پیروڈی عشق کے چالیس اصول

آج کی تحریر کا سرعنوان ھے ‛
دلنشین دل آویز ناشائستہ عبارت ‛
مصنف کا نام خود جاوید اقبال ھے جو خود کو خودساختہ دانشور کہلوانا پسند کرتا ھے کبھی کبھی  ترنگ میں گھریلوں دانشور کہلوانا پسند کرتا ھے ۔مصنف مورگاہ کا رہائشی اور آئیسکو میں  پیٹ کی خاطر بچپن کی غلط حرکات کے سبب درجہ چہارم کا ملازم ھے ۔
مصنف کی بیوی مصنف کو بادام اور سونف کا جادوئی سفوف کھلا کھلا  کر میٹرک کا رزلٹ حاصل کرنا چاھتی ھے لیکن مصنف سدا کا غیر نصابی حرکات میں پختہ کار ھوچکا لہذا باوجود عقل شعور کے فیس بک و وھاٹس اپ پہ ٹائم ضائع کرتا رھتا ھے ۔
چلتے ھے آج کی فرمائش کی طرف کہ مصنف کے ھم دماغ اقبال بھٹی نے  ‛‛ عشق کے چالیس اصول ‛‛‛اس خود ساختہ دانشور کو پڑھنے کو دان کی لیکن مصنف شیطانی اعمال میں عمروعیار کے شاگرد چالاک کی مانند  منفی باتیں پہلے سوچتا ھے ۔لہذا ایک ایسی کتاب جو اسلامی دنیا کے عظیم دانشور مولانا روم و شمس تبریز کی تعلیمات پہ مشتمل ھے اس کتاب کی پیروڈی لکھ بیٹھا ۔
لہذا چلتے ھے
‛‛‛پاکستانی عشق و رومان کے اصول کی طرف ‛‛


رومانس تو امریکن اور یورپین انجوائے کرتے ہیں۔امریکہ میں اگر شوہر کی برتھ ڈے ہے۔تو بیوی خوبصورت اور مہنگی قسم کی نائٹی یا سرخ زیرجامہ خریدتی ہے۔کہ رومانس کے لمحات میں وہ اسے پہن کر شوہر کو خوش کرسکے۔فرانس میں بھی اگر شوہر رومانس کے موڈ میں ہو۔تو بیگم فورًا شاور لے لیتی ہے اور مہنگے سے مہنگے پرفیوم سے اپنے آپ کو مہکا کے شوہر کے پاس آتی ہے۔

ہمارے ہاں ایک تو بیگم میں سے پورا ہفتہ لہسن پیاز کی بُو آ رہی ہوتی ہے۔اور اگر کبھی اُس کا پروگرام بنے،کہ وہ جمعہ کو نہائے گی۔تو جمعرات کے دن سر میں ڈھیر سارا کھوپرے کا تیل ڈال کر آپ کو آفر دے دیتی ہے ۔کہ سُنیئے کچھ کرنا ہے،تو کرلیں کیوں کہ کل پھر مُجھے نہانا ہے۔
واہ ری قسمت،،،
شوہر بیچارے نے کرنا ورنا کیا ہوتا ہے۔بیوی کو ایسے حُلیے میں دیکھ کر خود پہ اور رومانس،دونوں پہ ہی دل ہی دل میں لعنت بھیج دیتا ہے۔

شادی کے آٹھ دس سال بعد بیگم ویسے ہی بچوں کی ماں کے ساتھ ساتھ آپ کی بھی ماں بن گئی ہوتی ہے۔اور ساتھ ہی ساتھ رومانس کو بھی بُھولی بسری یاد بناچُکی ہوتی ہے۔پھر بھی کبھی اگر دل چاہے اور اگر آپ بُھولے سے کہہ دیں۔کہ بیگم آج تو بڑی اچھی لگ رہی ہو۔تو وہ آگے سے جھٹ سے بول دیتی ہے۔
دیکھیں،،،
پہلے سے بتا رہی،کہ میرا آج نہانے کا کوئی مُوڈ نہیں ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری