نسوار
کل شب ہم نے پہلی بار نسوار کا تجربہ کیا.
یہ خبر سن کر واعظانِ نا پختہ ابھی اپنے نیزے نشتر سنبھالتے ہونگے لیکن نصائح کی پٹاری سے کچھ الٹا سیدھا برامد کرنے سے پہلے داستان سنتے جائیے تاکہ عبرت ہو..
دوستوں سے سنا تھا کہ نسوار کا تذکرہ ایک باطل حدیثِ میں یوں ہوا ہے کہ "النسوار التراب الجنہ".. یعنی نسوار جنت کی مٹی ہے. ہمیں اس روایت سے شدید نفرت ہے کیونکہ اس شے کو مٹی سے تشبیہہ دینا بالکل بھی مناسب نہیں. نسوار کی تعریف میرے نزدیک کچھ یوں ہے کہ
"الائچی اور تمباکو کا وہ دلفریب مرکب جو روح کو سرشاری، آنکھوں کو خماری، انداز کو دلداری، مزاج کو تازگی، احساس کو بالیدگی اور آرٹ کو روانی عطا کرے نسوار کہلاتا ہے."
داستان یہ ہے کہ پختون ہونے کے سبب عرصہ دراز سے اس ثمرِ لطیف کے بارے میں سنتا اور دیکھتا آیا تھا. وائے قسمت کہ پشاور کے ایف جی کالج میں، جب ہمارے لیکچر روم کے پچھلے کونے سے پھینکی ہوئی نسوار کی ڈلیوں کے ڈھیر نکلتے تھے ہم تب بھی اس جوہرِ نامدار کی جادوگری سے ناآشنا تھے. کراچی پہنچے تو بارہا ہم سے ہمارے پٹھان ہونے کا ثبوت مانگا گیا. تب بھی ہم نے عبدالرحمن بابا کے نستعلیق اشعار ہی سنائے. تب اگر نسوار کی ڈلی ہونٹ کے بالائی حصے میں رکھی ہوئی دکھا دیتے تو رحمان بابا کی روح کو زحمت نہ دینی پڑتی..
حد تو یہ تھی کہ زندگی کو اس قدر ضائع کرنے کا پچھتاوا بھی نہیں تھا. کل شب بنارس کے پل کے نیچے یارِ جہنم عبدالرشید (شادمردانوی) کے ہاتھ میں یہ جنتی میوہ دیکھا تو ازراہِ شرارت لے لیا. پوچھنے لگے کہ کیا تمہیں ڈلی بنانی آتی ہے. ہم نے مست ہو کر کہا کہ
"یہ میرے genes میں ہے". پراسرار طور پر ہم نے اسے بہترین انداز میں بنایا.
کچھ دیر سوچ بچار کے بعد بالآخر خود پر اسے واجب کرنے کا سوچا اور مکین کو مکان کی بالائی منزل میں بٹھا دیا. دوست کہتے ہیں کہ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہیں رہی. ہم نے اول اس کی ٹھنڈک پہ رائے دی. دو منٹ کی خاموشی کے بعد ہمارا جہاز بادلوں کے اوپر تھا. تب ہم نے دنیا کو الگ ڈھنگ سے دیکھا. ہم پہ دنیا کی حقیقت واضح ہو رہی تھی. عبدالرشید صاحب نے ہمیں ٹہلنے کا مشورہ دیا کہ یہی دستورِ خواص ہے. ہم کھڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ تختِ شاہجہاں ہمارے قدموں تلے ہے. اور ہما کا سایہ رین ہمارے سر پر ہے. اس دہر کے سبگتگین ہم ہی ہیں اور دادا اور سکندر ہمارے کاسہ لیس ہیں. عبدالرشید صاحب نے پوچھا کہ کیسا محسوس کر رہے ہو. مجھ گنہگار نے جواب دیا کہ "وحی اتر رہی ہے".. انہوں نے دونوں ہتھیلیاں انگلیوں سمیت مجھے دکھا کر مجھے نالت سے نوازا جس کا اس وقت کوئی اثر نہ ہوا.
مجھے جب محسوس ہوا کہ انہوں نے مجھے دکھا دیا ہے تب میں نے ان سے ناراض ہونا چاہا مگر وہ یقین دلانے میں کامیاب ہو گئے کہ انہوں نے صرف میرے سینے پہ ہاتھ رکھا... دھکا تو مجھے یونہی محسوس ہو رہا ہے. مجھے اب بھی یقین ہے کہ وہ دھکا ہی تھا اور وہ میری حالت کا فائدہ اٹھا رہے تھے.
کچھ دیر یہ کشف کی کیفیت رہی پھر میں نارمل ہو گیا. اے درویشی کے طلبگاروں..
راز میں نے بتا دیا باقی تمہارا خدا تمہیں منزل دکھائے...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں