فیس بک ڈائجسٹ

وصیّت نامہ ----

غالباً 1977ء کا تذکرہ ہے .....
ہم کچّی پکّی میں تھے جسے اب پریپ کہتے ہیں- ہمارا ایک کلاس فیلو میراثی تھا- وہ دو کا پہاڑہ لہک لہک کر پڑھتا اور ہم کورس میں اسے دہراتے تو ایک عجب سا سماں بند جاتا-
اک دونی دونی ...... دو دونی چار !!!!
اس راگ پہاڑی کو سن کر ماسٹر صاحب بھی اکثر سو ہی جاتے-
سردیوں کی ایک دوپہر  ہم  یونہی پہاڑے گنگنا رہے تھے کہ ایک سائیکل سوار کی آمد ہوئ-
نووارد نے آکر ماسٹر صاحب کو جگایا- کچھ دیر بات چیت کی ، پھر ایک کاغذ پکڑایا اور جدھر سے آیا تھا ، واپس لوٹ گیا-
ہم کن اکھیوں سے یہ سارا ماجرا دیکھ رہے تھے-
ماسٹر صاحب نے فوراً طوطی مراثی کو آواز لگائ- وہ "جی استاد جی " کہتا ہوا کورنش بجا لایا- اس کے بعد ماسٹر صاحب نے پوری کلاس کو ادھر بلا لیا اور گھاس والے پلاٹ پر ہمیں بٹھا کر با آوازِ بلند شیخ احمد کا وصیت نامہ پڑھ کر سنانے لگے-
وصیّت نامہ دراصل مکہ کے ایک شیخ کا تھا جس نے خواب میں  حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت فرمائ اور آپ ﷺ نے اسے وصیت کی کے میری امت میں برائیاں بڑھ گئی ہیں اور ایک ہفتہ میں جتنے مسلمان مرے ہیں سب جہنم میں گئے ہیں- ساتھ یہ بھی لکھا تھا کہ جو شخص اس وصیّت نامے کی دس کاپیاں کروا کے تقسیم کرے گا اسے ضرور کامیابی ملے گی ، اور جو جھٹلائے گا فوری عذاب کا شکار ہوگا- اور یہ کہ فلاں شخص نے چھپوایا تو اس کی لاٹری نکل آئ اور فلاں نے جھوٹ سمجھا تو وہ برباد ہو گیا-
اس کے بعد ماسٹر صاحب نے توبہ استغفار پڑھتے ہوئے کلاس مانیٹر کو اپنی سائیکل دے کر شہر روانہ کیا اور وصیّت نامے کی کاپیاں کروا کر پوری کلاس میں تقسیم فرمائیں- ساتھ ساتھ ہمیں بھی نصیحت فرمائ کہ ہر لڑکا کل گھر سے ایک ایک روپیہ لیکر آئے تاکہ اللہ کے عذاب سے اسکول کو بچایا جا سکے-
برسوں بعد ہم جوان ہوئے تو معلوم ہوا کہ یہ وصیت نامہ جھوٹ کا پلندہ تھا-  120 برس پہلے جنم لینے والے اس وصیت نامے کی تردید میں کئ رسالے چھپ چکے ہیں جن میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کا رسالہ بھی موجود ہے اور مکہ و مدینہ کے علماء کے فتاوے بھی آ چکے ہیں لیکن قوم کو کون سمجھائے بھائ ؟؟
جنگِ آزادی میں دلّی کا محاصرہ کرنے والے جنرل ولسن سے کسی نے پوچھا کہ آپ رجھ پہاڑ پر بیٹھ کر مسلمان اور ھندو مجاھدین میں فرق کیسے کر لیتے تھے-
جنرل نے جواب دیا " مسلمان اپنی بے وقوفی کی وجہ سے دور سے ہی پہچانا جاتا تھا "
گو کڑوی بات ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ دلّی میں جتنی جھوٹی افواہیں ، وعیدیں ، معجزاتی و کرشماتی خبریں جنگ آزادی کے دوران پھیلائ گئیں ان کا کوئ شمار نہ تھا- چنانچہ کئ جیالے لکڑی کی بندوق یا لٹھ اٹھا کر اس آسرے پر انگریزی مورچوں کے سامنے آن کھڑے ہوئے کہ شاید کرامت کام کر جائے لیکن توپ کو کون سمجھائے بھائ ؟؟
فیس بک پر بھی یہی صورتحال ہے- یہاں آپ کچھ بھی لکھ کر لگا دیں‘ بے شمار ایمان والے جھنڈے یا لکڑی کی بندوقیں لئے نعرے مارتے ہوئے نکل آئیں گے-
گل نوخیز اختر لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ ان کے ایک دوست نے شرارتاً گوگل سے کسی لڑکی کی تصویر لگا کر نیچے لکھ دیا کہ جب پاکستان کا ایٹم بم بن رہا تھا تو اس لڑکی نے اپنا جہیز بیچ کر ڈاکٹر قدیر خان کو ڈیڑھ لاکھ عطیہ کیا تھا۔جونہی یہ تصویر اپ لوڈ ہوئی‘ دھڑا دھڑ اِس قسم کے کمنٹس آنے لگے ۔۔۔سبحان اللہ۔۔۔ ماشاء اللہ۔۔۔بہت خوب۔۔۔ یہ لڑکی قوم کا فخر ہے۔۔۔ جیتی رہو تم نے ہمیں عزت سے رہنا سکھایا۔۔۔حکمرانوں کو اس لڑکی کو دیکھ کر شرم کرنی چاہیے۔۔۔لٹیرو! اس لڑکی کو بھی یاد رکھو یہ پاکستان کی شان ہے۔۔۔ہم تمہاری عظمت کو سلام کرتے ہیں۔۔۔وغیرہ وغیرہ!!!
کچھ برس پہلے جب فیس بک پر لکھاریوں کی تعداد کم تھی اچھے آرٹیکلز پڑھنے کو مل جاتے تھے- رعایت اللہ فاروقی ، قاری حنیف ڈار ، فرنود عالم ، ید بیضاء ، فیصل شہزاد ، مولانا سدوخانی ، یوسف خان اور کچھ دیگر حضرات کی تحریروں نے اسے ایک خوبصورت ڈائجسٹ بنایا ہوا تھا- لیکن اب تو گویا بندروں کے ہاتھ میں استرے آ گئے ہیں- ظلم یہ ہے کہ یہاں کسی خبر کی کوئ پڑتال نہیں- شکر دوپہر فوجیوں کا تراویح پڑھنا ہو ، یا اونٹ بکری گائے پر فوٹو شاپڈ اسم مبارکہ بس سر ہیں کہ دھنتے ہی چلے جا رہے ہیں-
یہی حال خبروں کا ہے- الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں خبر  پھر بھی کچھ نہ کچھ حوالہ دیکر نشر کی جاتی ہے لیکن یہاں تو کوئ سر پیر ہی نہیں اور مزے کی بات ہے کہ الیکٹرونکس میڈیا کو دجال کہنے والے سوشل میڈیا کی خبر کو ایسے ہضم کرتے ہیں کہ ہاجمولا والے بھی شرما کر رہ جائیں-
گل نوخیز اختر کے مطابق کچھ عرصہ پہلے انٹرنیٹ پر چین کے کسی قبیلے کا ذکر تھا جو نومولود بچوں کا گوشت کھاتے ہیں‘ آرٹیکل میں ساتھ تصویریں بھی دی ہوئی تھیں۔ کچھ عرصہ پہلے یہی تصویریں دوبارہ فیس بک پر چڑھا کر لکھا گیا ’’برما کے مسلمان بچوں کو بھون کر کھایا جارہا ہے‘‘۔ نیچے کمنٹس میں باضمیر مسلمانوں نے دجالی میڈیا پر رج کر لعنتیں برسائیں تھیں کہ آخر یہ تصویریں اخبارات اور ٹی وی میں کیوں نہیں دکھائی جارہیں ؟؟؟
قصور اُن کا نہیں جو ایسی چیزیں اپ لوڈ کرتے ہیں ‘ قصور  ہمارا ہے جو آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے ہیں۔
غیر ذمہ داری کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی کہ حکایتیں حدیثوں کے نام سے لگائی جارہی ہیں‘ انگریزی کی مثالیں نبیوں پیغمبروں کے ناموں سے آگے پھیلائی جارہی ہیں‘ جھوٹ کی وہ یلغار ہے کہ صحیح اور غلط میں تمیز مشکل ہوگئی ہے- لوگ  بے وزن شعر لکھ کر احمد فراز کے نام سے لگا دیتے ہیں اورسننے والے داد دیتے ہوئے نہیں تھکتے-
کل ہی یہاں کے ایک مقامی ایف ایم چینل پر جب میزبان نے کچھ بے وزن اشعار سنا کر ان کی نسبت احمد فراز سے جوڑی تو مجھے یقین ہو گیا کہ ایف ایم ریڈیو بھی فیس بک کی ایک مستند برانچ بنتا جا رہا ہے-
اس سب کے باوجود میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ سلسلہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا- ابھی فیس بک نئ نئ ہے اس لیے ہر کوئی بدحواس ہے‘ جوں جوں وقت گذرے گا ‘ لوگ ایسی غیر مصدقہ چیزوں کو دیکھنا بھی گوارہ نہیں کریں گے- لیکن بہتری آتے آتے بھی کئ سال لگیں گے آخر شیخ احمد کا جھوٹا وصیّت نامہ بھی تو ایک سو بیس برس نکال گیا-

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری