لال بیگ

لال بیگ کی کہانی ......ظفرجی

کاکروچ کو لال بیگ کیوں کہتے ہیں....؟؟
کیا اس کا مغل ھسٹری سے کوئ تعلق ہے؟؟
یہ سوال کل مدرس اعلی فیس بک جناب  Qari Hanif Dar صاحب نے پوچھا تھا....ہم جواب لانے کا وعدہ کرکے تاریخ کے سفر پر نکل گئے- واپس آئے تو قاری صاحب سو چکے تھے-
پنجابی کے مشہور شاعر پیر وارث شاہ صاحب نے اپنی تاریخی تالیف "ہیر وارث شاہ " میں ھندوستان کی مختلف اقوام کے "پیر صاحبان" کا اجمالی تذکرہ کیا ہے- یہ تذکرہ 17 ویں صدی کے پیر پرست پنجابی معاشرے کی ایک مفصل رپورٹ بھی ہے اور پنجابی کلچر کا عکاس بھی-
وارث جی کے یہ اشعار اس لئے بھی دلچسپ ہیں کہ ان میں پیر کا لفظ وسیع تر معانی میں استعمال ہوا ہے- وارث شاہ کے اس "پِیر خانے" میں مختلف معاشرتی طبقات کے پیر ہائے طریقت کا ذکر خیر تو ملتا ہی ہے- اس کے ساتھ ساتھ وارث جی نے بعد طبقات کے نفسیاتی  اور سوشل رویے کو بھی ان کا پیر ہی کہا گیا ہے....یہ مشہور عالم شعر بھی اسی نظم کا حصہ ہے....;

ڈنڈا پیر ہے وِگڑیاں تِگڑیاں دا، تے شیطان استاد میراثیاں دا

یعنی بگڑے لوگوں کا پیر صرف ڈنڈا ہے اور گلوکاروں کا استاد شیطان ہے-
اسی طرح ایک اور شعر ہے:

پیسہ پیر ہے کنجراں بیڈیاں دا ،  چھتر پیر رنّاں چوڑ ناسیاں دا

یعنی ناچ گانے والوں کا پیسہ پیر ہوتا ہے اور تند خُو عورتوں کا پِیر جُوتا ہے- ( حقوق نسواں کی تنظیموں سے معزرت )
ایک اور شعر ....

جھگڑا پیر ہے احمقاں ہوچھیاں دا ، عقل پیر ہے اہل قیاسیاں دا
صبر پیر پیغمبراں مقبلاں دا ، تقوی پیر مرداں  اللہ  راسیاں  دا

ترجمہ: احمق اور بدتمیز لوگوں کا پِیر محض جھگڑا ہے...اور دانشوروں کا پِیر ان کی عقلِ محض ہے ،  مقبول پیغمبروں کا پِیر صَبر ہے اور اللہ کے نیک بندوں کا پِیر تقّوی ہے-
اب آتے ہیں اس شعر کی طرف جس میں لال بیگ کا ذکر ہے.......

حسو تیلی اے پیر جو تیلیاں دا        سلیمان ہے جن بھوتاسیاں دا
سخی سرور بھرائیاں سیوکاں دا ، لعل بیگ ہے چوہڑیاں خاصیاں دا

پہلے تین مصرعے تو سمجھ میں آتے ہیں....حسو تیلی کا اصل نام شیخ حسن تھا...آپ چوک جھنڈا لاہور کے ایک بزرگ تھے- کسباً یہ تیلی تھے...اور لاہور کے سب تیلی ان کے مرید تھے...سو وارث شاہ صاحب نے انہیں تیلیوں کا پیر کہا ہے- اسی طرح عام فہم میں یہی سمجھا جاتا ہے کہ جنات اور بھوت پریت حضرت سلیمان (ع) کے تابع ہیں اور ان کی قسم کھاتے ہیں...اسی طرح سخی سرور کسی سیوک قبیلے کے پیر ہیں....لیکن لال بیگ چوہڑوں کا پیر کیسے ہو گیا....؟؟
" چوہڑا " دراصل برصغیر کا وہ طبقہ تھا جو شروع میں چمار کہلاتا تھا- یہ طبقہ لامذہب اور ہمہ خور تھا- ان کے ہاں حلال حرام کی تمیز نہ ہونے کے سبب معاشرہ انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھتا تھا - چناچہ یہ لوگ عموماً بستیوں سے دور اپنی جھونپڑیوں میں رہتے تھے-
مغل دور میں انہیں سوسائٹی کے دھارے میں لانے کی کوشش کی گئ- چنانچہ ان کی ایک بڑی تعداد بھنگی بن کر معاشرے کا گند صاف کرنے لگی-
17 ویں صدی ھندو مسلم ثقافت کے باہمی ادغام کی صدی تھی- اس دور میں ہر طبقے کےلئے ایک پیر پکڑنا لازم تھا- یہاں تک کہ بعد جگہوں پر ھندو مسلم کا ایک ہی پِیر تھا- اسی دور میں چمار برادری بھی ایک پِیر صاحب کے ہاں بیعت ہوگئ...جن کا نام لال بیگ تھا- لال بیگ کا مزار بھاٹی گیٹ لاہور کے باہر ہے-
چونکہ چماروں کی اکثریت بھنگی کے پیشے سے وابستہ تھی چنانچہ بڑی بوڑھیوں نے کاکروچ کو لال بیگ کا دوسرا جنم قرار دے کر اردو لغت میں روشناس کرا دیا-
انگریز مشنریوں نے جہاں برصغیر کے باقی طبقات کو عیسائ مذہب میں داخل کیا وہاں چماروں کو بھی کچھ مراعات دے کر انہیں مذہب کے دائرے میں لایا گیا- علمائے حق بھی اس طبقے کی طرف متوجہ ہوئے اور کچھ چمار برادری نے اسلام بھی قبول کیا- تب انہیں بحیثیت مجموعی " چوہڑا" کہا جانے لگا- چوہڑا سنسکرت زبان کا لفظ ہے،  جس کے معانی ہیں " حلال گوشت کھانے والا " - آج چوہڑوں  میں سے مسلم طبقہ "مسلم شیخ " یا مسلی کہلاتا ہے اور دوسرا عیسائ-
مسلّی عموماً مزدوری وغیرہ کرتے ہیں جبکہ عیسائ طبقہ زیادہ تر بھنگی کا شعبہ ہی اختیار کئے ہوئے ہے- بحیثیّت مجموعی یہ دونوں طبقات آج بھی ہمارے معاشرے میں پستی اور ذلّت کا شکار ہیں- عیسائی طبقے کو راہبوں نے شروع ہی سے سنڈے سروس کے ذریعے مذہب سے باندھے رکھا- ان کی ایک معمولی اقلیّت تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ ہوچکی ہے- یہ لوگ اب کافی باشعور ہو چکے ہیں....اور اپنے حقوق سے آگاہی رکھتے ہیں- عیسائیوں کو پچھلے کچھ عرصہ سے عالمی ادارے بھی کسی حد تک سہارا دینے لگے ہیں- اور اب ان کا پِیر لال بیگ نہیں....یورپ ہے- جو کسی عیسائ کو کانٹا چبھنے پر بھی واویلا مچا دیتا ہے-
باقی رہ گیا مُسّلی یعنی مسلم شیخ.....نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ....کے مصداق نہ تو ہم نے انہیں دین کی خوشبو سونگھنے دی اور نہ ہی کوئ معاشرتی مقام دلا سکے- ہم کسی مسلم شیخ کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلانے کے روئیدادنہیں ، باقی حقوق کیا دیں گے-
امیر شریعت حضرت عطاءاللہ شاہ بخاری (رح)  جالندھر کے ایک جلسے کے بعد کھانا تناول کرنے لگے تو ایک غریب شخص پر نگاہ پڑی- آپ نے اسے اپنے ساتھ کھانا کھانے کی دعوت دی تو وہ بولا " حضرت ....میں بھنگی ہوں"
آپ نے اس کے ہاتھ دھلوائے اور ہاتھ پکڑ کر اپنے دسترخوان پر لے آئے- راوی لکھتے ہیں کہ امیرِ شریعت اپنے ہاتھوں سے لقمے اس کے منہ میں ڈال رہے تھے اور اس کے ہاتھ سے لقمہ اپنے منہ میں لے رہے تھے- بھنگی روتا ہوا گھر گیا اور اپنے بیوی بچوں سمیت اسلام میں داخل ہو گیا-
ہے کوئ آج ہم میں سے جو ایسی ہمت کر سکے-
ایک بار میں چند عیسائیوں کے ساتھ منامہ بحرین گھوم رہا تھا- دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا- میں ان کے ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھ کر چند روٹیاں توڑ بیٹھا....اس کے بعد ایک ماہ تک میرے مولوی دوست میری بوٹیاں نوچتے رہے-
آخر میں لال مسلّی کا تزکرہ....برسبیل تذکرہ....جرنل ضیاء الحق صاحب کے ریفرنڈم کا تذکرہ ہے- میں بھی اپنے ماموں کے ساتھ تماشا دیکھنے قریبی گاؤں گیا ہوا تھا- ہم نے سکول کے گیٹ پر لال مسلّی کو آتے دیکھا- ماموں نے پوچھا...." لال او.....اوئے ووٹ کِس نوں گھتیا ای......"
لال دین انگوٹھے کی سیاہی صاف کرتے ہوئے بولا " اسلام نوں گھتیا اے.....ہور سکھاّں نوں ٹھوکنا آہ "
اس کا ترجمہ بگردن ماہر مسلّیات جناب   Ikram Azam ......!!!!!

Ali Rehan
Mohd Shadman

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم