نواز و فوج
گذشتہ دور حکومت میں نواز شریف کی مسلسل کوشش رہی کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کئے جائیں جبکہ فوج مسلسل روایتی سٹریٹجک الائنسز پر زور دیتی رہی۔ دو ہزار پندرہ میں سعودی عرب نے یمن پر حملہ کیا تو ہمیشہ کی طرح پاکستان سے کرائے پر فوجی طلب کئے۔ پاک فوج کے اصرار کے باوجود میاں نواز شریف نے اس کی اجازت دی نہ ہی سعودیہ کو کسی قسم کی واضح یقین دہانی کرائی۔ اس پر سعودیہ، یو اے ای اور فوج سب ہی میاں صاحب پر برہم تھے۔ ایران امریکہ ڈیل کے نتیجے میں پاک ایران تجارت کے ذبردست مواقع پیدا ہوئے۔ نواز شریف کی سفارتکاری کی بدولت ایرانی صدر حسن روحانی پاکستان آئے اور ایک کامیاب دورہ کیا۔ فوج سے یہ ہضم نہ ہوا اور حسن روحانی کی پریس کانفرنس کے دوران عاصم باجوہ نے ٹویٹ کیا کہ جنرل راحیل شریف نے ایرانی صدر سے کلبھوشن یادیو کے معاملے پر احتجاج کیا ہے۔ حسن روحانی سے سوال کیا گیا تو انہوں نے ایسی کسی گفتگو سے انکار کیا تاہم آئی ایس پی آر نے پھر سے اپنا موقف دہرایا جس پر پاک ایران تعلقات میں بدمزگی پیدا ہوئی اور فوج نے ہمیشہ کی طرح سعودی مفادات کی لاج رکھی۔ تاریخ پاکستان و اسلام کے عظیم ترین سپہ سالار جنرل راحیل اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی سعودیوں سے اپنا ریٹ لگوائے بیٹھے تھے اور ریٹائر ہوتے ہی “دہشت گردی کے خلاف سعودی فوجی اتحاد” کی کمان سنبھال لی۔ یہ فوجی اتحاد مڈل ایسٹ میں سعودی ایران کشمکش میں سعودی کرائے کی فوج کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ نواز شریف جب اس سب کے بعد سعودی دورے پر گئے تو سعودی عرب میں انہیں بری طرح نظر انداز کیا گیا اور پاکستانی وزیر اعظم کا روایتی پروٹوکول نہیں دیا گیا۔
جب سعودی یمن جنگ تازہ تھی تو خان صاحب اور فوجی ترجمان پروپیگنڈا مقاصد کے لئے “نواز شریف سعودی ریالوں کی خاطر اس پرائی جنگ میں نہ کودے” کی گردان کرتے تھے۔ فوج نے تو ایران سے تعلقات خراب کر کے اور سعودی اتحاد کی کمان قبول کر کے پچھلے دور حکومت میں ہی واضح کر دیا تھا کہ یمن جنگ میں غیر جانبداری صرف اور صرف نواز شریف کا فیصلہ تھا۔ خان صاحب جو پچھلے ماہ تک “غیر جانبدار پوزیشن” کے چیمپئن بنے پھرتے تھے حالیہ دورہ سعودی عرب میں صاف فرما کر آئے ہیں کہ پاکستان حوثیوں کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی قسم کے حملے کی صورت میں سعودیہ کا ساتھ دے گا۔
اکثر شیعہ دوست پاک فوج اور خان کو پرو ایران اور نواز شریف کو پرو سعودیہ سمجھتے تھے اور ہیں، انہیں نیا پاکستان مبارک ہو۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1383862588424452&id=100004021729343
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں