رعایت اللہ فاروفی

دو رنگی !
::::::::::::

لبرلز کی مذہبی رسومات بخیر و عافیت اختتام کو پہنچیں۔ یوں وہ دس دن بھی پورے ہوگئے جن میں اقبال سے لے کر امام غزالی تک اور امام غزالی سے لے کر خود ذات خداوندی تک سب ہی اعتراضات و سوالات سے محفوظ رہے۔ کبھی غور کیا لبرلز کی جانب سے ہمیشہ انہی شخصیات و نظریات پر ہی کیوں سوالات اٹھتے ہیں جن کا تعلق سنی مکتب فکر سے ہو ؟ اگر معاملہ لاجک کا ہی ہے تو جتنی غیر معقولیت شیعہ مکتب فکر میں پائی جاتی ہے اتنی شائد ہی کہیں اور پائی جاتی ہو۔ یہ آئن سٹائن کا نقوی ہوجانا مگر اس کی کیسٹ کا صرف علامہ نسیم عباس رضوی کے پاس ہونا اور اسے سامنے نہ لانا، نیپال کے جنگل میں ہر سال مردوں کا زندہ ہونا مگر سیٹلائٹ کے دور میں اس کی خبر صرف علامہ ضمیر اختر نقوی کو ہونا اور فرانس کے عظیم شہنشاہ نیپولین کا تو امام حسین رضی اللہ عنہ کے حضور مناجات پیش کرکے دشمنوں کے کشتوں کے پشتے لگانا لیکن ایران کی ملائی حکومت کا امام حسین کے بجائے ایٹمی ہتھیاروں کی جستجو میں رہنا، یہ سب تو کچھ بھی نہیں۔ آپ ذرا ایرانی لٹریچر کا مطالعہ تو کیجئے آپ کو لگ پتہ جائے کہ عقلوں پر پردے اور شعور پر وٹے پڑنا کہتے کسے ہیں۔ وہ تو سپاہ صحابہ نے اپنی نام نہاد 30 سالہ جدوجہد کے نتیجے میں انہیں مظلوم بنا ڈلا ہے اور معاملے کو فقط "گستاخی" تک محدود کرکے رکھدیا ہے ورنہ شیعہ مکتب فکر تو موضوع ہی معقول اور غیر معقول کا ہے۔ جس ماڈرن ورلڈ میں قربانی پر ہی یہ سوال اٹھادیا جاتا ہو کہ یہ تو جانوروں کو بڑے پیمانے پر ایذا پہنچانے کے مترادف ہے اسی ماڈرن ورلڈ میں زنجیری ماتم ہر طرح کے سوال سے محفوظ رہتا ہے، کیوں ؟ کیونکہ سوال اٹھانے والے لبرل بھلا اپنے گھر پر بھی انگلی اٹھا سکتے ہیں ؟

سال کے 355 دن یہ لبرل بن کر سنی اسلام پر حملہ آور رہتے ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ سوالات کی یہ یلغار ماڈرن ورلڈ کر رہا ہے۔ ایران کے مداریوں نے آپ کے بازار میں وہ سکہ پھینکا ہے جس کے ایک رخ پر سید علی خامنہ ای اور دوسرے رخ پر سٹیفن ہاکنگ کی تصویر نقش ہے۔ اس بڑے سکے کی ضمنی ریزگاری دیکھیں گے تو اس کے ایک رخ پر امین شہیدی تو دوسرے پر کسی لبرل زیدی کی تصویر ملے گی۔ کھیل دونوں ہی رخ نفرت کا کھیلتے ہیں۔ ملائی رخ خلفائے راشدین کے دور کو جبکہ لبرل رخ خلفائے راشدین کے بعد کے ادوار کو نشانہ بنانے کے لئے ہے۔ ان کے ملا کا موضوع حضرت عمر اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین ہیں جبکہ ان کے لبرلز کا ہدف اقبال سے لے کر غزالی تک پوری نظریاتی شاہراہ ہے۔ سو میری جان نفرت کے اس کھیل کو سمجھے بغیر آپ جو بھی کریں گے وہ بس ٹامک ٹوئیاں ہی ہوں گی۔ ایک نہایت اہم بات سمجھاتا چلوں کہ میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ معاملہ مذہبی ہے ہی نہیں سر تا سر سیاسی ہے اور اس کے پیچھے ایرانی حکومت ہے۔ اللہ کا شکر ہے پاکستانی شیعوں کی غالب اکثریت ان کے چکر میں ہی نہیں آتی۔ ایرانی خرچے پر دہاڑیاں لگانے والا امین شہیدی ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی اتنے بندے جمع نہیں کر پاتا جتنے کسی چھوٹے سے قصبے کی محرم کی مجلس میں جمع ہوجاتے ہیں۔ لھذا میں یہ ہرگز نہیں کہتا کہ یہ دو رنگی شیعہ مکتب فکر دکھاتا ہے بلکہ میرے نزدیک پاکستان میں دین اور لادین کی یہ دو رنگی صرف اور صرف ایران کی ملائی حکومت کی کارستانی ہے !

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم