کرسی
کرسی پاکستان کی ----- ترتیب ظفرجی
اے کرسی پاکستان دی اے
اے کدی نہ جاء امان دی اے
ایک سال میں 365 اور پانچ سال میں 1825 دن ہوتے ہیں۔
پاکستان غالباً دنیا کا واحد نیم جمہوری ملک ہے جہاں آج تک کوئی حکومت 1825 دن پورے نہ کر سکی-
ہر حکومت عزت سے آئی ضرور لیکن عزت سے گئی نہیں۔ جو زندہ رہے وہ یا تو لات کھا کے نکلے یا لات مار کے۔ سب خوشی خوشی آئے پر کوئی خوشی خوشی نہیں گیا۔ ہاں موت نے کچھ لوگوں کی عزّت ضرور رکھ لی !!!
قائداعظم کی وفات کے بعد خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل بنے ، انہوں نے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کی لاش کو کندھا دیا اور سپردِ خاک کرتے ہی گورنر جنرل ہاؤس کی چابیاں ملک غلام محمد کو تھمائیں اور وزیراعظم بن گئے۔
ملک غلام محمد نے 548 دن میں ہی خواجہ ناظم الدین کو لات مار کر ایوانِ وزیرِ اعظم سے چلتا کیا اور امریکہ سے پاکستانی سفیر محمد علی بوگرہ کو امپورٹ کرکے وزیرِ اعظم کی گدی پر بٹھا دیا۔
ناظم الدین کی آہ غلام محمد پر فالج کی شکل میں گری اور اسے بیماری کی چھٹی لینے کے لیے اسکندر مرزا کو قائم مقام گورنر جنرل بنانا پڑا۔ اسکندر مرزا نے ایک دن میں ڈنڈا ڈولی کرکے مفلوج غلام محمد کو ان کی نجی رہائش گاہ پر پھینکا اور خود کو قائم مقام سے مستقل گورنر جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی۔
پھر اسکندر مرزا نے اپنے تھیلے سے جھرلو نکالا ۔ اکڑ بکڑ بمبے بوء پڑھا اور مسلم لیگ کو ریپبلیکن پارٹی بنا دیا۔ اس منتر سے چوہدری محمد علی کا بطور وزیرِ اعظم جنم ہوا۔ لیکن چوہدری صاحب مداری کے ہاتھ سے نکل گئے اور 56ء کا آئین بنا ڈالا۔ اسکندر مداری نے گورنر جنرل سے صدر کا روپ دھارا اور صدارتی منتر پڑھ کر چوہدری محمد علی کو غائب کیا اور اقتدار کا چراغ حسین شہید سہروردی کے حوالے کر دیا۔
حسین شہید سہروردی نے صدر سے اسمبلی کا اجلاس بلانے کی درخواست کی تاکہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرسکیں۔ اسکندر مرزا جانتے تھے کہ اعتماد کا ووٹ لیکر وزیراعظم کے پر نکل آئیں گے اور وہ بے اعتماد ہو جائیں گے- انہوں نے اسمبلی کا اجلاس بلانے سے انکار کردیا اور سہروردی 400 دن کی وزارتِ عظمیٰ چھوڑ کر ڈھاکہ روانہ ہوگیا-
اس کے بعد صدر اسکندر مرزا نے آئی آئی چندریگر کو 60 دن کے لیے وزیرِ اعظم کی ملازمت پر رکھا۔ پھر فیروز خاں نون کو 295 دن برداشت کیا۔ جب آئین کے تحت الیکشن کا مطالبہ زور پکڑ گیا تو 7 اکتوبر 1958ء کو ایوب خان کے ہاتھوں مارشل لاء لگوا دیا گیا۔
ایوب خان نے سوچا کہ جب سب کچھ مجھے ہی کرنا ہے تو اسکندر کا یہاں کیا کام- چنانچہ 27 اکتوبر کی نصف شب ، جنرل ایوب ، ہمراہ اپنے ہمراہیوں کے ایوانِ صدر پہنچا۔ پستول اسکندر مرزا کی کنپٹی پر رکھا ، اور کہا "لکھ استعفی !!!! "
اسکندر مرزا کو اگلی فلائٹ سے لندن روانہ کردیا گیا۔ جہاں وہ گیارہ برس تک ایک ھوٹل چلاتے چلاتے فوت ہو گیا۔ ایوب خان نے لاش تک پاکستان لانے کی اجازت نہ دی۔ چنانچہ شاہ ایران نے اس کی لاش پر رحم کھا کے اسے تہران میں دفن ہونے کی اجازت دے دی۔بعد میں خمینی کے انقلابیوں نے اسکندر مرزا کی قبر کھود کر ھڈیاں تک نکال پھینکیں-
25 مارچ 1969ء کو یحییٰ خان نے ایوب خان سے اسی طرح کھڑے کھڑے اقتدار چھینا جیسے ایوب نے اسکندر مرزا سے لیا تھا- پھر یحی خان کے ساتھ بھٹو نے 20 دسمبر کو وہی کیا جو اس نے ایوب خان کے ساتھ کیا تھا-
ذوالفقار علی بھٹو کی وزارتِ عظمیٰ 14 اگست 1973ء کو مسلح افواج کی پریڈ سلامی سے شروع ہوئی اور 1421 دن بعد مسلح افواج کے ہاتھوں نظربندی پر ختم ہو کر تختہِ دار پر جھول گئی۔ وزیرِ اعظم کے عہدے کو اگلے آٹھ برس کے لیے فوجی صندوق میں رکھ دیا گیا۔
جنرل ضیاء الحق نے محمد خان جونیجو کو مسلم لیگی اِنکیوبیٹر سے نکال کر 24 مارچ 1985ء کو وزیراعظم بنایا- جب اس بچے نے پر نکالنے شروع کیے تو 1162 دن بعد اسے وزارتِ عظمیٰ سے عاق کردیا گیا۔ ٹھیک 81 روز بعد ضیاء الحق کو بھی زندگی نے نیلگوں آسماں پر لے جا کر عاق کر دیا-
پھر غلام اسحاق خان نے دو منتخب وزرائے اعظم کو حلف دلوایا۔ بینظیر بھٹو کو 612 دن اور نواز شریف کو دو قسطوں میں 968 دن برداشت کیا۔
غلام اسحاق کے بعد قائم مقام صدر وسیم سجاد اور قائم مقام وزیرِ اعظم معین قریشی کے تحت منتخب وزیرِ اعظم کی پوسٹ کے لیے انتخابی اشتہار دیا گیا اور ایک بار پھر بینظیر بھٹو اس آسامی کے لیے کامیاب قرار پائیں۔ فاروق لغاری صدر بن گئے۔ مگر دوسری اننگز میں بینظیر بھٹو 1113 رنز بنا کر فاروق لغاری کی غیر متوقع گیند پر آؤٹ ہوگئیں۔
ملک معراج خالد کو نیوٹرل ایمپائر کے طور پر لایا گیا اور فاروق لغاری نے نواز شریف کو کھیلنے کی دعوت دی۔ لیکن نواز شریف نے پہلے چوکے میں ہی لغاری کا سر پھوڑ دیا۔ اس کے بعد بھولے بھالے نواز شریف نے گراؤنڈ کو محفوظ بنانے کے لیے اپنے ایک وفادار رفیق تارڑ کو دو تہائی اکثریت کی باڑھ کا چوکیدار مقرر کردیا۔ لیکن قبضہ گروپ 967 دن بعد ہی میاں صاحب کو باڑھ سمیت اٹھا کے لے گیا۔
مشرف کی صورت پاکستان کو پہلا ایسا حکمران چیف آف آرمی سٹاف ملا جو خود کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے بجائے چیف ایگزیکٹو کہتا رہا۔ پھر اسی چیف ایگزیکٹو کی ٹوپی پر صدر کی کیپ بھی فٹ ہو گئی۔ اور قوم کو ریفرینڈم کی ٹوپی پہنا کر ایجنسیوں کی مڈ وائفری میں دو ہزار دو کی اسمبلی کا جنم ہوا۔
اس اسمبلی نے وزیرِ اعظم ظفر اللہ جمالی کو جنم دیا۔ لیکن جمالی صاحب بھی پانچ سو انہتر دن ہی برداشت ہوسکے۔ پھر چوہدری شجاعت حسین کو اکیاون دن کے لیے وزارتِ عظمیٰ کے انڈوں پر بٹھا دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں شوکت عزیز کا جنم ہوا جنہیں پیار سے وزیرِ اعظم کہہ کر پکارا جاتا رہا۔
مگر اس بچے کو لاڈ پیار راس نہ آیا اور اس نے سپریم کورٹ کے سر پر ٹھونگیں مارنے شروع کردیں۔ جب سپریم کورٹ نے آنکھیں دکھائیں تو بچے کے والدین میدان میں آگئے اور وہ دنگل شروع ہوا کہ خدا کی پناہ۔اس بیچ شوکت عزیز 1130 دن گذار کر وزیرِ اعظم ہاؤس سے ایسے نکلے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ان کے سرپرست پرویز مشرف کو الیکشن کے نتائج نے بھگا دیا۔
خالی جگہ آصف زرداری نے لے لی اور پاکستان کی صدارت ایک بار پھر آرام کرسی سے رولر کوسٹر میں تبدیل ہوگئی۔ پھر بھی امکان یہی تھا کہ اس دفعہ وزیرِ اعظم ٹُک ٹُک کرکے ہی سہی لیکن مدتِ اقتدار کی پہلی مکمل سنچری ضرور بنا تے ہوئے اٹھارہ سو پچیس دن کے جادوئی ہندسے کو چھو لے گا۔ مگر وکٹ ننانوے رنز پر ہی اڑ گئی۔
اس کے بعد کا زمانہ دورِ شریف برادران کہلاتا ہے .... جو سونامی کی لہروں سے اٹکھیلیاں کرتا ، دھرنے کے غرقاب سے نکلتا اور پانامہ لیکس کے مدوجزر سے بچتا بچاتا 1125 دن پورے کر چکا ہے- فی الحال دل کے خراب موسم کی وجہ سے کھیل رکا ہوا ہے ... حاضر ہوتے ہیں ایک چھوٹے سے بریک کے بعد !!!!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں