سگریٹ پی پی کے دنیا سے ختم کرنا ھوں ۔ ۔
..ہماری ان سے بے شمار یادیں وابستہ ہیں.... ان دنوں ہم گوجر خان ڈویزن میں کام کرتے تھے اور گوجر خان میں ایک کرایے کی بیٹھک میں چھڑے رہا کرتے تھے....
ایک بار یوں ہوا کہ اقبال بھٹی کو دوران ریڈنگ گوجر خان میں کسی لڑکی سے عشق ہو گیا اور اس کی پاداش میںً انہوں نے چائے سگریٹ چھوڑنے کا مصمم ارادہ فرما لیا....
ایک رات طیش میں آکر ڈبیہ سگریٹ پھینکنے لگے....ہم نے کہا...دیکھو بھائ اتنا عرصہ اس زہر ہلاہل کو لبوں سے لگا کر رکھا ہے...یوں پھینکنا مناسب نہیں ہے...کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
اے محتسب نہ پھینک...ارے محتسب نہ پھینک
ظالم شراب ہے ارے ظالم شراب ہے
کہنے لگے کیا کروں...
میں نے کہا گِزری گراؤنڈ میں چلتے ہیں...وہاں باقاعدہ دفن کر کے آتے ہیں....تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے-
شام کے آٹھ بجے تھے... ہم دونوں گِزری گراؤنڈ جا پہنچے...
انہوں نے لکڑی سے ایک گڑھا کھودنا شروع کیا....جب ڈبیاہ دفنانے کا وقت آیا تو میں نے کہا...
"بھائ...یوں بے آب و گیاہ جگہ پر نہ دفناؤ...یہ بھی توہین سگریٹ ہے...
کہنے لگے کیا کروں ؟ اب کیا گورا قبرستان جا کے دفناؤں ؟
میں نے کہا....نہیں بھائ....ایسا کرتے ہیں کہ اسے کسی کھنبے کے نیچے دفناتے ہیں ...تاکہ کبھی ادھر سے گزریں تو یاد کر سکیں کہ اس جگہ بھٹی صاحب نے عشق کی پہلی قربانی دی تھی........
بھٹی صاحب نے ہماری بات سے سوفیصدی اتفاق فرمالیا.....
گراؤنڈ کے ساتھ قطار میں کچھ اسٹریٹ لائٹ کے کھنبے لگے ہوئے تھے..ہم نے ایک کھنبا پسند کیا اور اس کے نیچے سگریٹ کی ڈبی دفن کرنے لگے- اس کارخیر سے فارغ ہو کر ہم نے اسی کھنبے کے نیچے بھٹی صاحب کی استقامت کےلیے باقاعدہ دعا بھی فرمائ-
بھٹی صاحب بہت خوش تھے....ہم نے گزری کے ایک ہوٹل سے چائے پی....اور کوئ 9 بجے کے قریب کمرے میں واپس آگئے-
اقبال بھٹی صاحب نے ایک گھنٹہ برابر مسواک کی- وہ کافی دیر اپنی پرانی زندگی پر لعنت ملامت کرتے رہے...اور عشق کے فوائد بیان کرتے رہے- ساڑھے دس بجے میں سو گیا...بھٹی صاحب دیر تک زیرلب کچھ پڑھتے رہے....ذکر اذکار تھا کہ ذکر یار....رب ہی جانے-
کوئ بارہ بجے کا عمل تھا کہ کسی نے مجھے جھنجھوڑ کر جگایا- میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا- جگانے والے بھٹی صاحب ہی تھے-
کچھ دیر تو ٹک ٹک ہمیں دیکھتے رہے پھر گویا ہوئے:
" بھائ میں نے اپنے فیصلے پہ خوب غوروخوض کیا ہے...یہ لڑکی اگر مجھے نہ ملی تو غم کی دولت ہاتھ آئے گی...اور رزمیہ شاعری لکھنی پڑے گی...جس کےلیے سگریٹ شرط اول ہے....اور اگر عشق کامیاب ہو گیا تو بحیثت بیوی میرے سر پہ سوار ہو جائے گی...اس صورت میں بھی مثل غالب نشہ سگریٹ کی طرف ہی رجوع کرنا پڑے گا....جب اوّل آخر رجوع ہی کرنا ہے تو کیوں نہ ابھی سے کیا جائے...چلیں نئ ڈبی لے کے آتے ہیں-
میں نے بہت بہانے کیے...اسے برا بھلا بھی کہا....لیکن ضدی بھٹی صاحب کو بات منوانا آتی تھی چنانچہ کافی ردو کد کے بعد مجھے راضی کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے...
ہم گِزری بازار چلے آئے- بازار میں ہو کا عالم تھا.....اور سب دکانیں بند پڑی تھیں سو سگریٹ ملنے کا امکان صفر تھا-
قصہ کوتاہ قبر کشائ کا فیصلہ ہوا- ہم ایک بار پھر گزری گراؤنڈ جا پہنچے...لیکن یہاں ایک چھوٹی سی گڑ بڑ ہو گئ-
ہمیں یہ یاد نہ رہا کہ کھنبا کون سا تھا-
ہم نے ایک ایک اسٹریٹ لائٹ کی کھدائ کا فیصلہ کیا...ابھی تیسرے کھنبے پر ہی پہنچے تھے کہ ......پولیس کی وین ادھر آنکلی-
میری جیب سے سو روپیہ نکلا اور بخاری صاحب نے ڈیڑھ سو حصہ ڈالا-
ہماری خوش قسمتی کہ پولیس والا پشاور کا پٹھان نکلا...اس کے پوچھنے پر ہم نے پورا قصہ من و عن سنا دیا-
مرض آشناء خان نے ایک پشتو قہقہہ لگایا...پھر جیب سے ایک بڑھیاں قسم کی سگریٹ کی ڈبی نکال کر ہمیں بخشی-
بھٹی صاحب کی خوشی دیدنی تھی...وہ ڈبی اچھالتے اور کیچ کرتے...اور بار بار یہ شعر پڑھتے جا رہے تھے....
اے محتسب نہ پھینک ارے محتسب نہ پھینک
ظالم ‛
سگریٹ ہے ارے ظالم سگریٹ ہے
بھٹی صاحب 0122ء میں اسلام آباد صدر سبڈویژن چلے آئے -
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں