قصہ چہار درویش


قصہ چہار درویش .نشر مکرر.(1).ظفر جی کے قلم سے- مزاحیہ تحریر

صاحبان !! احوال اس قصے کا یوں ہے کہ یہ فقیر بلاد عرب میں قاضی ابوالہول کے اونٹ چرا کر کسب روزگار کا کیا کرتا تھا - حیات کیف و نشاط میں بسر ہو رہی تھی - معمولات زندگی کے کچھ یوں تھے کہ ہر روز صبح سویرے نہار منہ , اونٹ اس فقیر کو جنگل میں لے جاتے اور شام تک چراتے............. تفصیل سے پڑھئے

 سونامیوں اور لوہاروں میں بس اتنا فرق ہے کہ سونامی کی عقل اسکے جنون کے تابع ہوتی ہے چنانچہ وہ پہلے ایکشن لیتا ہے...پھر سوچتا ہے...پھر حالات اسے کندھوں سے پکڑ کر پھرکی کی طرع گھما دیتے ہیں .- اس کیمیائ عمل کو " دوسرا درویش"..."uturn" کہتا ہے......جب کہ لوہار...سوچ سمجھ کر اور موقع مناسبت دیکھ کر گرم لوہے پر " ضرب ہتھوڑا" لگاتا ہے...جس سے اس کے پرانے بل کس نکل جاتے ہیں اور نئے پیدا ہو جاتے ہیں......فزکس کے اس اصول کو " تیسرا درویش"........" ہک لوہار دی" کہتا ہے.......مزے کی بات یہ ہے کہ سونامی تو ہے ہی "فطرتا مطمئن"......لوہار بھی مزے سے حقہ پی رہا ہے کہ اس نے لوہے کو پھر بھٹی میں ڈال دیا ہے......تاکہ اگلی "سٹ" میں مذید بل نکالے جا سکیں.....................!!!
پڑھیے "قصہ چہار درویش (نشر مکرر)....کل سے!!!!!!!
نئے دوستوں کے لیے...خصوصی سیریل.....ہر روز.......!!!!!!!

سر شام یہ فقیر اونٹوں کی مشقیں کس کے بیس کلو کھجور ان کے آگے ڈالتا اور خود عربی قہوہ پی کر سوجاتا.............. چناچہ اونٹ رات بھر خوشی سے بلبلاتے اور فقیر بھوک سے ہنہناتا -
ایک روز کہ نصف شب کا عمل تھا .....اونٹوں کے طبیلے میں کہرام مچ گیا- بارے جا کر سیکیورٹی سے احوال چاہا تو معلوم پڑا کہ سارے اونٹ کچاوے چھوڑ ," تبدیلی تبدیلی" کے نعرے لگاتے نامعلوم سمت کو بھاگ کھڑے ہوئے ہیں............!!!

آوارگان عشق کو منزل کی کیا خبر
منہ اٹھ گیا جدھر کو ادھرکو ہی چل دیے

یہ سن کر ماتھا ٹھنکا اور سیکیورٹی والے کو کھڑے کھڑے ڈیڑھ سو اشرفیاں بخشیش عطا کی...بعد میں دو سو جوتے مارے.....!!!!
بارے دل میں اس فقیر کے سخت رنج ہوا اور خیال قاضی ابولہول کا آیا , فورا لاحول پڑھی اور گدڑی چھوڑ نامعلوم سمت دوڑ لگا دی.....ابھی اسپیڈ 60 کی ہی پکڑی تھی کہ.. ناگاہ اندھیرے میں " کسی ضروری کام سے بیٹھے " شیخ سے ٹکرایا اور یہ بد نصیب لڑھکیاں کھاتا ایک کھائ میں جا گرا......پیچھے سے آواز آئ....."خلی !!!!!!!"
ہوش آیا تو نہ اونٹ تھے نہ ان کے کچاوے..... خود کو ایک لق دق بیابان میں پایا ......ایک شفیق, نورانی صورت , سفید ریش بزرگ اس مضروب کے اوپر جھکے ہوئے تھے اور ہلکی ہلکی " چٹکیاں" لیتے ہوئے عالم غفلت سے بیدار فرما رہے تھے...... ہمیں حیران پا کر بولے.....اٹھ اے ناعاقبت اندیش.....کہ وطن میں سونامی چڑھ آیا ہے....اور تو یہاں لسی پی کے سویا ہوا ہے...جا....کے دیکھ کہ "پرانے پاکستان" کی کیا درگت بن رہی ہے ...اور " بھونڈ " کلیوں کے گرد ناچ ناچ کر " نیا پاکستان " بنا رہے ہیں.....تجھ سے زیادہ تو تیرے اونٹ عقلمند ہیں کہ ڈھول کی تاپ سنتے ہی .ڈی چوک پہنچ گئے ہیں...جاؤ....اور وہاں کا کچھ احوال لے کے آؤ کہ طبیعت شاد کام ہو- ہم نے تعارف و شناخت اس پیر مرد کی چاہی تو بولے .....ہم میر امن دہلوی ہیں..اور عالم رویا سے تشریف لائے ہیں...ہم نے" باغ و بہار" لکھ کردبستان اردو کو معطر کیا .......اور قصہء چہار درویش یادگار چھوڑا.....یہ قصہ ہم نے فارسی میں امیر خسرو سے مستعار لیا تھا پھر شفیق الرحمن نے ہم سے مستعار لے کر چہار سو ہمارا ڈنکا بجایا....اب تمہاری باری ہے....کہ شفیق الرحمن کا ڈنکا بجاؤ.......قوم کے کچھ لوگ "تبدیلیء" آب و ہوا کی خاطر دارلسلطنت میں جمع ہیں...دن کو سوتے ہیں اور رات کو ناچ ناچ کے روتے ہیں...شب دیر گئے تک "لٹ" مچی رہتی ہے.........وہاں کسی تاریک کونے میں بیٹھے چار درویش ایک دوسرے کو اپنی اپنی بپتا سنا کے ٹائم kill کرتے ہیں.....تم چھپ کر ان کا احوال سننا اور جو کچھ پلے پڑے مخلوق خدا کی نذر کرنا تاکہ عبرت پکڑے اور تبدیلی کے ملیریا سے شفا پاوے........ .ہم نے جھک کر قدم بوسی اس بزرگ کی چاہی - اس نورانی صفت نے اپنے کھیسے سے ایک دورنگی ٹوپی نکالی اور اس فقیر کے سر پر رکھتے ہوئے گویا ہوئے........" سلیمانی ٹوپی کا دور تو بیت گیا ہے..... یہ سونامی ٹوپی پہن لو....کہ خالی دماغ سروں پہ خوب جچتی ہے......اور دافعء عقل و خرد ہے..." .......چنانچہ ٹوپی پہنتے ہی اس فقیر کے چودہ طبق روشن ہوگئے.....ہر طرف کرپشن ہی کرپشن نظر آنے لگی.....پیٹ میں انقلاب کا درد محسوس ہونے لگا........... ہر عقلمند جاہل لگنے لگا...اور.ہر جاہل افلاطون !! ناگاہ ایک چکر اس فقیر کو آیا...اور..مثل "پھرکی" کے گھومنے لگا..... اس پیر مرد نے سہارا دیتے ہوئے کہا.....سنبھل اے ناہنجار....ابھی سے " یو ٹرن " لینے شروع کر دیے.......منزل پر پہنچ کے اپنی "دم پکڑنے کی کوشش کرنا.. !!!! پھر اسی کھیسے سے ایک دورنگا دوپٹہ نکال ہمارے گلے میں ڈالا......تو طبیعت نے جوش مارا......چنانچہ وہیں کھڑے کھڑے دو چار ٹھمکے لگا دیے......اس پر وہ بزرگ نیک صورت.... پہلے ہنسا...پھر رویا........ اور تاسف سے بولا........." پپو کانٹ ڈانس سالا.........!!!!
آخر اس نیک طینت سے وعدہ قصہ بہم پہنچانے کا کیا- اور رخصتی چاہی.... انہوں نے پہلے اپنی انکھوں پر پٹی باندھی......پھر ہمیں آنکھیں بند کرنے کو کہا..........تھوڑی ہی دیر بعد ہوش آئ تو آواز کان میں پڑی....." اج میرا نچنے نوں دل کردا......!!!!
فورا آنکھیں کھولیں تو کیا دیکھتا ہوں کہ نہ وہ بزرگ نہ جنگل.....ڈی چوک میں کھڑا ہوں اور..جنگل میں منگل کا سماں ہے.....ہر طرف کیف ومستی کے جام چل رہے ہیں....ٹوپیوں اور جھنڈوں کی بہار ہے....ایک طرف.پری زادیوں کے غول محو رقص ہیں تو دوسری طرف.....خواجہ سراؤں کی ٹولیاں تھرک رہی ہیں....بیچ ایک لوہے کا کمرہ نظر پڑا جس پر ایک انسانی ڈھانچہ بھی محو رقص نظر آیا...
دریافت کرنے پر معلوم پڑا کہ " تخت پشاوری " کا شہزادہ ہے اور" عشق لیلائے سونامی" میں اپنی سلطنت کو ڈوبتا چھوڑ کر یہیں "کینٹینر نشیں" ہے- شب و روز محو رقص رہتا ہے...نہ کھانے کا ہوش ہے نہ پینے کا............
خدا "غارت " کند ایں عاشقان "بد" طینت راء
ہمارا من بھی دیوانہ وار رقص کو تڑپنے لگا کہ ......یکایک..................ہمارے کانوں میں اس بزرگ نیک طینت کی آواز پڑی ".سنبھل.....کاکا .....سنبھل."........اس سے پہلے کہ سنبھلتے پاؤں ایک کیلے کے چھلکے پر آیا اور پھسل کر گرے....بعد میں پتا چلا کہ جسے کیلے کا چھلکا سمجھ رہے تھے.......وہ "کیلے" کا "چھلکا " تھا...طبیعت متلائ.....کہ دنیا کتنی گندی ہو گئ ہے......کیسی کیسی بے ہودہ چیزیں " سر راہ ہی پھینک دیتے ہیں......!!!!!
بارے گوہر مقصود ہاتھ آیا ......اور رات کے اندھیرے میں چار عدد پیر مرد چرس کے مرغولے اڑاتے نظر پڑے - اشتیاق ہوا کہ چھپ کر ذوق سماعت کا پورا کروں ....قریب ہی ایک جھاڑی تھی....اس کی اوٹ لینے لگا کہ یکایک "کبوتروں کا ایک جوڑا" بیچ اس جھاڑی کے برامد ہوا.....اور اس فقیر کو گالیاں دیتا.....نامعلوم سمت اڑ گیا........... دخل در معقولات پر خود کو خوب کوسا....... ....تھوڑی دیر میں حواس بجا ہوئے تو ....پتا چلا کہ تقریبا ہر جھاڑی کے پیچھے ایسے بے شمار پرندے دنیا سے بے نیاز "نیا پاکستان " بنانے کے لیے "صلاح مشورہ" کر رہے ہیں.......چنانچہ یہ فقیر....بچتا بچاتا......چھپتا چھپاتا.....ایک vaccant جھاڑی کی پیچھے جا چھپا.... اور بپتا ان گدڑی پوش درویشوں کی سننے لگا.

at اتوار, نومبر 16, 2014

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری