ڈیڑھ صدی کا قصہ
ایک تاریخی غلطی کا ازالہ.....ظفرجی
ڈیڑھ صدی کی ٹرین ذرا دیر منٹو پارک میں کیا رکی کہ سوالات کا تانتا بندھ گیا- ہم تو سمجھے تھے کہ اس تاریخی دریچے میں سوالات Mohd Shadman صاحب لکھنؤ والے کریں گے ، جوابات ہم دیں گے اور سرسیّد صاحب توثیق فرمائیں گے محض سر کی جنبش سے کہ محمد شادمان ایک طالب علم ہے ، لکھنؤ کا رہائشی ہے اور تاریخ پاکستان اور اس پر اٹھنے والے تاریخی اشکال سے آگاہی چاھتا ہے...سو یہ ان کا حق ہے - ہم نے شادمان بھائ کے سوالات ان باکس میں وصول کئے اور انہی کے تناظر میں سیریل کا 23 مارچ اسپیشل ایپی سوڈ آگے بڑھا رہے ہیں.....!!!!
یہ تاریخ پاکستان سے عدم آشنائ ہے یا روح قائداعظم سے بے وفائ کہ بیشتر سوالات ذات قائد پر ہم وطنوں کی طرف سے آرہے ہیں- پچھلے کچھ عرصہ سے فیس بک پر ایک طبقہ جناب مولانا ابولکلام آزاد صاحب کی سیاسی محبت میں مجنوں بنا ہوا ہے- ہم خود کو مولانا حسین احمد مدنی (رح) مولانا آزاد (رح) مولانا اشرف علی تھانوی صاحب (رح) کی جوتیوں کے برابر بھی نہیں سمجھتے لیکن ہم اول الذکر دو علمائے باصفاء سے ان کی کانگریس حمایت اور دو قومی نظریے کے استہزاء پر سیاسی اختلاف ضرور رکھتے ہیں- اسی طرح کا اختلاف جو مجھے مولانا فضل الرحمن صاحب سے بے نظیر حکومت میں کشمیر کی وزارت اور مشرف کی صدارت کی خاموش حمایت پر ہے-
ایک اماں جی نے فیس بک کا وہ مشہور سوال اٹھایا ہے کہ جناح صاحب نے بطور گورنر جرنل ملکہء برطانیہ کی وفاداری کا حلف اٹھایا تھا....اس پر آپ کیا فرماتے ہیں:
تو جناب یہ محض ہوائ خبریں ہیں اور تاریخ کو مسخ کرنے کی بھونڈی کوشش ہے- جناح صاحب نے جو حلف اٹھایا تھا اس کے الفاظ یہ تھے:
"I do solemnly affirm true faith and allegiance to the Constitution of Pakistan as by law established and I will be faithful to His Majesty (or her Majesty) his heirs and successors in the Office of the Governor-
اب سوال یہ ہے کہ ملکہء برطانیہ کے جن " ورثا" کا وفادار رہنے کا حلف جناح صاحب نے اٹھایا تھا وہ کون تھے....ظاہر ہے پاکستان میں آل انڈیا مسلم لیگ اور بھارت میں کانگریس-
انگریز نے ھندوستان کو کسی جنگ میں شکست کے بعد نہیں چھوڑا تھا بلکہ ایک ترکہ کی طرح تقسیم کیا تھا- یہ ترکہ مسلم لیگ اور کانگریس میں تقسیم ہوا تھا اور یہ دونوں اس ترکہ کے وارث تھے- چناچہ جناح صاحب نے اپنے حلف میں ترکہ کے وارث " مسلم لیگ" کے ساتھ آئین پاکستان کے تحت وفادار رہنے کا حلف اٹھایا تھا نہ کہ ملکہء برطانیہ کے ساتھ وفادار رہنے کا-
وائسرائے ھند ماؤنٹ بیٹن نے تجویز دی تھی کہ انہیں دوسال کےلئے دونوں آزاد ریاستوں کا سربراہ بنا دیا جائے لیکن قائداعظم نے 13 جولائ 1947 اس تجویز کا کن الفاظ میں رد کیا تھا وہ بھی قابل غور ہیں:
" گورنر جنرل چننے کا اختیار وارثین کو ہوتا ہے نہ کہ ترکہ چھوڑ کر جانے والے مالکین کو....مالک ہمیشہ بادشاہوں کو چنا کرتے ہیں اور بادشاہت ھندوستان میں کب کی ختم ہو چکی ہے"
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں