قاری حنیف
عرض احوال واقعی ،،،،
بخدا ھمیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر محدثین سے کوئی گلہ نہیں ھے ،، ھم ان کو انسان سمجھتے ھیں اور ایک انسان کی حد میں رھتے ھوئے ، اس زمانے کے محدود وسائل کے ساتھ جو ان سے ممکن ھو سکا انہوں نے اس سے بھی کچھ زیادہ کر دکھایا ،، مگر وہ انسان ھی تھے اگر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ٹرالیوں کے حساب سے گند صاف کیا ھے تو ٹوکروں کے حساب سے رہ جانا ان کا عیب نہیں بلکہ بعد والوں کی سستی اور تساھل پسندی ھے ،، جن امام بخاری کی نسبت لاکھوں گنا زیادہ وسائل دستیاب تھے مگر وہ کاپی پیسٹ کے سوا کچھ نہ کر سکے ،،،
امام بخاریؒ کے پاس نہ تو اپنا کوئی رجسٹرڈ مدرسہ اور مسجد تھی اور نہ ھی اوقاف کی جاگیریں ،جب تک کسی مسجد والے ان کو اجازت دیتے وہ حدیث بیان کرتے جس دن وہ چاھتے نکال باھر کرتے اور امام بخاری اپنے کپڑے تھیلے میں ڈال کر اگلی منزل کی طرف رواں ھو جاتے ،، اور اسی مسافری اور در بدری کی حالت میں وہ موت مانگ کر اللہ کو پیارے ھوگئے ،،، اللہ پاک ان کو غریقِ رحمت فرمائے اور ان کی قبر کو نور سے بھر دے ،، مسئلہ ان لوگوں کا ھے جن کے پاس 700 کنال پر محیط عطیئے کی جاگیریں ھیں جن میں مستقل رجسٹرڈ مدارس و جامعات و مساجد موجود ھیں ، جدید ترین مشینری ،مطبخ میں آلو چھیلنے سے لے کر مکمل بکرے کو چھوٹی بوٹی میں تبدیل کرنے والی مشینیں موجود ھیں ،، مگر یہ حضرات خود وہ کام نہ کر سکے جس کو بگاڑا بھی ان لوگوں نے خود ھے ،،،
خود امام بخاریؒ کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ بعد والے اکابر پرست ان کو نبئ کریم ﷺ کی طرح معصوم اور ان کی کتاب کو قرآن کی طرح لا ریب بنا لیں گے ،، رسول اللہ ﷺ کے سوا باقی کا اتباع جب ھم کرتے ھیں تو ھمیں اپنے عقل و شعور اور علم و تجربے کو بھی بروئے کار لانا چاھئے ، ایک صاحب جنہوں نے میری دعوت کی مجھے لینے آئے تو کہا کہ آپ میرے پیچھے پیچھے چلے آئیں ، میں ان کے پیچھے چل پڑا جس طرف کا انڈیکیٹر وہ لگاتے میں بھی لگا لیتا اور جس ٹریک میں وہ جاتے میں بھی چلا جاتا ،، عمارتوں کے درمیان ایک کراس روڈ تھی جس میں چاروں طرف سے رستے آتے تھے ، وہ صاحب وھاں سے جھٹ سے نکل گئے مگر میں نے بریک پر پاؤں رکھ کر گاڑی آئستہ کر لی جو دوست میرے ساتھ بیٹھے تھے انہوں نے کہا کہ وہ نکل گئے ھیں آپ بھی نکلئے ،، میں نے عرض کیا کہ ان کا نکل جانے کا فیصلہ اپنے وقت کے لحاظ سے مناسب اور صحیح تھا ، مجھے اپنا فیصلہ اپنی سیچوئیشن کے مطابق کرنا ھے ، میرے گاڑی آئستہ کرتے ھیں ایک کار زوووووووں کرتی ھوئی ھمارے سامنے سے گزری ،، میں نے اپنے دوست سے کہا کہ اگر میں اندھا بن کر ان کا اتباع کرتا چلا جاتا تو اس گاڑی نے آپ کی پسلیاں توڑ دینی تھیں مگر میں ڈارئیور ھوں مجھے ھر امکان کو مد نظر رکھنا ھوتا ھے ، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں شیعہ کا جو اسٹیٹس تھا اس کے مطابق انہوں نے فیصلہ کیا ،، جناب آپ تو شیعہ کو کافر بنائے بیٹھے ھیں اور صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں والی کیفیت پیدا کر رکھی ھے ، آپ کا سوادِ اعظم کھل کر ان کو مسلمان نہیں کہتا ، الٹا سینہ گزٹ کے طور پر تمام اھلسنت ان کو کافر ھی کہتے ھیں ، اور عوام میں یہی مشہور کر رھا ھے ،عبدالعزیز محدث دھلوی سمیت بڑے بڑے اکابر کے فتوے موجود ھیں اور ان سے شادی بیاہ اور جنازے کا تعلق ختم کر رکھا ھے ،، اس صورت میں اعتراض امام بخاریؒ پر نہیں ان بزرگوں پر اٹھتا ھے کہ اپنے فتوؤں کے نتائج کا سامنا کرو اور کتا کنوئیں سے نکال کر لوٹے نکالو ،، ان کا لٹریچر اپنی صحاح ستہ میں بھر کر ھر ساقل دورے پہ دورے کراتے چلے جا رھے ھو اور ساتھ ان کو کافر بھی کہتے ھو ، یہ تو ایسا ھی ھے جیسے کوئی کہے کہ گائے ذبح کرنے والا تو سکھ تھا مگر گائے حلال ھے ،، کیونکہ گائے کا گوشت آپ کو مرغوب ھے ،،
یہ عذر بھی نہیں چلتا کہ اس وقت کے شیعہ مومن تھے اور آج کل کے شیعہ کافر ھیں ،، آپ نے تفصیل سے پڑھ لیا ھو گا کہ ان کے بارے میں بھی رافضی رافضی کے القاب سے ھمارے اسماء الرجال کی کتابں بھری پڑی ھیں ،، امیر معاویہؓ کے بارے میں ان کے خیالات بھی درج ھیں پھر بھی اس کو مسلمان ھی سمجھا گیا ھے ،،،
جب تک غلام احمد قادیانی کو کافر قرار نہیں دیا گیا تھا ، تب تک وہ خادمِ دین اور مناظر اسلام کہلاتا تھا ،، ھمارے ھی بزرگوں کے اس کو دیئے گئے خیر مقدمی القاب آج قادیانی ھم کو دکھاتے ھیں ،،
پھر جب آپ نے ان کو کافر قرار دیا تو اس کے بعد آپ کو اپنا موقف تبدیل کرنا پڑا اور اس کے لئے آئینی و قانونی ضروریات کو پورا کیا گیا ،،،،
ائمہ حدیث کے زمانے میں شیعہ کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا حامی و طرفدار تو سمجھا گیا مگر " کافر کافر شیعہ کافر ، جو نہ مانے وہ بھی کافر " کا نعرہ نہیں لگا تھا ،، آپ محدث دھلوی کی کتابیں چھاپیئے یا اپنے اکابر کے فتوے نکال نکال کر دکھایئے ،، سوال یہ ھے کہ جب آپ نے شیعہ کو کافر جانا تو پھر کفار کی روایتیں اپنے لٹریچر سے نکالنے کی کوئی سعئ مشکور کیوں نہ کی ؟
نیز عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کیوں نہ کیا کہ ان کافروں کی راویتوں پر ھی ھمارا مروجہ دین کھڑا ھے ،، بس ایک راوی کو ھلا دیا تو پورے سلسلہ احادیث کے فیوز اڑ جائیں گے ، اور حدیث کی کتابیں بس بغدادی قاعدے جتنی رہ جائیں گی ،جن کو ھر کوئی حفظ کر کے شیخ الحدیث بن سکتا ھے ،،
آج ایک حدیث یا ایک راوی پہ انگلی رکھی جائے تو زلزلہ کیوں آ جاتا ھے ؟ اس لئے کہ ھمارا مروجہ دین اپنی اصل یعنی قرآن پر نہیں کھڑا ،، بلکہ راویتوں کی ٹانگوں پر کھڑا ھے جس میں قرآن بس ٹیکنے والی لاٹھی کے طور پر ھی استعمال ھوتا ھے ،،
ایک طرف شیعہ کو کافر قرار دے کر ان کے بچوں عورتوں اور مردوں کو بغیر کسی تمیز کے جنازوں اور امام بارگاھوں میں نشانہ بنایا جا رھا ھے ، گاڑیوں سے نکال کر شناختی کارڈ چیک کر کے ٹھنڈے خون کے ساتھ مارا جا رھا ھے اور دوسری جانب انہی شیعہ کی روایتوں کا دورہ شریف بھی کیا جاتا ھے، ،،
یا تو ھمت کرو اپنے معتقدین کو کھل کر کہو کہ شیعیت کے ساتھ ھمارا سیاسی اختلاف ھے ،دینی نہیں ھے ،، لہذا قتلِ عام بند کرو اور اسلام کے چہرے کو داغدار مت کرو ،، ورنہ اپنی صحاح ستہ میں سے تمام شیعہ راویوں کی روایتوں کو قادیانیوں کی طرح چھانٹ کر الگ کر دو ،،
امت میں آپس کے قتل و قتال کے ذمہ دار یہی ھمارے علماء و مشایخ ھیں جو حق بات کہنے سے ڈرتے ھیں کہ مبادا چندے کی آمدن میں کوئی کمی ھو جائے ،، خون مسلم بہتا ھے تو بہتا رھے ،،
لوگوں کو جذباتی طور پر بھڑکا کر کسی کے پیچھے لگا دینا ، مافیا ٹائپ کارروائی کے سوا کچھ نہیں ،، اس سے حق کو دبایا یا چھپایا نہیں جا سکتا ، لاریب کتاب بس ایک ھی ھے اور وہ ھے قرآن حکیم ،جس میں باطل نہ فرنٹ ڈور سے اور نہ بیک ڈور سے داخل ھو سکتا ھے ،، لا یأتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ ، تنزیل من حکیم حمید ،،
بخاری و مسلم میں انتہائی احتیاط کے باوجود بہت کچھ ناقص بھی شامل ھوا ھے ، لہذا علماء اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور ان کتابوں کو قرآن پر پیش کر کے درست کریں نہ کہ قرآن کو منسوخ و معطل کریں ،،
وما علینا الا البلاغ المبین ،،
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں