قدر مشترک
قدرِ مشترک ------ ظفرجی
میں نے قارون کو بتایا کہ میری ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﮮ ﭨﯽ ﺍﯾﻢ ﮐﺎﺭﮈ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﺰﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻥ ﭼﺎﺑﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ ..... ﺟﻨﮩﯿﮟ اٹھانے کےلئے اس نے اونٹوں کے ریوڑ پال رکھے تھے ....
میں نے قیصر ﮐﻮ ﺑﺘﺎیا کہ اس کے کسریٰ سے کئ درجے اچھی میری وہ کوٹھی ہے جو میں نے ملک ریاض سے صرف ڈیڑھ کروڑ میں خریدی ہے ....
میں نے یہ کہ کر ہرقل کی ہوا نکالی کہ شتر مرغ کے پروں سے بنے جس جھاڑ کی ہوا اسے شاداں و فرحاں رکھتی ہے .... اس سے ہزار گنا بہتر میرے ایل جی اسپلٹ اے سی کی ہوا ہے !!!!
میں اپنی وہائٹ کرولا لئے ﮨﻼﮐﻮ ﺧﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ سے ﻓﺮﺍﭨﮯ ﺑﮭﺮتا گزر گیا .... اور وہ اپنی کالی گھوڑی کو چابک مارتا رہ گیا !!!!
ﮨﺮﻗﻞ ﺧﺎﺹ ﻣﭩﯽ ﺳﮯ ﺑﻨﯽ ﺻﺮﺍﺣﯽ ﺳﮯ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﭘﺎﻧﯽ پینے لگا تو میں فریج سے نیسلے منرل واٹر نکال کر اس کے سامنے بیٹھ گیا .... !!!!
فرعون ﮐﮯ ﻏﻼﻡ لکڑیاں جلا جلا کر ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮔﺮﻡ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺮتے رہے .... اور میں گیزر سے نہا کر واپس بھی آ گیا .....
مجھے احساس ہوا کہ میں ، اپنے اپنے وقت کے ان خود ساختہ خداؤں سے کئ درجے پرتعیش زندگی گزار رہا ہوں .... البتہ ایک قدرِ مشترک ہم میں ازل سے قائم ہے ....
وہ بھی اپنے رب کے نافرمان تھے ... اور میں بھی اپنے رب کا بندہ نہ بن سکا !!!!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں