جاٹ
ایک سردار کی شادی لکھنوؑ میں ہوگئ۔ جب سردار پہلی بار سسرال جانے لگا تو والدین نے پاس بٹھا کر اُسے سمجھایا کہ دیکھو لکھنوؑ والے بہت تہذیب یافتہ ہوتے ہیں لہٰذا وہاں بہت رکھ رکھاوؑ سے رہنا ساس سُسر کی خدمت میں آداب بجا لانا ان کی جانب پِیٹھ نہ کرنا کھانے سے پہلے ہاتھ دھو لینا نِوالے چھوٹے چھوٹے لینا نِوالہ چباتے ہوئے آواز نہ آنے دینا اور ہاں میٹھا طلب کرنا ہو تو کھیر نہ کہنا سویٹ ڈش کہنا وغیرہ وغیرہ۔ خیر سردار جب سسرال پہنچا تو پہلے آداب بجا لایا دسترخوان لگا تو پہلے ہاتھ دھوئے اور ماں باپ کی ہدایات کے مطابق کھانا شروع کردیا۔
کھانے کے دوران سُسر نے کہا میاں! آپ تو بہت مہذب ہیں ہم نے تو سنا تھا کہ جاٹ لوگ گنوار ہوتے ہیں، ساس نے بھی لُقمہ دیا ہاں بھئ ہم بھی اپنے بِٹوے کی تہذیب سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔
اپنی تعریف سُنکر سردار سینہ پُھلا کر بولا ایہہ تے کُجھ وی نئیں حضُور! بُنڈ تے تہاڈی اودوں پاٹنی اے جَد میں کھیر نُوں سُویٹ ڈِش آکھیا۔
عاصم اظہر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں