توحید

کوڑ تمبے کا حلوہ ----- ظفرجی

جتنے بھی پیغمبران علیہ صلواة السلام اس دنیائے فانی میں مبعوث ہوئے ان کی سب سے پہلی مخالفت عبادت گاہوں کے کاہنوں نے کی-

بادشاھوں نے بھی مخالفت کی ، مگر اس وقت جب پیغمبری سے ان کے اقتدار کو پریشانی لاحق ہوئ- امراء و رؤساء اس وقت مقابلے پر آئے جب انہیں اپنی ناجائز دولت خطرے میں نظر آئ-

یہ کاہن گزشتہ پیغمبر کے انتقال کے بعد اس کے بارے میں بے سروپاء قصّے پھیلاتے- ان حضرات کی شبیہیں بنا کر  وہاں اظہارِ عقیدت کرتے- اس مقام کو اپنا استھان بنا کر اور عوام کو عقیدت کی مئے پلا کر انہیں ذھنی غلام بنا لیتے-

حکومتیں اور امراء ان سے ڈر کر حکومت کرتے- بعد دفعہ یہ بادشاہ کو بھی کوئ خدائ مقام یا اسسٹنٹ خدا بنا کر راضی کر لیتے- پیغمبران انسانیت کو اس ذھنی غلامی سے نجات دلانے کو مبعوث ہوتے رہے-

جب بھی کوئ نیا پیغمبر کسی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تو اس کا ایک ہی پیغام ہوتا:

تمھارے گھڑے ہوئے معبودان  بے جان پتھر ہیں- یہ تمہارا کیا اپنا بھلا تک نہیں کر سکتے- ان کے دربار سے کوئ مکھّی بھی شیرینی اٹھا کر لے جائے تو یہ اسے واپس نہیں لا سکتے-انہیں چھوڑ کر خدائے یکتا کی عبادت کرو- جس نے تمہیں تخلیق کیا- جو سب جہانوں کا مالک ہے- صرف وہی عبادت کے لائق ہے-

آخر کو وہ چندہ خور کاہن جو عوامی رزق پر پل پوس رہے ہوتے مخالفت میں کھڑے ہو جاتے- اور بہت کم لوگ دین حق قبول کرتے-کون چاھے گا کہ اس کے رزق پر لات پڑے- چنانچہ جواب میں کاہن اور مذھبی پیشوا کہتے:

"ہم تو اسی دین کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے"

کبھی کہتے:

"ھم ان کی عبادت تھوڑی کرتے ہیں- ہم تو ان کا وسیلہ مانگتے ہیں تاکہ اللّہ سے قریب ہو جائیں"

ان حالات میں پیغمبرانِ خُدا عوام پر محنت کرتے اور انہیں توہمات سے نکال کر خالص رب کی عبادت پر قائل کرتے- کاہنوں کے ہاتھوں تنگ غریب عوام بہت جلد توحید کی طرف راغب ہوتی- کیونکہ عقیدہء توحید انسان کو تمام شخصی غلامیوں سے نجات فراھم کرتا ہے-

پیغمبروں کا سلسلہ ھادئ برحق صلّی اللّہ علیہ والہ وسلم کے بعد موقوف ہو چکا ہے- اب امّت کا کام ہے کہ حکمت و بصیرت سے درسِ توحید کو عام کرے اور عوام کو توھمات سے نکالنے کےلیے انہیں ایجوکیٹ کرے- مٹّی گارے پتھر سے بنی قبر ہو یا اس قبر پر لگ ہوا شجر ، یہ نفع نقصان کے مالک نہیں ہیں- نفع نقصان صرف اللّہ کی طرف سے ہے- تمام انسان ، ہر خاص و عام اللّہ کے سامنے محتاج ہے ، فقیر ہے-

ہاتھ صرف اللّہ کی درگاہ میں باندھنے کےلئے ، کالا بکرا صرف اللّہ کے نام  پر ذبح کرنے کےلیے ، نیاز چڑھاوے صرف اللّہ کےلیے ، طواف صرف خانہ کعبہ کا ، اور جان صرف اللّہ کی راہ میں دینے کےلیے-  یہی ہر پیغمبر کا سبق تھا- اور یہی سبق آستانہ پرستوں کےلئے آج بھی کوڑ تُمبے کا حلوہ  ہے-

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم