کرامت
اٰمنتُ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰي رَسُوْلِہٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ۔
ایمان کا قبلہ صرف اللہ رسول اور ان کی کتاب ہے۔
جو لوگ شرط ایمان و ایقان کیلئے شخصیات و کشف و کرامات کو وزن دیتے ہیں وہ جانے انجانے میں ایک ایسا دروازہ کھول جاتے ہیں جس کے ذریعے کم فہم لوگ پیروں، بابوں، ہندؤوں، سکھوں اور عیسائیوں کی کرامات سے متاثر ہو کر اصل ایمان سے کہیں دور جا نکلتے ہیں۔
بابا نانک کو بھی ولی اللہ سمجھ کے مسلمان ان کی خدمت کرتے تھے، یہاں تک کہ ان کی وفات پر مسلمانوں اور سکھوں میں تدفین کرنے یا سنسکار کرنے پر جھگڑا کھڑا ہو گیا تھا، لیکن ان کی میت ہی غائب ہوگئی، پھر ان کے اوپر دی ہوئی چادر اور پھولوں کو مسلمانوں اور سکھوں میں آدھا آدھا کرکے بانٹ دیا گیا، مسلمانوں نے ان پھولوں اور آدھی چادر کو گردوارہ کرتارپور صاحب کے صحن میں دفنا کر ان کا مزار بنا دیا اور سکھوں نے سنسکار کرکے اسی گردوارے کے اندر ان کی سمادھی بنا دی، مسلمان اس قبر پہ منتیں مانتے ہیں اور سکھ زرا اندر جا کے سمادھی کو متھا ٹیکتے ہیں، یہ نارووال کا وہی گردوارہ ہے جس کا لانگھا کھولنے کی سدھو صاحب نے اپنے دورہ پاکستان میں بات کی تھی۔
پھر کرامت کو وزن دینے کے بعد سکھوں کے دسویں اور آخری گرو شری گوبند سنگھ صاحب کو کیا مانیں گے جو اپنا سر کٹنے کے بعد سر ہاتھ میں پکڑ کے لڑتے رہے، ویسے اپنے افکار کے آئینے میں یہ بہت اچھی شخصیت تھے، ان کے بعد سکھوں کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب کو ہی اب آخری گرو مانا جاتا ہے، اسیلئے اسے گرو گرنتھ صاحب کہتے ہیں، اب ساری کرامات گرو گرنتھ صاحب سے ظاہر ہوتی ہیں، اس کتاب میں مسلمان صوفیاء کے کلام بھی شامل ہیں۔
کرامتیں تو سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کی بھی بہت مشہور ہیں اور شفا کے معاملے میں کسی عیسائی پاسٹر یا بشپ کی کرامتیں سن لیں تو بھی آپ ورطۂ حیرت میں پڑ جائیں گے۔
فاروق آباد میں بابا نانک صاحب تجارت کیلئے آئے تو وہاں غلاموں کی منڈی لگی ہوئی تھی، انہوں نے اپنا سرمایہ جو کل بیس روپے تھا وہ ان بھوکے غلاموں کو کھانا کھلانے پر خرچ دیا اور تجارت کئے بغیر واپس چلے گئے، اس پر ان کے والد نے انہیں تھپڑ دے مارا کہ پیسہ برباد کر کے چلا آیا لیکن بابا جی نے اسے سُچا سودا کے نام سے موسوم کیا، اس کے چند دن بعد ایک جاگیردار نے اپنی آدھی جائیداد، ساڑھے سات سو مربعہ زمین، اٹھارہ ہزار ایکڑ، بابا نانک صاحب کے نام لگا دی اور اس علاقے کا نام بدل کر ننکانہ صاحب رکھ دیا۔
اس سُچے سودے کی یاد میں سکھوں نے فاروق آباد کی اس جگہ گردوارہ سچا سودا تعمیر کیا جہاں بابا نانک صاحب نے بھوکوں کو کھانا کھلایا تھا، سکھوں کے گردواروں میں ہر کسی کیلئے لنگر کا اجراء بھی اسی سودے کی بنیاد پر ہے جس پر سکھ قوم اربوں روپے سالانہ خرچ کرتی ہے۔
خیر کرامت یہ بتانی تھی کہ گردوارہ سچا سودا میں ایک بیری کا درخت ہے جو کسی گرو نے ہی لگایا تھا، اس پر سارا سال بیر لگتے ہیں، پھر وہاں ایک ون کا درخت بھی ہے جس پر مہنتوں نے کچھ سکھ گرووں کو پھانسی دی تھی، وہ درخت ہرا بھرا رہتا ہے مگر جس تنے پر پھانسی دی تھی وہ ہمیشہ خشک رہتا ہے، اس پر تازہ چھال نہیں آتی، اور اس یوم شہادت کو وہاں سے کبھی لہو بھی ٹپکتا ہے۔
گردوارہ پنجہ صاحب کا بھی یہی حال ہے جہاں بابا نانک صاحب نے پھسلتے ہوئے پہاڑ کر ہاتھ سے روکا تھا، وہاں پہاڑ پر ان کے ہاتھ کا نشان باقی رہ گیا جو ابھی چاروں طرف سے محفوظ کر دیا گیا ہے، اس نشان کے عین نیچے سے پانی کا چشمہ بھی جاری ہوا، جس کا ماخذ ابھی بھی نامعلوم ہے، اس پانی میں سینکڑوں مچھلیاں پنجے کی طرف منہ کئے تیرتی رہتی ہیں، ان کو وہاں سے ہٹا دیں تو وہ پھر سے وہیں پنجہ صاحب کے پاس اکٹھی ہو جاتی ہیں۔
جنگ ستمبر میں جہاں ہرے کپڑے والوں نے بم کیچ کئے تھے وہاں گرو بھی پیچھے نہیں رہے، ایک انڈین بم گردوارہ کرتارپور صاحب پہ بھی پڑا تھا جو پھٹا نہیں، وہ بم اب وہاں ڈسپلے پر رکھا ہوا ہے، ساتھ اس کی ہسٹری بھی لکھی ہوئی ہے۔
یہ ساری کرامات آپ کو یوٹیوب پر بھی مل جائیں گی، اب کیا کریں؟ اپنا نام کرتار سنگھ رکھ لیں؟
یاد رکھیئے کہ کرامت ہمیشہ پردے میں پلتی ہے، اس کا واحد گواہ صرف وہ صفحہ ہوتا ہے جس پر یہ لکھی گئی ہوتی ہے، ایک بے جان صفحے کو بھی کیا ادراک ہو سکتا ہے، یہ صفحات اصل میں ہمارے ظرف کا امتحان لیتے ہیں، ایک اعلیٰ ظرفی دکھانے کیلئے ہم ان کرامتوں کا اکرام کر جاتے ہیں ورنہ جس قدر یہ ہم سے پردہ کرتی ہیں، اس کے پیش نظر حقیقت میں کوئی انہیں منہ بھی نہ لگائے مگر اعلیٰ ظرفی بھی کوئی چیج ہووت ہے لہذا جب تک ہمارا ظرف زندہ ہے کرامت زندہ رہے گی۔
اللہ کی مہربانیاں بے کنار ہیں اسلئے کرامات کا انکار نہیں لیکن میرے نزدیک ان چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں، اسلام ہو، آئمۃ الطاہرین ہوں یا بزرگان دین، ان سب کی تعلیم ایک ہے کہ مسلمان کے ایمان اور کردار کا قبلہ اللہ رسول ہیں، یہ سب اپنی عظمت کیلئے مضحکہ خیز قصوں کے محتاج نہیں، اسلئے جاہل مولویوں، ذاکروں اور پیروں کی کرامات سن سنا کر بدھو بننے کی بجائے ایک بار اپنے ایمان کو ریفریش ضرور کر لیا کیجئے تاکہ قبلہ سے، خدانخواستہ، کہیں دور نہ نکل جائیں۔
ہمارے ایمان کا قبلہ اور ریفریشر کسی اپنے پرائے کے کشف و کرامات نہیں بلکہ اٰمنتُ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ کا ورد ہے۔
۔۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں