گل خان

گل خان کا کہانی ، گل خان کا زبانی.... ظفرجی

ام دُوبئ انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی رنگا رنگی میں کویا ہوا تھا... کہ ایک دل پسند لڑکی کا آواز نے کان میں رس گھولا-
" پخور جانے والا مسافر کو ائیرپورٹ والا آواز دیتی ہے وہ بیس نمبر ٹرمینل پر پُونچ جائے "
ام نے سامان اٹایا - امارا دوست  انارخان آگے آگے تھا...ام  پیچے پیچے-
ایک لمبا راہداری سے گزر کر ام جہاز تک پُونچا- خُوبصورت ائیر اوسٹس ام کو دیک کر بوت خُش ہوا- اس نے میرا بورڈنگ پاس دیکا... مُجے دیکا... اور بڑے پیار سے سیٹ کا میری طرف رینمائ کردیا -
آرام دہ سیٹ پر بیٹ کر میں انار خان سے بولا  " لاکا اس ایئر ہوسٹس کا خاوند  بوت ظالم اے...دیکو اس نے اس  اخلاق کے پوُل کو جہاز کے چوک پہ رک چوڑا اے...خود کیوں نئیں سونگتا-
انار خان نے میرا غلط فہمی دور کیا کہ یہ  اخلاق کا پُول  پائسا لے کر اخلاق کا خوشبو دیتا ہے-
ام نے سیٹ سے ٹیک لگا دی- جہاز پیلے اِدھر اُدھر باگا دوڑا .... پِر باگتے باگتے اُڑ گیا-
ام نے جہاز کی روشن دان سے بار دیکھنے کا کوشش کیا ... لیکن اُدر دو چار بادل اور ایک سورج کے سوا کُچ نہ تھا-
پھر جانے کب ام سوگیا-
توڑی ہی دیر بعد ام کو کسی نے بڑے پیار سے جگایا-  دیکا تو ایک اور خُوبصورت عورت کانے پینے کا ٹرالی لئے امارے پاس کڑا تا-
اس عورت نے ام سے انگریزی میں کُچ پُوچا...ام نے سر ہلا دیا- اس نے ایک ٹرے ام کو پکڑایا ..جس میں کانا تھا-
کانا بڑا لش پش تھا- ام پورا ٹرے کاتا چلاگیا-
کانا کا کر امارا دل باگ باگ او گیا-
سوتے جاگتے جانے کب سفر تمام ہوا-
آخری بار اسی عورت نے امارا سیفٹی بیلٹ باندھا تو ام کو بوت مزہ آیا - ام بچپن میں اسی طرح  ازاربند باندھا کرتا تھا-
جہاز سے اترتے وقت وہ لش پش عورت ام کو دیک کر پِھر ھنسا....ام کو دل ای دل میں بوت پیار آیا...  یہ عورت  پیسے کےلیے کتنا ھنستا اے....اور ام اسی پیسے کےلیے کتنا روتا ہے-
اخلاق سے امارہ یہ آخری ملاقات تھا-
پشاور ایئرپورٹ پر اترا تو دیکا کہ اخلاق کا جنازہ نکلا ہوا ہے-
رش ، دھکم پیل ، بداخلاقی اور بدنظمی....امارہ دل چاہا کہ ابی دوڑ کر   اس اڑن کٹولے میں واپس جا بیٹوں... جہاں امن سکون اور اخلاق کا خیرات تقسیم ہورہا تھا- لیکن کیا کرتا....امارہ پیسا پورا او گیا تھا ناں-
تین سال بعد ملک میں واپس آیا تھا- اور ویسے بی اس فلائٹ کے اِس سرے پر اگر پخور تھا تو دوسرے سرے پر ظالم کفیل .... یانی آگے کنواں پیچے کائ....سو ام آگے ای آگے بڑتا چلا گیا-
اب ام ایک ٹائٹ قسم کا لائن میں کڑا ڈیکے لے رہا تھا- ایدر وہ کُشتی مچا ہوا تھا کہ اللہ کی پناہ-
ام بوت ایران پرشان تھا کہ لائن میں کڑا ہوا یہ سب لوگ دوبئ ائیرپورٹ پر کیسا انسان کا بچہ بنا ہوا تھا....اب ایدر آکے پتا نہیں کون سا مرچی گُس گیا ان کے اندر...دکّے پہ دکّا...
آدا گنٹہ تک لائن نہ چلی .... ائیر پورٹ پر بجلی ای نئیں تی تو لائن گنٹہ آگے چلتی-  بولے سسٹم بند ہے....اور جنریٹر کراب اے-
سخت گرمی اور حبس میں کڑا میں یہ سوچ رہا تھا کہ ترقی امارا دشمن ہے یا ہم ترقی کا- پچلے سوسال میں ام نے صرف چپلی کباب ایجاد کیا اے- لیکن اپنے بچوں کے پاؤں میں چپل نئیں پیناء سکا-
ڈیڈھ گنٹا لگا امیگریشن سے فارگ ہونے میں ... اس کے بعد اَم نے سامان کا فکر ماسوس کیا-
پتا چلا کہ وہ بیلٹ جس پر سامان گُومتا گُومتا بندے تک پونچتا ہے... کب کا خراب ہے ....سامان کے لیے پِچواڑے والی عمارت میں جانا پڑے گا.... ام باگ باگ کر اودر پونچا...ایک گنٹہ کی کوشش سے سامان ملا...تو ایک بار پِر ایران پرشان رہ گیا-
کسی ظالم کے بچے نے ڈبے کو چیرا لگا کے.... دو پرپیُوم اور بچے کا ایک کلونا نکال لیا تھا...
خیرجو کُچ بچا کُچا سامان  ہاتھ آیا اسی پر صبر شکر کرکے آگے بڑھا...
آگے ایک اور مصیبت امارے سامنے کڑا تھا- قلی لوگ امارہ سامان زبردستی اٹا کے چل پڑا...اور ٹیکسی والا ام کو گسیٹ کر دوسری طرف لےگیا....ہائے خدائے پاکا...!!!
شکر اے انار خان نے امارا مدد کیا امارہ سامان واپس دلایا اور ٹیکسی والا سے جان چُوٹا-
ابی ام سنگین کان کی ویگن میں بیٹ کر کوہاٹ جا رہا تھا کہ بہادر کلے کے پاس ویگن کا ٹیر پنچر او گیا-
پنچر والا بولتا اے کہ دوگنٹہ کے بعد بجلی آئے گا...تو پنچر لگائے گا...ام ایدر بیٹ کر فیس بک پر اپنا شٹوری لِک رہا ہے -
اگلی عید پر اگر نیا پاکستان بن گیا تو ام دوبئ سے پکا پکا کوہاٹ شفٹ ہو جائے گا....اور اپنا چپلی کباب کا دوکان کولے گا .... تم سب لوگ دعا کرو....کہ کپتان دوبارہ گرم او جائے-

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم