ابہام کیوں ؟؟......
فیس بک وہ فوڈ مارکیٹ ہے، جہاں بے شمار جّید طباخ ہم سب کےلیے روحانی خوراک تیار کرتے ہیں...اور ہم ان کی لذیذ ڈش سے شکم سیر ہو کر کومنٹ کا سکہ ان کی طرف اچھالتے ہوئے اپنی راہ لیتے ہیں...ڈش بری لگے تو الٹی بھی کر دیتے ہیں....جس کی صفائ بھی بھلا مانس دکاندار ہی کرتا ہے-
اس فوڈ مارکیٹ میں کوئ چکن پلاؤ پکا رہا ہے تو کوئ کوّا بریانی ، گاہک سب کھا جاتا ہے........بس مصالحہ ذرا ٹائٹ ہونا چاھیے -
میں اس فوڈاسٹریٹ کا سب سے پیٹو گاہک ہوں- یہاں میری اپنی ثموثہ شاپ ہے لیکن صبح کا ناشتہ ید بیضاء کے سری پائے سے ، لنچ رعایت اللہ فارقی صاحب کے کریلہ گوشت سے.....ڈنر قاری حنیف صاحب کے حلوہ گھیگوار سے....اور چائے ہمیشہ عارف خٹک کے افغانی کھوکھے سے ہی پیتا ہوں-
کچن چاہے گھر کا ہو....یا صدر کراچی کی گھسیٹا حلیم کا... اس کے محراب پہ ایک عبارت ہمیشہ کندہ ہوتی ہے " اندر آنا منع ہے" کیونکہ ....بہرحال یہ ایک پرائیویٹ جگہ ہوتی ہے....!!!
میں نہیں جانتا کہ ید بیضاء سری پائے کے علاوہ اور کیا کیا بناتا ہے....شاید کسی اور نام سے کچی شراب بھی بیچتا ہو.... رعایت اللہ فاروقی صاحب کریلہ گوشت پکانے اور بلّوں کو دودھ پلانے کے علاوہ اور کیا کیا کرتے ہیں....شاید ان کی کپڑے کی دکان ہو....لالا عارف خٹک ہمیں پوستی چائے پلا کر کابل و ہرات کون سا سانپ پکڑنے جاتے ہیں......ھمدرد حسینی پارٹ ٹائم میں نکاح پڑھاتا ہے یا بٹیرے لڑاتا ہے ، .....اور قاری حنیف حلوہ گھیگوار کی دکان بڑھا کر کون سا سرمہ بیچنے جاتے ہیں...مجھ اس سے کیا لینا دینا....کبھی ملاقات ہوگی تو پوچھ لوں گا.....فی الحال مجھے مطلب ان حضرات کی تحاریر سے ہے....!!!!
ان سب دکانداروں میں ، شاید میں ہی "فارغ البال" ہوں- لیکن ایک وقت میں دو دو اکاؤنٹ بنا کر چہرے بدل بدل کر بات کرنا میرے بھی بس کا روگ نہیں.....ثموثے ث سے لکھوں یا س سے....میں نے بنانے ہیں اور آپ نے کھانے ہیں...اب اس دھندے کے پیچھے میرا اصل دھندا کیا ہے.....اس سے آپ کو مطلب؟.....سو پلیٹ پر دھیان رکھیے....کچن میں مت جھانکیے -
مستان شاہ صاحب کو جتنا آپ جانتے ہیں اتنا ہی میں- یہ ایک ڈیجیٹل روحانی رابطہ ہے- جو لوگ مستان شاہ کو رعایت اللہ فاروقی صاحب کا دوسرا ورژن سمجھتے ہیں...ان کی سمجھ کو سات سلام... میں تو یہی کہ سکتا ہوں کہ ھذا بہتان عظیم.....
بھلا استاد جی پہ کون سا جن چڑھ گیا ہے کہ کسب روزگار بھی کریں ، موٹے موٹے بلِّے بھی پالیں....اور دو دو اکاؤنٹ بنا کر اپنے اور دوسروں کے دماغ کا دلیہ بھی بناتے پھریں..... ؟؟؟
رعایت اللہ فاروقی صاحب ، فرنود عالم صاحب اور سبوخ سیّد وہ لوگ ہیں جو صحافت کےلیے پیدا ہوئے ہیں، یہ ہماری طرح لکھنے سے پہلے ہاتھوں پہ لگی تیل گریس نہیں اتارتے....اور نہ ہی ایک دکان بند کرکے دوسری کی طرف بھاگتے ہیں....انہیں رب نے قلم کی نعمت سے نوازا ہے، علم دیا ہے، اور لکھنے کا سلیقہ بخشا ہے....اور ہم انہی سے سیکھ کر اپنا کی بورڈ بھی سیدھا کرتے ہیں....
دل کھول کے انب کھائیے لیکن پیڑ پر مت چڑھیے صاحب !!!
اور ہاں......
آج موسم خراب ہے ....سو میں اور سرسیّد بمبئ کے "پالن جی ہوٹل " میں بیٹھے امب کھا رہے ہیں جو بمبئ کے مشہور دولت مند پارسی سہراب جی نے بطور خاص بھیجے ہیں...سو آج "ڈیڑھ صدی کی چھٹی"
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں