سید کے خطوط
سیّد کے خطوط .....(1)....ظفرجی
پیارے ظفر جی......
.سلام ممنون!!!!
آپ ہمیں چھوڑ کر کیا گئے کہ مڑ کر احوال ہی نہ پوچھا- ہم جئیں ، مریں زندہ دفن ہوں ....آپ کی بلا سے ....بھئ آدمی ایک پرچہ ہی بھیج دیتا ہے دوچار الٹی سیدھی لائنیں گھسیٹنا کون سامشکل کام ہے.....بہت فارغ بندے ہو یار....کام سے بھی اور عقل سے بھی !!!
اب سنیے ہماری بپتا......
آپ کے جانے کے بعد ہم نے لندن میں سال بھر گزارا-
6 اگست 1869ء کو ملکہء عالیہ دام اقبالہم نے ہمیں " کمپینئن آف سٹار آف انڈیا" کا خطاب دے کر ہماری عزّت افزائ فرمائ- اور ہمارے کوٹ پر خود اپنے دست اقدس سے یہ سٹار لگایا- اگرچہ اس پر بھی کچھ لوگ چیں بچیں ہو رہے ہیں لیکن ہم نے یہ اعزاز غدر میں کچھ انگریز عورتوں بچوں کی جان بچانے پر حاصل کیا جو بحثیّت سرکاری ملازم ہمارا فرض تھا- صد شکر کہ اس اسٹار پر کسی معصوم کے خون کے دھبے نہیں ہیں-
اگلے سال ہمیں رب نے ایک اور کامیابی سے نوازا- ہم لندن کے سب سے مشہور "ایتھینیئم کلب" کے رکن بھی بن گئے جس کی رکنیّت کےلئے لوگ ایڑھیاں اٹھا اٹھا کر آرزو کیا کرتے ہیں-
ہم نے لندن کے کالجز ، بورڈنگ ہاؤسز ، کیمبرج یونیورسٹی کے طلباء کا احوال بھی ملاحظہ کیا اور یہاں کی رسدگاہوں ، کارخانوں اور لیبارٹریز کو بھی نہایت قریب سے دیکھا-
لندن میں بیٹھ کر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ اپنی قوم کو جہالت کے گڑھے سے نکالنے کےلئے جس سیڑھی کی ہمیں ضرورت ہے وہ ہے....تعلیم اور صرف تعلیم-
سال بھر بعد ہم ھندوستان پلٹے تو دیکھا کہ یہاں کا مسلمان اپنا قیمتی وقت تحقیق کوّا حلال حرام میں سرف کر رہا ہے- اور ملّت کی ساری قوّت تکفیر بازی میں ضائع ہو رہی ہے-
اس وقت قوم کو یورپین سائنس لٹریچر کی اشد ضرورت تھی جسے شرعاً حرام سمجھا جاتا تھا- ہم نے سب سے پہلے اصلاحی خطبات پر مشتمل رسالہ تہذیب الاخلاق جاری کیا- ہم مذہب پر پڑی جہالت کی گرد کو جھاڑ کر قوم کو روشنی کی طرف لانا چاھتے تھے-
صدیوں سے تاریکی میں پڑی قوم جّدت کی چمک پڑتے ہی ہڑبڑا کر اٹھی تو ہَمِیں پر حملہ آور ہو گئ- قدامت پرست کوّے کو چھوڑ کر ہمارے پیچھے پڑ گئے- کوّے نے تو سکھ کا سانس لیا لیکن جینا ہمارا حرام ہو گیا-
عقل کے دشمنوں نے "تہذیب الاخلاق" کو "تخریب الاخلاق" اور "تخریب الآفاق" سمجھا اور ھنگامہ کھڑا کردیا- کان پور ، گورکھ پور اور مراد آباد سے اس رسالے کی تردید میں ایمان بچاؤ رسائل نشر کیے گئے-
وہ طبقات جو ہماری آمد سے پہلے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگا چکے تھے....اب مسلمان ہو کر ہمِیں کو کافر و مرتد قرار دینے کی جستجو میں جت گئے-
ہمیں کانا دجال کہا گیا ، حالانکہ ہماری دونوں آنکھیں سلامت اور بینائ ان سے بہتر تھی ، ملحد کا خطاب دیا گیا حالانکہ رب واحد پر ہمارا ان سے بہتر یقین تھا- مرتد کہا گیا حالانکہ ہم نے محض جہالت سے ارتداد اختیار کیا تھا-
ھندوستان کا مسلمان گومگو کی حالت میں کبھی ہمیں دیکھتا کبھی ان محسنوں کو جو اسے جہالت کے کنویں میں الٹا لٹکائے منڈیر پر بیٹھے اس کی حفاظت کر رہے تھے-
کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے..... آخر ہم ایک اقلیّت کو بیدار کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے اور انجمن خواستگاران ملت وجود میں آئ....کچھ عرصہ بعد اس انجمن نے محمڈن کالج کے چندے کےلیے ایک کمیٹی کی داغ بیل بھی ڈال دی-
ہم نے علی گڑھ کو پسند کیا- علی گڑھ ہمارا وطن نہ تھا ہمارا دل تو دلی میں اٹکا ہوا تھا لیکن دلی میں اب محض سال خوردہ دیواروں اور ٹوٹے مزاروں کے سوا بچا ہی کیا تھا-
علی گڑھ چاروں طرف سے مسلمان رؤساء سے گھرا ہوا تھا - میرٹھ ، بلند شہر ، مظفرنگر ، سہارنپور ، آگرہ ، اور روہیل کھنڈ میں بہت سے معزز مسلمان خاندان بستے تھے جن کی دولت محض نمودو نمائش اور دعوتوں پر خرچ ہو رہی تھی-
ہم نے مدرسہ الاسلام سے کام کا آغاز کیا- لیکن ہمارا خواب محمڈن اوریئنٹل کالج کا تھا جو کم سے کم کیمبرج کے ہم پّلہ ہو- اور مسلمانان ھند کی تقدیر بدل سکے-
آج ہی علی گڑھ میں انجمن خواستگاران ملّت کا اجلاس ہو رہا ہے- جس میں بہت سے فدائے ملّت ہمارے ساتھ بیٹھ کر مستقبل کے خواب بنیں گے-
تمام دوستوں سے ہمارا سلام عرض کردینا-
اور ہاں اس موئے ھمدرد حسینی کو کہنا کہ تبدیلی کےلئے ہر جگہ سینگ اڑانا ہرگز مناسب نہیں- ہم تو محض جہلاء کے ِافکار باطل کے سامنے کھڑے ہوئے تھے جو کوّے کو سفید کہنے پر بضد تھے- علمائے حق کے تو ہم ہمیشہ قدردان رہے- ایک بار ہماری مجلس میں کسی نے "تقویہ ایمان" والے شاہ اسمعیل شہید کو "گستاخ رسول (ص) کہ دیا- ہم نے اس جاہل کو ایسا دھویا کہ ایک مدت تک نہانے کی آرزو نہ کر سکا-
خط کے ساتھ ایک عدد انگوٹھی بھیج رہے ہیں- یقیناً ہم سے زیادہ اس کی آپ کو حاجت ہے-کبھی کبھی تاریخ کا چکر ضرور لگایا کرو خوشبو لگا کے-
خیراندیش
سر سیّد احمدخان بہادر سی ایس آئ (جواد الدولہ)
سیّد کے خطوط....(2)....ظفرجی
محترمی و مکّرمی سر سیّد احمد خان بہادر سی - ایس - آئ
السلام علیکم و رحمہ اللہ
آپ کا گراں قدر نامی نامہ ملا- چوم کر آنکھوں سے لگایا- خوشی سے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے ، سو چارپائ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا- اور ابھی تک بیٹھا ہوا ہوں-
لندن سے کامیاب واپسی پر دل و جان سے خوش آمدید - اگر ڈیڑھ صدی کی فصیل بیچ میں نہ ہوتی تو استقبال کےلئے کچھ سیاسی کارکن ضرور بھجواتا، یہ موئے سدا کے فارغ ہیں اور محض چائے لسّی پر کسی کو بھی کندھوں پر اٹھالیتے ہیں- آپ تو چراغ ھندوستان ٹھہرے-
کاش ہم آپ کو عقیدت کے پھول پہنا کر جلوس کی صورت الہ آباد تک لاتے اور " دیکھو دیکھو کون آیا " کے نعرے لگاتے- یہ نعرہ بھی آج کل ہماری طرح خاصا فارغ ہے-
سب سے پہلے تو میری طرف سے CSI کا خطاب ملنے پر ڈھیروں مبارکباد- اس بات پر قدرے طمانیّت ہوئ کہ آپ کے ولائتی کوٹ پر سجا نقرئ ستارہ کسی معصوم کے خون سے آلودہ نہیں ہے- اس پرمسرت موقع پر یقیناً آپ ملکہء وکٹوریہ کے ساتھ ساتھ ان سرپھروں کے بھی شکر گزار ہونگے جن کے لاشے دلّی کے درختوں پر کئ دن تک جھولتے رہے- ہر چمکتے ستارے کے پیچھے ایک مہیب سیاہ رات ہوتی ہے .... ورنہ دن کو تارے کس نے دیکھے ہیں ؟
خیر چھوڑیے....بندہ کافی حاسد طبع واقع ہوا ہے- اور کسی کی کامیابی ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے کی صلاحیّت سے یکسر محروم ہے- آپ کو ایتھینیم کلب میں شمولیّت پر بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں، یقیناً یہ ڈانس کلب نہ ہوگا اور اس میں بیٹھ کر ہمارا دانشور آقا شب و روز ہماری ترقّی کے بارے ہی غوروخوض کرتا ہوگا- جیسے آج کل وہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ اور وہائٹ ہاؤس میں بیٹھ کر ہماری فکر میں دبلا ہوا جاتا ہے-
ہندوستانی مسلمان کی حالت زار سن کر کافی دکھ ہوا- دنیا ترقّی کر رہی ہے اور یہ بے چارہ کوّا حلال حرام کے چکّر میں اپنی توّانایاں برباد کر رہا ہے- ہم تو ان بے کار مسائل سے جان چھڑا چکے ہیں- سو ہوٹلوں میں مردہ بھینسوں سے لیکر گدھوں تک کا گوشت بڑے اہتمام سے پکایا اور کھایا جا رہا ہے-
کوّے سے یاد آیا پچھلے دنوں ہمارے ہاں سندھ اسمبلی میں پورا سیشن اس بحث میں برباد ہو گیا کہ کچھوے کے انڈے حلال ہیں یا حرام- کراچی کے کچھ ہوٹلوں پر یہ انڈے مرغی کے نام پر کھلائے جاتے ہیں- کسی نے اس پر بحث نہیں کی کہ دھوکا حلال ہے یا حرام- سب کی سوئ کچھوےپر ہی آکر ٹک گئ- یاد رہے کہ اسمبلی کے ایک سیشن کے خرچ میں ہزاروں اہل وطن کو دو وقت کا کھانا کھلایا جا سکتا ہے جنہیں پیٹ بھرنے کو ایک انڈہ تک میسّر نہیں-
آپ کی دعاؤں سے پاکستان ترقّی کے سفر پر گامزن ہو چکا ہے- ہماری نئ نسل ستاروں پر کمند ڈال رہی ہے- ہر نوجوان کے ہاتھ میں ایک آلہ ہے جسے موبائل کہتے ہیں- اس میں بے شمار ستاروں کی بھڑکتی تصاویر ہیں جن پر وہ دن رات کمندیں ڈالنے کی فکر میں رہتا ہے-
باقی ہمارا مولوی بھی ترقّی کی شاہراہ پر بگٹٹ بھاگ رہا ہے- ابھی کل ہی ہم ایک سادہ سا مسئلہ لئے مفتی جمال دین کے پاس گئے اور پوچھا " حضرت چاند پر نماز پڑھنی پڑے تو منہ کس طرف کرنا ہوگا" مفتی صاحب نے سر کھجاتے ہوئے ہم سے ہمارا مذہب پوچھا تو ہم نے قدرے حیرانی سے اسلام بتلایا- مولوی صاحب نے غصّہ سے ارشاد کیا " نامعقول ہم فّقہ کی بابت پوچھتے ہیں" ہم نے کہا " حنفی ہیں" انہوں نے مکتبہء فکر پوچھا- ہم نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے سرگوشی میں " دیوبند" ارشاد کیا- اس پر سوال ہوا " حیاتی ہیں یا مماتی ؟ " ہم نے کہا معلوم نہیں- اس پر تیوڑی چڑھا کے بولے " تمہارے نزدیک مردے سنتے ہیں یا نہیں ؟ " ہم نے کہا "ہمارے نزدیک تو حاجی عبدالقدوس صاحب رہتے ہیں جو اونچا سنتے ہیں" اس پر انہوں نے ہمیں تجدید ایمان کےلئے مفتی کمال دین کے پاس جانے کا مشورہ دیا-
" چاند پور" چیچہ وطنی کا ایک پس مانندہ سا گاؤں ہے- جہاں صدیق ارائیں ٹھیکیدار نے ہماری کچھ رقم داب رکھی ہے- حیرت ہے کہ ہم چاند پور کی بات کر رہے تھے اور مفتی صاحب "چاند پر" سمجھتے رہے - شاید اسی لئے ایک سادہ سے مسئلے کو فروعی بنا ڈالا-
علی گڑھ میں کیمبرج کالج کا خواب یقیناً ایک عمدہ سوچ ہے- امید ہے آپ کی مساعی سے قوم میں سائنس اور انگریزی پڑھنے کا جزبہ بیدار ہوگا- میرے گھر سے تین گلیاں چھوڑ کر "کیمبرج ماڈل اسکول" ہے جو طلباء کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر انہیں دین ایمان سے بھی فارغ کر رہا ہے- اس سے دو گلیاں آگے "علی گڑھ پبلک سکول" ہے جس کا مہتمم ایک انڈر میٹرک پروفیسر ہے- ڈی چوک سے بائیں گھوم جائیں تو "سرسیّد پبلک اسکول" ہے- یہاں ایک پانچویں جماعت کے طالب علم سے میں نے پوچھا " سرسیّد احمد خان کون تھے؟" جواب ملا " ہمارے پرنسپل عیسی خان کے ابوّ "
باتیں تو بہت سی ہیں لیکن بجلی کے بل کی آج آخری تاریخ ہے- بجلی کیا ہے اور سرزمین پاکستان پر کیا کر رہی ہے اس کا احوال آئیندہ - فی الحال غالب کے اس شعر پر قناعت کہ ;
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے ، شب غم بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
باقی " History Ring" کا تحفہ موصول ہو گیا ہے- لیکن اس پر 1869ء کا لاک لگا ہوا ہے- اگر پاس ورڈ بھیج دیں تو ممون رہونگا-
دراصل سترہویں صدی کے سیّدین حضرت وارث شاہ اور بابا بلھے شاہ کی قدم بوسی کا شوق بھی ہے اور چودھویں صدی کے تیدھو رانجھا کی بنسری بھی سننا چاھتے ہیں ، کہ طبیعت آج کل کچھ عاشقانہ سی ہو رہی ہے-
ھمدرد حسینی نے آپ کو سلام بھجوایا ہے اور کہا ہے کہ شاہ صاحب آپ کی نصیحتیں سر آنکھوں پر لیکن مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر !!!
زیادہ آداب
ملتمس :
ظفرجی
فارغ البال - دشمن اناج روڈ
نندیا پور - پاکستان
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں