عارف خٹک

"قصہ شہدادپور سندھ کے مرشد صفدر چیمہ کا"

صفدر بھائی میرے جگری دوست ہیں۔بہت ملنسار اور محبت کرنے والے۔ عاجزی و انکساری ایسی کوٹ کوٹ کر بھری ہے،کہ اگر کوئی خاتون گوشۂ تنہائی میں اُن سے کہہ دیں،کہ صفدر جان آپ کو کیا چاہیئے؟جو مانگیں گے،آج آپ کو سب کچھ ملے گا۔ تو جناب مسکرا کر اسے ایک چیز پکڑا دیتے ہیں۔کہ لو اسے پکڑ لو۔ خاتون ششدر ہوکر پکڑ بھی لیتی ہے۔ مگر وہ کچھ اور نہیں شجر ہوتا ہے۔
ساتھ میں کہہ دیتے ہیں۔کہ بہن جی درخت اُگایا کرو۔ ملک کو درختوں کی ضرورت ہے۔ یہ صفدر بھائی کی عاجزی ہے۔
اور انکساری کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا دوں؟
کہ ایک دن میرا مٹن کھانے کا دل کیا۔کوئی ملا نہیں۔تو صفدر بھائی کو فون کیا کہ آؤ مٹن کھاتے ہیں۔ تو جوابا وہ 250 کلومیٹر دور سانگھڑ سے کراچی فقط مٹن کھانے آئے۔
اب ایسے بندے کے لئے بندہ کراچی سے سانگھڑ کیوں نہ جائے۔

عابد آفریدی کو کہا۔کہ ہم لوگ عید کے دوسرے دن صفدر بھائی کے ہاں شہداد پور ڈاکخانہ ماتھیلہ ضلع سانگھڑ  جارہے اُن کے مہمان بن کر۔عابد نے میرے سامنے صفدر بھائی کو فون پر زبان دی،کہ ہم دونوں آپ کے ہاں حاضری دیں گے اور ضرور دیں گے۔
فون بند کرکے میری طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا۔کہ ہم دونوں نہیں جائیں گے۔ سانگھڑ بہت دور ہے۔
مجھے جلال آگیا کہ ایسے وعدہ خلاف اور جھوٹے مکار لوگوں کیلئے پشتو میں ایک بہت برا لفظ ہے۔ لہذا اب ہم جائیں گے اور ضرور جا ئیں گے۔ یہ کہتے ہوئے میں نے فرط جذبات میں میز پر مکا مارا جس کی تاب نہ لا کر چائے کے کپ پلاسٹک کی میز سے دور جاگرے۔ کپ عابد کے تھے۔ لہٰذا وہ بڑبڑاتا ہوا اُٹھا اور کپ اٹھا تے ہوئےکہا۔کہ آپ جیسے مہمانوں کی وجہ سے میں نے مہمان خانے میں ہر چیز پلاسٹک کی رکھی ہوئی ہے۔
میں نے اسے خبردار کیا کہ عابد ہم سانگھڑ جائیں گے اور ہر صورت جائیں گے۔ پانچ منٹ بعد میں نے مسکراتے ہوئے ڈاکٹر اعجاز یوسفزئی کی طرف دیکھا۔ وہ بیچارا خود اُلجھا ہوا اور پریشان کُن سوچوں میں مستغرق بیٹھا تھا۔ کیونکہ غلطی سے ایک کنواری کو الٹراساونڈ رپورٹ میں بتا چکا تھا کہ اس بار لڑکا ہوگا۔اور مزے کی بات لڑکی کے بھائی کو مُبارکباد بھی دےآیا تھا۔اب پچھلے پانچ گھنٹوں سے عابد افریدی کی "بیٹک" میں ہمارے ساتھ چُھپا بیٹھا تھا۔ اسے کہا اب کون پانچ ہزار کا پٹرول پھونک کر آم کی دو پیٹیوں کیلئے اتنی دور جائےگا۔ اعجاز نے کہا کہ سندھی میں آپ جیسوں کے لئےایک بہت بُرا لفظ ہے۔

سو اس پر غیرت کھا کر عید کے دوسرے ہم تینوں میرے بیٹے سنیال سمیت صفدر چیمہ بھائی کی طرف یہ فیصلہ کرکے عازم سفر ہوئے۔ کہ صہیب جمال کو بتائیں گے کہ سانگھڑ ہم براستہ سکھر گئے ہیں۔ تاکہ وہ ناراض نہ ہو کہ مجھے کراچی میں چھوڑ کر خود کیوں چلے گئے۔
فون پر صفدر چیمہ بھائی کو اطلاع دی،کہ ہم آرہے ہیں۔ صفدر بھائی نے پوچھا کہ کھانے میں کیا بناؤں؟ ہم تینوں نے با آواز بلند کہا کہ بس برائل مرغی مت پکانا۔ کیونکہ اسلام اور قبائلیوں کے علماء ابھی تلک اس بات پر کنفیوژڈ ہیں۔کہ یہ مُرغی کے نام پر وجُود میں آیا یہ گند جسے لوگ مرغی کہہ کر مرغی کی توہین کرتے ہیں۔اسلامی ہے یا غیر اسلامی۔
ہمیں مہمان نوازی میں ایسی کنفیوژن والی چیز زہر لگتی ہے۔ اس کی جگہ ہم پلیٹوں میں جانور کے ٹکڑے پسند  کرتے ہیں۔ یہ سُن کر انھوں نے اوکے کہا ،اور فون بند کردیا۔
پورے راستے ہم نے تین جگہ گاڑی روکی۔اور باتھ روم گئے کہ میزبان کے گھر خالی پیٹ جانا ہم اہالیانِ کراچی کا شیوہ بھی ہے اور دستور بھی ہے۔

صفدر چیمہ کے بارے میں ایک بار فیس بکی خواتین دانشوروں کے ولی اللہ نے کہیں لکھا تھا۔کہ موصوف سے صفدر نے پانچ ہزار روپے بطور عطیہ مانگے تھے۔اور نہ دینے پر صفدر چیمہ ان کے مخالف بن گئے۔جب ہم لوگ وہاں پہنچے تو میں نے احتیاطاً ڈاکٹر اعجاز سے دس ہزار پکڑ لئے۔تاکہ بھائی خلاف نہ ہوجائے۔اور مذھبی گستاخیوں کے نام پر میرے قتل کے فتوے جاری نہ کرادے۔
وہاں گئے۔تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایکڑ پر پھیلا مہمان خانہ، نوکر چاکر اور پچاسوں مزارعین کے جلو میں صفدر چیمہ نے ہمارا استقبال کیا۔اور روایتی سندھی ٹوپی پہن کر اور مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا بغل گیر ہوا۔تو میں نے اس دانشور ننگ ملت و دین پر تین حرف بھیج دیئے۔اور دس ہزار ڈاکٹر اعجاز کو واپس دے مارے۔ البتہ دو ہزار پاس رکھ لیئے کہ واپسی کا پٹرول بھی ڈلوا لوں گا۔صفدر بھائی نےسنیال کو ہزار ہزار کےان گنت نوٹوں  کی عیدی بھی دے دی۔ مجھے بڑا پچھتاوا ہوا کہ کاش تین اور بچوں کو بھی ساتھ لےآتا۔تو کتنا اچھاہوتا۔تایا کاپیار وہ بھی دیکھ لیتے۔
عابد آفریدی نے بڑی کوشش کی،کہ سنیال سے کچھ رقم اُچک لے۔ مگر سنیال نے عابد آفریدی سے کہا۔کہ چاچو آپ بس اتنا کہہ دو،کہ آفریدیوں کا پسندیدہ فروٹ کباب ہے ،تو دے دونگا۔ عابد نے جلدی سے جواب دیا۔ بیٹا ہم آفریدیوں کا پسندیدہ فروٹ کباب ہی ہے۔ تو سنیال نے حاتم طائی کی قبر پر کئ لاتیں مار کر لیز کے دو پاپڑ عابد کو پکڑا دیئے۔
سانگھڑ خالی پیٹ پہنچ کر سب سے پہلے دسترخوان پر دھاوا بول دیا۔تو کیا دیکھتے ہیں کہ دسترخوان پر الحمداللہ  ہر سُو برائل مرغی بکھری پڑی تھی۔ لنچ میں ہم نے دل کھول کر پانی کھایا۔اور عابد نے مرغی پی۔
صفدر بھائی نے اپنے آم کے باغات کی سیر کروائی۔دو ایکڑ  پر پھیلے آم کے باغات میں ہمیں درختوں پر فقط دو آم اور دس ھندو لٹکے نظر آئے۔ وجہ پوچھی کہ دو آم اور دس ھندو بھائیوں کی لٹکنے کی وجوہات کیا ہیں؟
تو جواب ملا کہ پانی کی قلت کی وجہ سے اس بار آم نہیں ہوئے۔ جب ھندو بھائیوں کا پوچھا کہ یہ کیوں لٹک رہے ہیں؟تو جواب ملا، کہ ایک ایکڑ زمین پر انھوں نے بھنگ اُگائی ہے۔ لہٰذا فصل کی حفاظت کررہے ہیں۔ کیونکہ شدید گرمیوں میں واحد مشغلہ یہاں بھنگ پینا ہوتا ہے۔ اور بھنگ واحد شے ہے،جس کے پینے کیلئے ہندو مسلمان دونوں ہم پیالہ رفیق بن جاتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ پاکستان میں دوسرے مسالک اور اقوام کے بیچ بھائی چارے کی اعلٰی مثال قائم کی جاسکتی ہے،اگر حکومت اس پر توجہ دے۔
صفدر بھائی سے پوچھا کہ اگر پانی کی شدید کمی ہے۔تو اب تو کالاباغ ڈیم پی۔ٹی۔آئی والے بنا رہے ہیں۔تو نورالہٰدی شاہین کو اس کام پر لگا دیں۔کہ لوگوں میں شعور اُجاگر کریں۔ صفدر بھائی نے غصے میں سگریٹ پھینک دی۔
کہا،،،
کالاباغ ڈیم ہماری لاشوں پر بنے گا۔ عابد آفریدی کو بھی غصہ آگیا،فوراً سے جُھک کر زمین پر پڑی سگریٹ اُٹھالی۔اور گہرا کش لگا کر مجھے للکار کر کہا۔کہ اوئے لالہ خٹک،،،
فوج نے ظلم کی انتہاء کردی ہے۔ فوج ظالم ہے ۔میں صفدر بھائی کی حمایت کرتا ہوں ۔کالاباغ ڈیم واقعی ہماری لاشوں پر ہی بنے گا۔ اعجاز یوسفزئی ہکا بکا کھڑا کہ عابد کو کیا ہوا؟
کہ آتے ہوئے راستے میں تو عابد ہمیں قائل کررہا تھا۔کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اور یہاں صفدر بھائی کی وجہ سے اچانک کیسے پلٹا کھا گیا؟
عابد نے پشتو میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا،کہ آم کی پیٹیاں چاہیئے؟ ہم نے کہا کہ بالکل چاہیئے۔تو کہنے لگا کہ بس پھر صفدر بھائی کی تائید کرو۔وہ جو بھی کہیں اُس پہ باآواز بلند آمین بولتے رہو۔ورنہ خالی ہاتھ جانانصیب ہوگا۔
یہ سُن کر ہم دونوں نے بھی فوراً سے کہہ دیا۔کہ بالکل صفدر بھائی کالاباغ ڈیم ہماری لاشوں پر ہی بنے گا۔
صفدر بھائی نے باغ میں قالین بچھایا تھا۔ میں نے ھندو بھائیوں کو ساتھ بٹھا لیا۔کہ ان کو یہ احساس نہ ہوجائے۔کہ ہم دیوبندی سیکولر نہیں ہیں۔ باتوں باتوں میں میرے منہ سے چرس کی بات نکل گئی۔ چرس کا لفظ سننا تھا کہ ھندو بھائیوں کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک آگئی۔میں نے ان کو بولا،کہ آپ کی مطلوبہ شے کا مائی باپ عابد آفریدی ہے۔ یہ چرس افیون، گانجا اور ہیروئن اُگاتے ہیں، اور اپنے اس کاروبار کی سالانہ آمدنی سے زکوٰۃ بھی دیتے ہیں۔اور  اُس پر مزید یہ کہ اُسی پاک پیسے سے مدارس بھی چلاتے ہیں۔ سارے ھندو عابد کے آگے دوزانو ہو کر باادب بیٹھ گئے۔ اور عابد ان کی پیٹھ پر تھپکیاں دیتا رہا۔ عابد آدھے گھنٹے تک ان ھندؤں کے سامنے ہندوستان زندہ باد اور مولانا ابوالکلام آزاد زندہ باد والی  باتیں کرتا رہا۔کہ ہندوستان اچھا ملک ہے۔ ہم پاکستانی ہندوستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ مگر سیتا رام نے جوابا یہ کہہ کر ہمیں حیران کردیا۔کہ قائداعظم اور پاکستان دونوں ہمارے اپنے ہیں۔ عابد آفریدی نے حیرت سے مجھے دیکھا۔کہ یار لالہ یہ قوم پرست بالکل بھی نہیں ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ اب ہر بندہ آپ کی طرح قوم پرست تھوڑی نا ہوتا ہے؟کہ فاٹا کے مسائل پر کابل سے واویلا کرکرکے مدد مانگے۔اور جواب میں کابل چیخ چیخ کر اسلام آباد سے مدد مانگے۔
صفدر بھائی نے اپنے دی گرینسٹ فاونڈیشن کے اغراض و مقاصد بتائے۔کہ شجرکاری ان کا جُنون ہے۔اور وہ بنا کسی سرکاری مدد اور عطیات سے فقط اپنی جیب سے خرچہ کرکرا کے شجرکاری کررہا ہے۔ وہ اور ان کی ٹیم کی ان تھک محنت کرکے سماجی شعور بیدار کرنے میں لگےہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ اس نان پرافٹ تنظیم کے اغراض مقاصد پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ جس پر میں ایک خصوصی مضمون اخبارات اور ویب سائٹ پر چھاپنے والا ہوں۔ ہماری گفتگو کے دوران اچانک عابد نے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر مارے۔اور فلک شگاف آواز سے اوئی ماں کی بےہنگھم سی آواز نکالی۔ ہم ہکا بکا،کہ یااللہ خیر عابد کےساتھ  ایسی کون سی ٹریجڈی ہوگئی؟
سب اُٹھ کر اس کے قریب گئے کہ عابد خیر تو ہے۔ بچے تو ٹھیک ہیں ناں؟اعجاز کی آنکھوں میں باقاعدہ  سے آنسو بھی اگئے۔ اور اسے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔ میں نے پوچھا کہ عابد بتاو تو سہی ہوا کیا ہے؟کہنے لگا کہ لالہ آپ کو معلوم ہے کہ آج میری سالگرہ ہے۔ میں نے فیس بک اسٹیٹس اپڈیٹ کیا۔کہ مجھے میری سالگرہ مبارک ہو۔ غلطی سے "میری" کی بجائے میں نے "میرا" لکھ دیا۔سب لوگ مُبارک باد دینے لگ گئے۔مگر ایک خاتون جو خود کو بڑی پڑھی لکھی اور اُردو ادب کی بانو قدسیہ سمجھتی ہے۔ اس نے مُبارک باد کی بجائے کمنٹ کیا۔کہ سالگرہ مذکر نہیں مؤنث ہے۔
ہم تینوں کا بس نہیں چل رہا تھا کہ عابد کے ساتھ کریں تو کیا کریں۔ مگر وہ ہمارے جذبات سے بے خبر اپنا ہی رونا روئے چلے جارہا تھا۔ کہ یہ کون ہوتی ہے ایک پشتون کی سالگرہ کو مؤنث ثابت کرنے والی؟
ادھر ہم یہ نحوست لئے بیٹھے تھے۔اُدھر سنیال صفدر بھائی کے بیٹے اور بھتیجے علی اور محسن پر اپنی دانشوری جھاڑ رہا تھا۔اور وہ بیچارے ہمہ تن گوش ایسے سن رہے تھے۔جیسے ہم لوگ لالہ صحرائی کو سنتے ہیں۔ سنیال نے دونوں بچوں کے علم میں اضافہ کرتے ہوئے اوپر اڑتے ہوئے کوے کی طرف اشارہ کیا کہ اسے انگریزی میں Crow کہتے ہیں۔ بچوں نے یک زبان ہوکر پوچھا۔کہ پشتو میں اسے کیا کہتے ہیں؟ سنیال نے بتایا کہ پشتو میں اسے "باز" کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔ صفدر چیمہ اور اعجاز یوسفزئی نے میری طرف شکایتی نظروں سے دیکھا۔(عابد نے اس لئے نہیں دیکھا کہ فاٹا میں کوے نہیں ہوتے،گدھ ہوتے ہیں)۔ کہ بچے کو کم از کم انسان اپنی مادری زبان تو سکھائے۔ میں نے نظریں پھیرتے ہوئے جواب دیا کہ شکر ادا کرو کہ کراچی کا بچہ کم از کم کوے کو پرندہ تو سمجھتا ہے۔ ورنہ اگر یہ ڈائنوسار کہتا تو میں اپنے بیٹے کا کیا بگاڑ لیتا۔
صفدر چیمہ بھائی نے بالآخر ہم سے تنگ آکر کہا،کہ آپ لوگوں کو دیر ہورہی ہے۔سو ہم شہداد پور سے نکل گئے۔
مٹیاری پہنچ کر ہم نے آم کی چھ پیٹیاں خریدیں۔تاکہ گھر والوں کو دیکھا سکیں۔کہ سندھ کے دوست کتنے مہمان نواز ہوتے ہیں۔
کراچی پہنچ کر عابد کوپھر اپنا دُکھ یاد آگیا۔ دونوں ہاتھ گھٹنوں پر مار کر بولا۔کہ اب کل کی بچیاں ہمیں سکھائیں گی۔کہ سالگرہ مؤنث ہوتی ہے۔ یامذکر؟
میں ان کو بتاؤں گا لالہ،،
کہ ہم اپنی مونث کو فیس بک پر نہیں دکھاتے بلکہ مذکر دکھاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
آم کی دو پیٹیاں پکڑاتے ہوئے میں نے عابد اور اعجاز کو سختی سے تنبیہہ کی۔کہ گھر میں اپنی اپنی مؤنث کو بولنا۔کہ آم کی پیٹیاں صفدر چیمہ بھائی نے تحفتاً دی ہیں۔
خبردار اگر کسی کو بتایا کہ ہم نے اپنے پیسوں سے خریدی ہیں۔ دونوں نے پوچھا کیوں؟ میں نے گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے کہا کہ ایسوں کیلئے پشتو میں بہت ہی برا لفظ ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم