عاصم اللہ بخش
سقوط ڈھاکہ کا ایک چھوٹا سا سبق یہ بھی ہے کہ اگر فوجی حکمران سیاستدانوں کو "ایبڈو" کریں گے، بات بے بات غدار قرار دیں گے، ان کو بے توقیر کر کے اس کا لطف لیں گے تو سیاستدان بھی وقت آنے پر ان سے اذیتناک انتقام لیں گے.
وہ خود چپ سادھ لیں گے اور فوج کو دشمن کے پروپیگنڈہ کے سپرد کر دیں گے. 1971 کی جنگ کا قضیہ بھی یہی ہے.
دنیا بھر میں فوجی ایکشن کی سپورٹ اور اس کی ذمہ داری سیاستدانوں کو لینا ہوتی ہے. اگر کسی فوج کے آگے یہ ڈھال موجود نہ رہے تو پھر وہی ہوتا ہے کہ کوئی یہ کہنے والا نہیں ہوتا کہ 16 دسمبر کو ڈھاکہ اور ایک اور شہر کے علاوہ باقی مشرقی پاکستان پر پاکستان کا ہی کنٹرول تھا. ہتھیار اس لیے ڈالنا پڑے کے گولہ بارود ختم ہورہا تھا اور ایک بار یہ ختم ہو جاتا تو وہاں مقیم مغربی پاکستان کے باشندوں، خواتین اور بچوں کے خون سے ہولی کھیل جاتی. پھر یہ کہ ہتھیار پھینکنے والوں میں 27000 کے لگ بھگ فوج تھی 93000 نہیں.
دشمن جو مرضی اعداد و شمار دے، اس کی مرضی ... جیسی بھی تصویریں جاری کی جائیں، اور ان کو جو بھی کیپشن دیا جائے... سب اس کے بس میں. کوئی نہیں کہتا کہ 8 مہینوں 3000000 قتل ؟ یعنی ہر روز 13/14000 قتل ؟ 200000 خواتین کی بے حرمتی؟ سب نے فوج کو پروپیگنڈہ کے تنور میں جھلسنے کے لیے چھوڑ دیا. اب "ہوش ٹھکانے" لگانے کی باری سیاستدانوں کی تھی.
فوج اور سیاستدان اپنے وقت پر ایک دوسرے سے حساب چکتا کرتے رہے ہیں، لیکن جڑیں ملک کی کھوکھلی ہوتی رہیں.
اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے. ہمیشہ کے لیے. فوج اپنا کام کرے اور اس میدان میں کچھ بڑا کر کے دکھائیں. سیاستدان اپنا کام کریں اور خود کو آئین اور جمہور کے سامنے جوابدہ بنائیں.
ایک ہی دن کے نام دو بڑے سانحات تو لگ چکے، مزید کی کوئی گنجائش نہیں دی جا سکتی.
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں