جوگی فلمیات

عقلِ کُل ہونے کے خبط میں مبتلا ہونے اور اپنے آپ کو پاٹے و پھنے خاں سمجھنے کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک کمزور مخلوق ہے۔ ستم بر ستم ظریفی یہ ہے کہ اپنی کمزوریوں کو ہی اپنی طاقت سمجھنے والا یہ حضرت انسان گانٹھ در گانٹھ کمزوریوں میں جکڑا ہوا ہے۔

اس کی سب سے بڑی کمزوری اپنے دماغ کے توسط سے اپنے آپ کو مرکزِ کائنات سمجھنا ہے۔ پس جہان میں تقریباً سات ارب انسان ہونے کے ناطے سات ارب مراکزِ کائنات بھی ہیں۔ اور ہر ایک کے خیال میں صرف وہی اصلی مرکز ہے باقی سب پرتو ہیں۔

یہ فریبِ نظر انسان کے تمام مسائل و رذائل و فسادات کی بنیاد ہے۔

یہی وہ فریبِ نظر ہے (لوپ ہول کہہ لیں) جس سے انسان دشمن طاقتیں اپنے وساوس کے وائرس سے اس پر حملہ آور ہوتی ہیں۔ یہی وہ فریبِ نظر ہے جس کے دم پر ہردور کا انسان اپنے ذوقِ بندگی کی تسکین کے بہانے ایک نظر آنے والا خدا ڈھونڈتا چلا آرہا ہے۔

نہ نظر آنے والا خدا بھلے ہی جتنا بھی سچا اور جتنا بھی مالکِ طاقات ہو، انسان نظر آنے والے جھوٹے اور بے طاقت خداؤں کو ترجیح دینے میں زیادہ آسودگی محسوس کرتا رہا ہے۔ اسی الیوژن کی دوسری انتہا الحاد کی طرف جاتی ہے۔ وجہ سب کی ایک ہے کہ انسان کو اپنے ذوقِ بندگی کیلئے کوئی ایسا خدا چاہیے جو نہ صرف نظر آئے بلکہ اس کی سمجھ میں بھی آئے۔

جس انسان کا رویہ اپنے خالق کے ساتھ یہ رہا ہو ، سوچین وہ اپنی ہم دنیا مخلوقات اور قدروں کے کوئی مختلف رویہ کیسے اپنا سکتا ہے۔ اپنی اس کمزوری کے عین مطابق انسان تمام قدروں میں سے بھی انہی کا زیادہ قائل و عامل ہوتا ہے جو اسے نطر آئیں ، جو اسے سمجھ آئیں۔ جو نطر نہ آئے ، وہ قدر نہیں اور جو سمجھ نہ آئے وہ قدر نہیں۔

اس کمزوری کے شر سے بچاؤ کیلئے ہمیشہ سے انسان کیلئے سب سے پہلی اور سب زیادہ تاکید یہ آتی رہی کہ "علم حاصل کرو۔" ، "علم حاصل کرنا تم پر فرض کر دیا گیا ہے" ، "حکمت مومن کا گمشدہ مال ہے ، پس اسے چاہیے کہ جہاں سے ملے سمیٹ لے" اتنی واضح تاکیدات کے باجوجود انسان اپنی کمزوری کے ہاتھوں مجبور ہے کہ وہ تب تک علم کو علم نہیں سمجھے گا جب تک علم اسے نظر نہ آئے اور سمجھ نہ آئے گا۔ وہ کسی حکمت کو حکمت سمجھنے اور اسے سمیٹنے کو تیار نہیں ہوگا ، جب تک وہ حکمت اسے دکھائی نہ دے گی ، سمجھ نہ آئے گی۔

جب سے دنیا میں انسان آباد ہوا ہے ، تب سے علم و حکمت کی منتقلی جاری ہے۔ ہر جانے والا اپنا علم اور حاصل شدہ حکمت پسماندگان کیلئے چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔  زبانی کلامی ، اور سینہ بہ سینہ علوم سے کتابوں تک بات آئی ، اور نئے سے نئے افق کو چھونے کا سفر جاری ہے۔  روزِ اول سے اب تک جس قدر علم و حکمت  کے خزانے ہمارے رفتگان چھوڑ کر جا چکے ہیں ، اس حساب سے تو ہم پسماندگان میں سے ہر ایک کو علمی و حکمی طور پر اپنی اپنی ذات میں قارون ہونا چاہیے تھا۔  لیکن بدقسمتی سے حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہماری اکثریت اب بھی چغد  ہے ، علمی و حکمی طور پر مفلس ترین ہے۔ 

اس کی وجہ وہی کمزوری ہے کہ ہم میں سے جتنے علم و حکمت  کو آنکھوں اور دیگر حواس سے محسوس نہیں کرسکے، انہوں نے اس کی کوئی قدر نہیں کی ، اسے سنبھالنے کی کوئی شعوری کوشش ہی نہیں کی۔  ہم نے کتابوں کو علمی بینک سمجھ کر طاقِ نسیاں میں رکھ دیا ۔
یقیناً اس کے برعکس بھی ہو سکتا تھا۔ اگر ہمیں علم نظر آتا ، اگر حکمت ہمارے سامنے مجسم ہوتی

دوسری وجہ  اہلِ علم کا غرور اور اپنی برگزیدگی کا خبط ہے۔ جس نے جتنا علم پایا ، اس نے کہا جیسے میں مرکزِ کائنات ہوں اسی طرح میرے پاس جو علم ہے وہی علم و حکمت کا مرکزہ (نیوکلیئس) ہے ، باقی سب چھلکا  ہے ،  ہلکا ہے اور ہالک ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اہلِ علم کی حسد و رقابت بڑھی ، ہم تمہارے والا علم حاصل نہیں کریں ، تمہیں اپنے والا حاصل نہیں ہونے دیں گے۔ صرف یہی نہیں ، بلکہ ابلیس کی طرح یہ قسم بھی کھا لی گئی ، جب تک زندہ رہیں گے ، اپنے علم کو برگزیدہ اور تمہارے علم کو حرام منوانے پر توانائیاں صرف کرتے رہیں گے۔

مرنے والے مر گئے ، مگر علم و حکمت کی منجی ٹھوک گئے۔ افراط و تفریط  کے علاوہ افتراک و تفریق کی بدبو بھی پھیلا گئے۔ پُرمبالغہ پس ماندہ انسانوں نے علم و حکمت کو بھی مسلمان و کافر میں تقسیم کردیا۔ کچھ علم مشرف بہ اسلام ہوگئے ، کچھ کو مسلمان کرنا مناسب نہ سمجھا گیا جس کی وجہ سے وہ بے چارے کافر رہ گئے ، اور کافر ہی چلے آتے ہیں۔ ان علوم و حکمتوں کے انڈے بچے بھی انہی کی طرح کافر رہ گئے۔

بعض کفار کو بوقتِ ضرورت مسلمان کرلیا جاتا رہا۔ بعض کفار کو تو بدستور کافر رہنے دیا گیا ، لیکن ان کے بعض بچو ں ، پوتوں یا پڑپوتوں میں سے کسی کسی کو مسلمان کرکے ایمان کا سرٹیفیکیٹ جاری کردیا گیا۔ جیسے کہ سائنس و ٹیکنالوجی تو کافر رہ گئیں ، لیکن ان کی اولادوں میں سے سپیکر مسلمان ہوگیا، بعد کے وقتوں میں کیمرہ بھی مسلمان قرار پایا ، لیکن تصویر کافر ہی رہی۔ کسی قدر رد و قد کے بعد بالاخر ٹی وی بھی مسلمان کر لیا گیا۔ لیکن بے چاری فلم اب تک کافر کی کافر ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فلمیاتِ جوگی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم