حکیم
میراجسم میری مرضی ---- ظفرجی
*** +18 ***
ملک پور کو " مردانہ قوّت" کا کوہِ گراں بنا کر " سُستی ، کمزوری ، سوزاک ، آتشک جریان ، اھتمام وغیرہ وغیرہ کا جڑ سے خاتمہ کرنے والے لقمانِ زمانہ حکیم اسد المعروف شیراں والی سرکار کی حیاتِ مبارکہ کا ایک زرّیں واقعہ پیشِ خدمت ہے-
فرماتے ہیں:
" اس فقیِر نے کئ گھرانوں کے بُجھے چراغ سانڈے کے تیل سے روشن کئے- کئ دقیق ٹیڑھے مسائل سلجھائے- دستِ خود کُش سے برباد نسل کو اپنے پاؤں پہ کھڑا کیا- مگر ایک کیس زندگی میں ایسا درپیش ہوا کہ اس فقیر کو اپنا تھیلہ اُٹھا کر بھاگتے ہی بنی-
عرصہء دراز کی بات ہے- ایک روز حکمت کدے میں بیٹھا ، بیضہء مرغ پر فِلفل سیاہ کے تجربات کر رہا تھا- ایک وفد حاضرِ خدمت ہوا جو بہت دور سے تشریف لایا تھا-
میں نے بڑی تونگری سے آؤ بھگت کی اور ناؤنوش جو بن پڑا حاضر کیا- پھر مقصد آمد کا دریافت کیا-
امیرِ وفد جو ایک سن رسیدہ بزرگ تھا ، لاٹھی سے زمین کریدتے ہوئے گویا ہوا:
"ہمارا ایک بھتیجا ہے- عمر 28 سال ، قد 6 فٹ سے کُچھ زیادہ- صحت مند تگڑا ہے- ناک بھی لمبی ہے- مگر بیوی نہیں بس رہی- آپ کی شُہرت سُنی تو بھاگے چلے آئے"
میں نے کہا " قوّتِ مردمی قد کاٹھ سے نہیں ، جوہرِ خاص سے پہچانی جاتی ہے- ورنہ ٹھگنے تو مارے ہی جاتے- انسانی جسم مختلف عضلات سے بنا ہے اور ہر عضو کے واسطے کوئ نہ کوئ دوا ہے- مردانہ کمزوری حد سے بڑھ جائے تو انسان پریشان اور چڑچڑا ہوجاتا ہے۔ لیکن مایوسی کفر ہے- حکمت میں ہر مرض کا علاج ہے۔ مبارک ہو ، آپ لوگ دیر سے ہی سہی ، حاذق طبیب تک پہنچے ہو"
اس کے بعد میں نے دواخانے سے ایک سفید پیاز نکال کر اس کا عرق نچوڑا- اور ایک ہانڈی میں ڈال کر اوپر کس کے ڈھکنا باندھا اور کہا:
" اسے لے جائیے ، اور زمین میں کھڈّا کھود کر دفنا دیجئے- چالیس روز بعد کھولیے گا- سفید سفُوف چونے کے رنگ کا ملے گا۔ مریض کو کھلائیے اور دائمی شفاء پائیے"
اُنہوں نے میری حذاقت و لیاقت کی تعریف کی ، روپیہ دو سو تلّی پہ دھرا ، اور دعائیں دیتے ھانڈی اٹھائے چلے گئے- میں بھی اس واقعے کو تقریباً بھول ہی گیا کہ "کمزور" بھلا "طاقتور" ہونے کی خوش خبری کیونکر دے- نہ فراغت ملے گی ، نہ خوشخبری دے گا-
لیکن دو ماہ بعد بعینہ وہی وفد پِھر حاضر باش ہو گیا- ان کے چہروں پر مایوسی کے اثرات تھے- میں نے انتہائ خوشدلی سے بٹھایا اور کہا " دستِ فاقہ کش کے مارے ہوئے اتنا جلد مایوُس نہیں ہوتے- کیا ہی بہتر ہوتا کہ مریض کو بھی ساتھ لے آتے ، میں ناک نقشہ ہی دیکھ لیتا"
اس پر امیرِ وفد بولا :
" کیا کریں جٹ قوم ہے ، علاقے میں عزّت ہے ، مسئلہ اگر ناک کا نہ ہوتا تو ضرور لاتے "
قِصّہ کوتاہ ، میں نے وفد کو ایک روز کےلئے مہمان خانے میں ٹھہرا لیا- پھر مؤصلی سیاہ ، جوز بوا، بساسہ، اور گائے کا دودھ منگوایا- اور قوّتِ مردمی کی جو بہترین دوا بنا سکتا تھا تیّار کی- پھر اچاّر ، لسّی ، بھنگ سے پرہیز بتا کر وفد کے حوالے کی- اس بار اڑھائ ہزار کا نسخہ بنا اور وہ لوگ دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہوئے-
لگ بھگ مہینہ ہی گزرا کہ ایک بار پھِر وہی وفد مونہہ لٹکائے دروازے پر آن کھڑا ہوا- حیرانی بھی ہوئ اور شرمندگی بھی کہ نو ضلعوں میں کیا میں ہی حاذق طبیب رہ گیا ہوں- یہ لوگ کہیں اور کیوں نہیں جاتے اور وہ نُسخہ تو کسی نوّے سالہ بزرگ کو کھلایا جاتا تو ہنہنا کر اُٹھ بیٹھتا- کس ڈھیٹ مٹّی سے بنا ہوا مریض ہے کہ مؤصلی سِیاہ بھی چبا گیا اور کسی کا بال تک بیکا نہیں کیا-
خیر میں نے کہا " حضراتِ گرامی !! میں نے اپنے تئیں جو نُسخہ بہتر سمجھا ، آپ کو عطاء کیا ، اب تو لے دے کے "یاقوتی طِلاء" ہی بچّا ہے- مگر اس میں رِسک ہے- یا تو مرض جڑ سے جائے گا یا ------ "
وہ بولے:
"ہم ہر خطرہ مول لینے کو تیّار ہیں- آپ بس ہمارے ساتھ چلیے- ھم آپ کو اپنا دوست ظاہر کریں گے- معاملہ ناک کا ہے ، ورنہ اس کی بھی نوبت نہ آتی"
میں نے کہا " بے فِکر رہئے ، حالات صیغہء راز میں رہیں گے !!!"
بہرحال اگلی صبح ، مونہار ہم لاہور والی بس میں سوار ہو کر اوکاڑہ دیپالپور چوک پہنچے- پھر حویلی لکھّا کی بس پکڑی اور دن کے 9 بجے مریض کے گاؤں جا اُترے-
وہ لوگ خاصے متموّل زمیندار تھے- مجھے ایک خوبصورت حویلی میں ٹھہرایا اور خوب آؤ بھگت کی- دن گزر گیا اور رات چڑھ آئ- لیکن نہ تو مریض سامنے آیا نہ ہی میں نے اس کی بابت گُفتگو کی- دونوں طرف مشرقی شرم و حیاء مانع رہی-
دِن چڑھا تو میں نے کہا صاحبو !! مجھے اور بھی کام ہیں- اب اس جوانِ رعناء کی زیارت کرا ہی دیجئے جس کی خاطر مشقّتِ سفر برداشت کی ہے-
باقی تو سرجھکائے خاموش رہے ، وُہی بزرگ لاٹھی ٹیکتا ہوا بولا:
"وہ یہاں نہیں آ سکتا .... مجبُوری ہے .... دراصل وہ " پاٹھی" ہے"-
پاٹھی اس شخص کو کہتے ہیں جو جانوروں کی نگہداشت کرتا ہے اور ان کےلئے "پَٹھّے" یعنی چارہ وغیرہ بناتا ہے- اگر سارے بھائ زمیندار ہوں تو سب سے سادے کو " پاٹھی" بنا دیا جاتا ہے تا کہ سیانڑیں دیگر امور سنبھال سکیں-
میں نے کہا کوئ بات نہیں ہم ہی ڈیرے پر چلے جاتے ہیں- مریض کو دیکھنا تو بہرحال ضروری ہے- اس تجویز سے سب متفق ہوئے اور ہم پگڈنڈیوں سے ہوتے ڈیرے پر جا پہنچے-
یہاں کوئ نصف درجن بھینسیں اور گائے بکریاں بندھی تھیں- مریض کا نام و نشان نہ تھا- مجھے منجے پر بٹھا کر اراکینِ وفد مختلف سمتوں میں ہوکا دینے لگے .....
" اوووئے ماکھیا .... ماکھیا اوووئے ... او کِتھّے مر گیا ایں ..... !!!! "
دُور باجرے کے کھیت سے کچھ پرندے اُڑے ، پِھر ایک سر برامد ہوا- ماکھے نے درانتی لہرا کر اپنی موجودگی کا ثبوت دیا- میں ہمراہ وفد کے ادھر ہی چل دیا جیسے ایس ایچ او وقوعہ دیکھنے جاتا ہے-
وہاں جا کر مریض کا بغور مشاھدہ کیا- الجھے ہوئے بالوں پر جمّی مٹّی کی تہہ دار چٹانیں ، پاؤں میں پُھٹاڑیں ، بڑھی ہوئ شیو ، بے ترتیب گھنّی مونچھیں ، گندے پیلے دانت ، جسم سے اٹھتی پسینے کی سڑاند- ہم سے بات کرتے ہوئے اس نے تین بار سبز نسوار کھائ اور ادھر ادھر پچکاریاں مارتا رہا-
میں نے خاموشی سے واپسی کی راہ لی اور حویلی آ کر اپنا سامان پیک کرنے لگا-
بزرگ نے کہا:
"حکیم صاحب ، کیا ہوا ؟ کوئ دوائ تجویز نہیں فرمائی ؟؟ "
میں نے کہا " دوائ ؟ کون سی دوائ ؟ کیا کرے گی دوائ ؟ اس پاٹھی کو سلاجیت کا پہاڑ بھی کھلا دو تو یہ پاٹھی ہی رہیگا- جانوروں کے ساتھ رہ کر جانور ہو چکا ہے ، عورت چھوڑ ، گدھّی بھی اس کے پاس نہ پھٹکے ، پہلے اسے انسان تو بناؤ ، مرد یہ خودبخود بن جائے گا"
یہ واقعہ سنا کر حکیم صاحب اکثر آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ عورت پر رحم کھاؤ- محض منجنیقوں سے قلعے فتح کرنا کوئ کمال نہیں- خود کو شہزادہ گلفام بنا کر رکھؤ مہارانی خود دِل کے دروازے تم پر کھول دے گی "
Based on a true incident.
حکیم صاحب کا نمبر حاصل کرنے کےلئے ان بکس میں رجوع فرمائیں- حالات صیغہء راز میں رہیں گے-
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں