پیاسا کوا

پیاسا کوّا اور جدید تحقیقات....ظفرجی

میرے پیارے بزرگوں اور ان کے شرارتی بچّو !!!
سوچ رہا ہوں کہ اس تاریخی حکایت کا آغاز کہاں سے کروں اور کیسے کروں ، بہرحال درمیان سے آغاز کرتے ہیں سو افواہ ہے کہ کسی زمانے میں....ایک کوا تھا.....جو بہت پیاسا تھا-
راوی لکھتا ہے کہ کوّائے مذکورہ گھوڑے پہ بیٹھ کر ادھر ادھر اڑا لیکن اسے کہیں پانی نہ ملا (حکومت کی نالائقی کی وجہ سے)
آخر کار اسے ایک باغ نظر آیا ...یہ امرود کا باغ تھا لیکن اتفاق  سے اس میں آم اگ آئے تھے.....اتفاق انڈسٹریز کا اس دور میں طوطا بولتا تھا....اور طوطی شرماتی تھی-
مذید " اتفاق" دیکھیے کہ حکومت نے اس باغ میں ایک گھڑا بھی رکھوا رکھا تھا- کرپشن عروج پر تھی سو ماشکی پیسے پورے لیکر چلّو بھر پانی گھڑے میں ڈالتا اور باقی وزرا کے گھروں میں-
کوّے نے گھڑا دیکھا تو اس زور کی بریک لگائ کہ اس کے ٹائر تک چرچرا اٹھے-
"کوئ ہے جو ہمیں پانی پلائے" کوّے نے اپنے آپ سے کہا- پھر خود ہی جواب دیا " نہیں ، خود ہی پی لو"
اس کے بعد کوئ دو اڑھائ گھنٹے کوّا اور گھڑا آپس میں دست و گریباں رہے لیکن کوّے کی چونچ پانی تک نہ پہنچ سکی - اس زمانے میں نجی ٹی .وی چینلز نہیں کھلے تھے-چنانچہ کوؤں کی چونچیں بہت چھوٹی ہوا کرتی تھیں-
آخر کوے کے دماغ میں ایک ترکیب آئ- اس زمانے میں کوؤں کا دماغ بھی ہوا کرتا تھا اور ذاتی مفاد کےلئے اس میں کچھ تراکیب بھی رکھی جاتی تھیں-
قریب ہی ایک وزیر کا شاپنگ پلازہ بن رہا تھا- کوّے نے وہاں  سے کنکریاں چرا کر گھڑے میں ڈالنی شروع کردیں...اور ڈالتا گیا....ڈالتا گیا....ڈالتا گیا....
تو میرے عزیز بزرگو اور ان کے نامعقول بچو !!!!!
یہاں تک کی کہانی پر تو جملہء دانشوران کا سو فیصدی اتفاق ہے.....اس سے آگے محققین  میں شدید نورا کشتی ہے.........مثلا.....
سوشل سائینس کے مشہور پروفیسر ڈاکٹر "فضل داد ڈگلس " لکھتے ہیں کہ کنکریاں ڈالتے ہی پانی اوپر آگیا.....کوے نے سیر ہوکر پیا....پھر باغ کی مزید سیر کرتے ہوئے...دوچار آم کھائے اور کائیں کائیں کرتا اڑ گیا- یاد رہے کہ ڈاکٹر ڈگلس "لفافہ"  قسم کے پروفیسر تھے- اور ہمیشہ کوؤں کے حق میں تحقیق فرمایا کرتے تھے-
طبیعات کے مشہور پروفیسر " اللہ دتّہ چارلی" اپنی کتاب " Hawks about Kawwa میں رقم طراز ہیں کہ ایک اوسط گھڑے کا پانی پچاس فیصد سے پچھتر فی صد تک بڑھانے کے لیے کم وبیش 250 گرام نارمل سائز کی کنکریاں درکار ہوتی ہیں...جبکہ ایک صحت مند کوا 100 گرام سے زیادہ وزن نہیں اٹھا سکتا.....چہ جائیکہ ایک مریل پیاسا کوّا - سو قصہء مذکورہ من گھڑت اور بے بنیاد ہے- اور محض نظریہء ضرورت کےلئے گھڑا گیا ہے- اگر کوئ ایسا واقعہ ہوا بھی ہے تو ہم  اس کی تصدیق نہیں کریں گے کیونکہ ہم حکومت کا حصہ ہیں-
پروفیسر " لال خان براؤن"  اپنی مشہور تحقیق " کائیں کائیں فِش" میں یہ قانونی نکتہ آٹھاتے ہیں کہ جب کوا دن دہاڑے آئین کی دھجیاں بکھیر رہا تھا تو باغ کا مالی کیوں بھنگ پی کے سویا رہا.......  مالی کو اس دخل در معقولات پر ایک زور کی "ہش" کرنا چاہیے تھی نہ کہ خوش ہو کر ہر ایک کو یہ کہانی سنانی تھی....!!!
مشہور تاریخ دان پروفیسر بالکی کھال داس کے مطابق اگرچہ تاریخی وجغرافیائ ثبوت اس بات کے شاہد  ہیں کہ ایک کوا واقعی بہت پیاسا تھا....اور اسے "کائیں کائیں" کا مرض بھی لاحق تھا ......لیکن وہ گھڑے سے ناکام کیوں لوٹا....تاریخ اس کا کوئ معقول جواز گھڑنے سے قاصر ہے -
پروفیسر شعور سیالکوٹی اپنی مشہور کتاب " کوّے کا لاشعوری سفر " میں  انکشاف کرتے ہیں کہ کوے کی موجودہ کائیں کائیں دراصل اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کی لاشعوری کوشش ہے جو اسے پانی نہ ملنے کی وجہ سے ہوئ تھی....ان کے مطابق اگر ہر "ایرا غیرا" کوا جمہوریت کے گھڑے میں کنکریاں ڈالنا شروع کر دے گا تو باغ کا "جمہوری نظام " تلپٹ ہو جائے گا.....اور باقی صرف "کائیں کائیں" رہ جائے گی....!!!
اس سنجیدہ موضوع پر محققین کی تحقیق سے لائبریریاں بھری پڑی ہیں...لیکن "مولوی حیران پریشان" نے اس پر جو قلم توڑ رائے دی ہے اس کا جواب نہیں- مولوی صاحب اپنی کتاب " تحقیق کوّا حلال حرام " میں رقم طراز ہیں " کچھ حرام کوّے مذہب کے کورے گھڑے میں عقلی تاویلات کی کنکریاں ڈال کر کائیں کائیں کرتے پھرتے ہیں...ان کی کوّا بریانی بنا کر انہی کو کھلا دینی چاہیے...ورنہ یہ پورے باغ کا پانی خراب کردیں گے "
وارث شاہ صاحب نے بھی ایسے کوّوں کی خوب خبر لی ہے-
  کاواں  وانگ  بنیریاں  تے  بہ کے
ایویں  کوڑھ  نہ  مغز  کھپائیے جی
" کووں کی طرح ہر دیواروں پر بیٹھ کر بلاضرورت کائیں کائیں نہیں کرنی چاہیے"
Mohd Shadman

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری