عمران
ایک دانشورانہ پوسٹ پر نظر پڑی جس میں مسیحائے اعظم کے خطاب کا تعارف کچھ یوں کرایا گیا تھا۔ “خطاب کہاں تھا، ایک درد مند باپ مخاطب تھا اپنی رعیت سے۔ ایک فکرمند چرواہے کے الفاظ تھے جس کو اپنے ریوڑ کی فکر ہے۔”
اس الف لیلوی تعارف نے مجھے مہمیز دی کہ اشب خیال کو دوڑاوں اور اس تاریخی خطاب کے تعارف پر اضافہ کرتا چلوں لہذا خاکسار کی کوشش آپ کی نذر ہے۔
خطاب کہاں تھا بغداد کے مخملیں بازاروں میں گھومتے ایک پراسرار سوداگر کی سدا تھی کہ “جنتی پودے کے پسے ہوئے پتے لے لو”۔ ایک تازہ دم گھڑ سوار کے الفاظ تھے جو مال غنیمت میں ڈھیر ساری عظمت رفتہ لے کر لوٹا ہو۔
خطاب کہاں تھا اک سبز پوش خواجہ حضر کا الہام تھا جو اپنے متبعین کو پیالوں میں مولائی بوٹی بھر بھر دے رہا ہو۔ ایک نیک دل شہزادی کے الفاظ تھے جو رات کے پچھلے پہر بعد از ادائیگی تہجد اپنی سہیلی کے ذریعے آبپاروی نوجوان رعنا تک پیغام رسانی میں تاک ہے۔
خطاب کہاں تھا دجلہ کے کنارے بیٹھے اس بوڑھے ملاح کی جگ بیتی تھی جس کی کشتی کا ٹوٹا ہوا تختہ غماز تھا کہ موسی و خضر اسی جہاز کے سوار تھے۔ اہرام مصر کے پہلو میں کاندھے پر بیلچہ اٹھائے سنٹیاگو کی لگن تھی جسے سفوف سونگھنے کے بعد دیکھے گئے ایک خواب نے دیوانہ کر رکھا تھا۔
خطاب کہاں تھا سند باد جہازی کی تڑپ تھی جو دنیا کو پیر تسمہ پا سے نجات دلانے کا سبب بنی۔ عمرو عیار کے الفاظ تھے جو اس نے پدم جادوگر کو اپنی فراست سے ہلاک کرنے کے بعد ادا کئے۔
خطاب کہاں تھا قصہ چہار درویش کے اس کلب مقدس کی جد و جہد تھی جو بائیس سال اندھے کنویں میں الٹا لٹکا رہا۔ کوفہ کے رحم دل کوتوال کے الفاظ تھے جو کیلیں ٹھوک کر رعایا کے ٹخنوں میں وطن مالوف کی عظمت بھرتا تھا۔
خطاب کہاں تھا شہرزاد کی داستان نمبر ایک ہزار ایک تھی کہ جس میں ظالم بادشاہ اتنا محو ہوا کہ شہرزاد سے تنترا یوگا کر بیٹھا۔ طلسم ہو شربا کے پائیں باغ میں بیٹھے مقدس سامری جادوگر کی مسلسل بڑبڑاہٹ تھی جس میں وہ پوری دنیا میں میٹھے پانی کے کنویں کھود کر ایک ارب نوکریوں کی گنجائش نکال رہا تھا۔
یہ خطاب نہیں امیر حمزہ کا پاکباز عزم، ٹارزن کی جھینگا لالا ہو، منکو کی پھرتی، آنگلو بانگلو کی سادگی، چلوسک ملوسک کی دیانتداری، تنویر کی شجاعت، صفدر کی مستقل مزاجی، کیپٹن شکیل کی ذہانت، علی عمران کی روحانیت اور جولیا کی حب الوطنی کا ٹنکچر تھا۔ یہ خطاب نہیں فرسٹ ائیر کی جماعت میں تاریخ اسلام و پاکستان کے استاد کا پہلا لیکچر تھا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں