سوری رانا صاحب ، ایک دوست نے اس حوالے سے جو پوسٹ کیا تھا ، اس میں اسکرین شاٹ کو لے کر جو لکھا گیا تھا اس کو آپکی وال کے حوالے سے آپ کی طرف غلطی سے منسوب کیا گیا تھا ، اور یہ غلطی ہمارے یہاں ہر دوسرے دن ہوتی ھے ، کہ میں کسی کے مضمون کو کاپی کرتا ہوں اور احباب اسے میرا مضمون سمجھ کر لعن طعن کر رہے ہوتے ہیں ، بحث آپ پر نہیں بلکہ اس کمنٹ پر تھی ،جس میں پوسٹ اور کمنٹ میں کنفیوژن تھا ، رہ گئ بات ’’ کس کی خاطر ‘‘ کیا گیا تھا ، تو اس میں آپ خود کو حسین اور مجھے یزید ثابت کر رہے جو کہ سراسر زیادتی ہے ـ امام حسین کئ مظلومیت اور ریاستی جبر پر پوری امتِ مسلمہ میں دو رائے نہیں ہیں ، سوال اس واقعے کو لے کر حسینؓ کے نانا کے دین پر وار سے ہے ،، جب حسین حق پر تھے کا مطلب ’’شیعیت حق پر ہے‘‘ لیا جائے اور یزید غلط تھا کا مطلب ’’اھلسنت غلط ہیں‘‘ لیا جائے تو پھر باطنی مذھب کا پول کھولنا بہت ضروری ھو جاتا ہے ـ آج کل محرم اور کربلا کو لے کر یہی کچھ ھو رھا ھے ، باطنیوں نے محرم میں نکاح کو نہ صرف حرام قرار دے رکھا ھے بلکہ محرم میں نکاح کرنے والوں کا گھیراؤ اور سماجی بائیکاٹ کیا جاتا ھے ؛ محرم کی یہ حیثیت دینِ مصطفی ﷺ میں تحریف کے سوا کچھ نہیں ، اسی طرح جب سنتِ تیموری کو دین بنا کر پیش کیا جائے اور ماتم و تعزیہ کو دینداری اور تقوے کی نشانی سمجھا جائے ، اور تعزیئے و ماتم کے مخالفین کو یزیدی کہا جائے تو بات اتنی سادہ نہیں رہتی جتنی آپ نے بیان فرمائی ہے ـ خود آپ نے ہی لکھا تھا کہ نواز شریف اور مریم کے کیس میں پٹواریوں کی مشغولیت نے اس دفعہ محرم میں سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے مخالف مضامین لکھنا بھلا دیا ہے ، مگر صرف دو دن کی ہلچل نے رافضیوں میں سراسیمگی پھیلا دی ہے ، اب بات یزید اور حسین کی نہیں ،بلکہ رافضیوں اور اھلسنت کی ہے ، آپ حسین کے نہیں بلکہ رافضیوں کے مورچے میں ہیں ،رافضیوں کے یرغمال بنے ہوئے ہیں ۔ جبکہ ہم دونوں طرف کی صورتحال کو عدل کے میزان پر رکھے ہوئے ہیں ـ آپ ان رافضیوں کی چالوں سے آگاہ نہیں ،یہ باقاعدہ ٹیم ورک کر کے ،ہدف طے کر کے اور ذمہ داریاں تقسیم کر کے چلتے ہیں جبکہ ہما شما پاکستانی ٹیم کی طرح اللہ توکل ٹُلے مارتے ہیں ،، اس لئے آنکھیں کھولیں اور دوست نما ان ہلہ شیری کرنے اور اھلسنت کو آپس میں دست وگریباں کرنے والے ٹولے کو پہچانیں ،خود یہ کسی کے دوست نہیں صرف آپس میں دوست ہیں، جن کو ۸ سال سے پیار کے ساتھ ساتھ لئے چل رہے ہیں ، ایک مضمون ان کے مرضی کے خلاف لگ جائے تو ایسا رد عمل دیتے ہیں جیسے یہ ہم کو جانتے تک نہیں ، ان کی دوستی میٹھے زہر کے سوا کچھ نہیں ، یہ دوستی نہیں نشہ ہے جسے پلا کر رفض کا ٹیکہ لگاتے ہیں ،،
مراقبہ و استغراق گیان کنڈالینی
سانس روک کر مولادھار چکرا کو سکیڑنے کی مشق کو "مولا بند" (Mula Bandha) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک اہم یوگا تکنیک ہے جو جسم کی توانائی کو متوازن کرنے اور مولادھار چکرا کی طاقت کو بڑھانے میں مدد کرتی ہے۔ مولا بند کی مشق کے مراحل: 1. آرام دہ حالت میں بیٹھیں: کسی آرام دہ کرسی پر بیٹھیں یا زمین پر کسی کراس-legged یا آسان آسن میں بیٹھیں۔ 2. سانس لیں: گہری سانس لیں اور اپنے پیٹ کو باہر نکالیں۔ 3. سانس روکیں: گہری سانس لینے کے بعد، اپنے پیٹ کو اندر کی طرف کھینچیں اور سانس کو روکیں۔ 4. چکرا کو سکیڑیں: اپنے مولادھار چکرا (نچلے حصے) کو سکیڑیں، جیسے کہ آپ پیشاب کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 5. اس حالت کو برقرار رکھیں: اس حالت میں 5-10 سیکنڈ تک رہیں، پھر آرام سے سانس چھوڑیں اور پیٹ کو آزاد کریں۔ 6. دہرائیں: یہ مشق 3-5 بار دہرائیں، وقت کے ساتھ ساتھ سانس روکنے کا وقت بڑھا سکتے ہیں۔ اہم نکات: آہستہ کریں: شروع میں جلدی نہ کریں، آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ اپنے سانس روکنے کا دورانیہ بڑھائیں۔ آرام دہ رہیں: اگر آپ کو کسی قسم کی تکلیف محسوس ہو تو مشق کو روکے۔ خود پر توجہ مرکوز کریں: مشق کے دوران اپنے جسم اور...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں