بے غیرتی
کچھ خواتین نما عبدالغفورے یا واللہ أعلم خواتین اس امید پر میرے انبکس کو اباد کردیتی ہیں۔ کہ چلو خٹک صاب کی بڑی بڑی نوکدار مونچھیں ہیں۔ فحش لکھتا ہے۔ چوڑی چھاتی ہے۔ لہذا ان کے آرمان عارف خٹک پورے کرسکتا ہے۔ اب انھیں میں کیا بتاؤں کہ مونچھیں تو لال بیگ کی مجھ سے زیادہ بڑی ہیں۔ فحش گفتگو تو ہیجڑے بہت اچھی کرلیتے ہیں اور ستارہ بیگ سے بڑا اور چوڑا سینہ تو روئے زمین پر کسی کا بھی نہیں ہے۔ تو کیا آپ ان سے بھی یہی توقعات رکھتے ہیں؟
میری شہرت کا زریعہ میرے وہ فینز ہیں جو مجھے جانی سین سے کم نہیں سمجھتے۔
اب انھیں کیا بتاؤں کہ جناب ہم خود بھی افیون کے دانے کے محتاج ہیں۔ بلکہ اپنی مثال گاؤں کی اس لڑکے جیسی ہے۔ جس نے ایک مولوی صاب سے درخواست کی کہ" مولوی صاب ۔۔۔بس اتنا کام کر دو ۔۔۔وہ جو لڑکی سامنے سے آ رہی ہے جب وہ یہاں سے گزرے تو آپ مجھے برا بھلا بولنا "۔
اس نے مولوی صاب کو پوری بات سمجھا دی کہ کیا کیا کرنا ہے ۔
لڑکی جیسے ہی قریب سے گزرنے لگی تو پروگرام کے مطابق لڑکا سامنے چھوٹا پیشاب کرنے کی پوزیشن میں دوسری طرف منہ کر کے بیٹھ گیا اور مولوی صاب شروع ہو گیا
" شرم نہیں آتی اس بے غیرت کو۔ جہاں پیشاب آجائے۔ فوراً 2 فٹ کا نکال کر بیٹھ جاتا ہے۔ بے شرم بے غیرت انسان" ۔
دوسرے دن مولوی صاب اسی جگہ کھڑا تھا کہ وہی لڑکی وہاں سے گزری اور مولوی صاب کے قریب سے گزری تو بڑبڑانے لگی
" شرم نہیں آتی لوگوں کو دو فٹ کی داڑھی رکھ کرجھوٹ بولتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے شرم لوگ".
چہ کیمہ دو
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں