چوپال
چوپال کمیٹی کا روزنامچہ (2)....ظفرجی
رات 9 بجے جب پورا گاؤں سویا ہوا تھا فضاء بندوقوں کی تڑ تڑ سے گونج اٹھی-
کانسٹیبل اللہ دتہ نے بتایا کہ معمول کی کاروائ ہے اور جمیعت کے ڈیرے سے جناب Atta Ur Rehman صاحب اپنی بندوق ٹسٹ کر رہے ہیں- ہم چھتری تانے ڈیرے پر گئے اور عطاء بھائ کی شدید منت سماجت کی اور ان کے سامنے لیٹ گئے (سیدھا) اور کمیٹی کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا- چونکہ وہ چوپال کمیٹی کے قیّام سے بے خبر تھے....سو انہوں نے فوری سیز فائر کیا...اسٹیٹس ڈیلیٹ کرکے آئیدہ کےلئے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی فرمائ-
واپس چوپال پہنچ کر ابھی حقّہ ہی تازہ کیا تھا کہ عطاء صاحب بندوق اٹھائے سیدھا چوپال پر آن دھمکے اور شکایت کی کہ آپ نے ہماری فائرنگ تو بند کرادی Hamdard Husaini کے کیمپ سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے- ہم نے فوری ریڈ کیا تو پتا چلا کہ ھمدرد صاحب ایک دفاعی پوسٹر لگا کر اسٹیٹس سے غائب ہیں اور ان کا ایک مرد مجاھد اسٹیٹس میں گھس کر وقفے وقفے سے جمیعت پر فائرنگ کررہا ہے- ہم نے اس کی منّت سماجت کر کے فائرنگ بند کروائ اور ھمدرد کےلئے ایک تنبیہی پیغام چھوڑ کر واپس آگئے-
رات بخوبی کٹ گئ- دن کے وقت جب چوپال میں کوئ نہ تھا pti کے Rashid Hamza صاحب نے تعصب کے درخت پر چڑھ کر عطاء بھائ کے ڈیرے پر فائرنگ شروع کردی- ھمدرد بحثیّت سینئر رکن کمیٹی فوراً موقع پر پہنچے اور راشد کو سمجھانے کی بجائے اس کے ساتھ کمر سے کمر ملا کر فائرنگ میں ہاتھ بٹانے لگے-
عطاء بھائ نے پہلے تو کمیٹی ممبران کو تلاش کیا- چوپال خالی تھا- ڈیرے پر جاکر ساڑھے چار ایم ایم کی توپ سیدھی کی جو رات سے زنگ کھا رہی تھی.....پھر بارودی اسٹیٹس چڑھایا......کمنٹس میں گالیوں کے اتنے گولے فائر ہوئے کہ گاؤں کی بھولی بھالی مٹیاروں نے گھر کی رضائیوں میں سر دے دیے-
ایک طرف اسلام اور دوسری طرف نیا پاکستان.....اور بیچ میں پھنسی ہوئ فیس بک کی مجبور عوام....
کمیٹی اس وقت گاؤں کے پچھواڑے میں گندم کے ایک کھیت میں آرام کر رہی ہے-
کمیٹی کے اہم رکن Aamir Hazarvi صاحب غائب ہیں....اور شہادت کی متزاد اطلاعات ہیں...
حوالدار Syed Mohammad Sami کو فون کیا تو آگے سے ٹو اسٹروک رکشے کی آواز آئ- پتا نہیں کسب روزگار پر ہیں یا خراٹے لے رہے ہیں-
Shakeel
شکیل رانا صاحب دو مزدور ساتھ لیکر چوپال کا پیج بنانے چلے گئے- اور گروپ کا ایک
خفیہ تہہ خانہ جہاں بیٹھ کر مستقبل میں سیمنٹ کے بلاک بنائے جائیں گے-
کیا جمیعت میں ایک بھی ایسا شخص نہیں ہے جو گالیاں دیتے اور گالیوں کو لائک کرتے اپنے کارکنوں کو سمجھائے کہ اسلام گالیوں سے نہیں محبت سے پھیلا ہے؟
کیا PTI میں ایک بھی سنجیدہ کارکن نہیں جو ھمدرد اور راشد حمزہ کو سمجھائے قائداعظم نے جمیعت علمائے ھند سے ملکر پاکستان بنایا تھا...نہ کہ ان سے سینگ اڑا کے -
احباب کمیٹی اور قارئین سے گزارش ہے کہ ہمارا ہاتھ بٹائیں....ان بکس میں ان شخصیات کی منت کریں...ترلے کریں....اور ان کے سامنے لیٹ جائیں (سیدھا) تاکہ فیس بک پر ایک پرامن اور سلجھا ہوا معاشرہ تشکیل دیا جاسکے-
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں