فرنود عالم
’’ریاست کا فارمولا‘‘ پارٹ 4
آرٹیکل 62 اور 63 ہمارے آئین کا حصہ ہے۔
یہ آرٹیکلز کیا کہتے ہیں۔۔؟؟؟
کہتے تو یہ بہت کچھ ہیں مگر حرم کے پاسبا نوں کیلئے اس میں کام کی باتیں کل ملا کر دو ہیں ۔ وہ کیا؟
وہ یہ کہ ممبر پارلیمنٹ کو صادق یعنی سچا اور امین یعنی کہ دیانت دار ہونا چاہیئے۔
ہمارے ہاں کے فاضل مسلمان آرٹیکل کی ان دو ذیلی شقوں پہ شدت کے ساتھ اصرار کرتے ہیں۔ کیوں۔۔؟؟
کیونکہ ان کی نظر میں پاکدامنی کی علامت یہ ہے کہ انسان کو چھ کلمے پانچ سورتیں تین حدیثیں پوری دعائے قنوت اور چند آیتیں بمع آیۃ الکرسی زبانی یاد ہوں۔ مرد کی داڑھی اور خواتین کا پردہ اس کے علاوہ ہے۔
یہ رہی پارلیمنٹ اور یہ رہے دونوں آرٹیکلز ۔ سب موجود ہے مگر وہ ممبر نظر نہیں آرہے جو اس پارلیمان اور دو آرٹیکلز کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوں۔ کیوں نظر نہیں آرہے۔ کوئی خاص وجہ ؟؟؟
اس کی ایک وجہ وہ ہے جو ’’مسلمان‘‘ بیان کرتے ہیں۔ دوسری وجہ وہ ہے جو زمینی حقائق بیان کرتے ہیں۔
مسلمانوں والی وجہ کونسی ہے۔ چلیں سنیں
’’چونکہ نظام درست نہیں ہے۔ جمہوریت نافذ ہے۔ اسلامی قانون نہیں ہے۔ طریقۂ انتخاب درست نہیں ہے ۔ اس لیئے پاک پوتر لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں اور گندے انڈے آگے نکل جاتے ہیں۔۔‘‘
زمینی حقیقتیں کیا کہتی ہیں۔۔؟؟ کان رکھتا ہے تو دریاؤں کی روانی پہ نہ جا۔ سنیں
’’آپ وضو کریں۔ مشک و عنبر لگائیں۔ چراغِ رخِ زیبا اٹھایئں۔ اس پہ آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کی دھونی دیں۔ احترام سے ہتھیلی پہ رکھیں۔ خیبر سے چل پڑیئے۔ چل پڑیئے اور کراچی کے ساحلوں تک جا پہنچیئے۔ جتنے دامن ہاتھ آئیں نچوڑ لیں۔ جتنے شملے ملیں ناپ لیں۔ جتنے کوچے نظر آئیں جھانک لیں۔ جتنے رند نظر آئیں تاک لیں۔ کچھ دیر اعداد و شمار کیجیئے۔ چراغ بیگ میں رکھیں اور واپسی پہ اسلام آباد آئیں۔ میرے ساتھ بیٹھیں اور مجھے بتائیں کہ بیس کروڑ انسانوں میں دودھ کے دھلے اور زمزم کے نہائے آپ کو کتنے ملے۔’’
دل بہلانے کو آپ ضرور کہیں گے کہ تلاش کے اس سفر میں کچھ لوگ ایسے بھی ملے جو پارسائی کا ایک پیکر نفیس تھے۔ جب آپ یہ کہیں گے تو میں سوال کروں گا کہ
’’ کیا وہ اس بات کے اہل بھی تھے کہ انہیں اقتدار کی زمام تھما دی جائے۔؟ کیونکہ ریاست اوراد و وظائف اور چلہ و طواف سے تو نہیں چلتی‘‘
بات بہت سمپل ہے۔ کیا؟
یہ کہ جب ایک جنس بازار میں ہی دستیاب نہیں ہے وہ میرے اور آپ کے گھر کیسے پہنچ سکتی ہے۔ پکارنے سے اور سوچنے سے وہ جنس حاضر نہیں ہو سکتی۔ یہ جو حکمران آتے ہیں یہ میرے اور آپ کے بیچ پیدا ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ ہم سے ہٹ کر کوئی مختلف چیز نہیں ہیں۔ ممبر بنتے ہی ان کی اخلاقیات کا سافٹ وئیر اپڈیٹ نہیں ہوجاتا۔ بات یہ ہے کہ جیسا سماج ہوگا ویسی ریاست ہوگی۔ یہ کمبخت باسٹھ تریسٹھ سماج میں ہوگا تو پارلیمنٹ میں ملے گا نا۔
اچھا ایک بات پہ ذرا غور کریں۔۔۔پلیز!!!!!
آپ چاہتے ہیں کہ اسلامی ریاست ہو۔ ہاتھ پاؤں سر کاٹنے والی سزائیں بیک جنبش قلم نافذ ہوں۔ اس کیلئے تربیت کا یا سماج کے معیار زندگی بلند ہونے کا انتظار ضروری نہیں ہے۔ یہی ہے نا؟
فرض کریں پاکستان میں خداوندانِ مذھب کا اکٹھ ہوجاتا ہے۔ دوتہائی اکثریت ملتی ہے اور پارلیمنٹ میں پہنچ جاتے ہیں۔ اب یہ تمام سزائیں بروئے کار آئیں گی یا نہیں؟
اگرنہیں، تو کیوں۔۔؟؟
اگر ہاں، تو پھر تماشہ دیکھیئے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے متعدد راہنماؤں کو آپ قصاص کی سولی پہ لٹکا دیں گے۔ جو رہ جائیں گے ان کے ہاتھ کاٹ دیں گے۔ مزید جو بچ رہے ان میں سے آدھوں کو رجم کردیں گے اورآدھوں کو سو کوڑے مار دیں گے۔ خود مذھبی جماعت کے کتنے افراد ہیں جن کے آپ ہاتھ نہیں کاٹیں گے ؟
چلیں سماج کی طرف چلیں۔ کچھ لاکھ سے قصاص لے لیں گے۔ کچھ کروڑ کو رجم کردیں گے۔ کروڑوں کے ہاتھ کاٹ دیں گے۔ فٹ پاتھوں پہ لٹا کر نصف سے زیادہ سماج کو کوڑے ماریں گے ۔ ایک دن آپ رجم قصاص اور دیگر جرائم والوں کو مائنس کرکے حساب لگائیں گے تو آپ کی آبادی نصف ہوچکی ہوگی۔ اس نصف آبادی میں نصف وہ ہوں گے جو ایک ہاتھ سے سر کھجائیں گے۔ ازاربند ایک ہاتھ سے ڈلے گا نہیں تو شکور کو بلائیں گے۔ شکور کا ہاتھ کٹا ہوگا تو غفور کو آواز دیں گے۔ غفور دوسرے کمرے میں اوندھا پڑا اپنی کمر کے کوڑے سہلا رہا ہوگا۔۔
چلیں میری بات کو مبالغہ ہی کہہ لیں۔ مگر حقیقت کیا اس کے برعکس ہے؟ آپ سماج کی ضرورتیں پوری کیئے بغیر حدود لاگو کرنے کا جواز رکھتے ہوں گے؟
کیایہ بات آپ کوفطرت کے عین مطابق لگتی ہے کہ آپ تربیت کے بغیر اس ریاست کی تشکیل کیلئے مرے جائیں جس کا خاکہ آپ کے ذہن پہ سوار کردیا گیا ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سماج کو نہیں، ریاست کو کلمہ پڑھا دینے سے ریاست مسلمان ہوجاتی ہے؟ یہی درست ہے کیا ؟
اگر ہاں، تو کیسے؟
اگر نہیں، تو کیوں؟
بھائی میرے !! سماج کا رویہ ہی تنہا وہ طاقت ہے جو ریاست کی سمت کو متعین کرتا ہے ۔۔۔!!!!
اچھا چلیں ایک بات بتائیں۔ قیمے کی مشین دیکھی ہے آپ نے۔۔؟؟؟
آپ قیمے کی مشین لیں۔ اسے زمزم سے دھولیں۔ لوبان کی دھونی دیں۔ پھر قلم اٹھائیں
مشین کی دائیں جانب لکھیں،بڑی ہے وہ ذات جس نے گوشت کو حلال کیا۔!
مشین کی بائیں جانب لکھیں، یہ صدی گوشت کی صدی ہے۔۔!!
مشین کے ماتھے پہ لکھیں،گائے تیرے گوشت سے انقلاب آئے گا۔!!
مشین کے پچھواڑے پہ لکھیں،کریلے کا جو یار ہے گوشت کا غدار ہے۔!
مشین کے اوپر لکھ دیں،گوشت کا پیغام ہر گھر تک پہنچ کر رہے گا۔۔!
مشین کے نیچے لکھ دیں،گوشت تیری عظمت کو عقیدت کا سلام۔!
مشین کے داخلی کان میں گوشت کی اذان دیں
مشین کے خارجی کان میں گوشت کی تکبیر کہیں
یہ سب کرنے کے بعد اول و آخر درود شریف کیساتھ اکتالیس مرتبہ گوشت کا ورد کریں۔ پورے خلوص کیساتھ مشین پہ پھونک دیں۔۔ مشین آن کریں۔ اب ایک کلو امرود اٹھائیں اور مشین میں انڈیل دیں ۔۔
مشین کی دوسری جانب سے کیا نکلے گا۔۔؟ گوشت۔۔؟؟؟؟
اتنا کچھ لکھ دینے اور پڑھ کے پھونک دینے کے بعد بھی گوشت نہیں نکلے گا؟؟
کیوں ، ایسا کیوں۔۔؟؟؟
سر دھنیئے صاحب سر دھنیئے۔
اسی لیئے تو کہتا ہوں
آپ کی خوش فہمی کی قسم۔!!! قانون سے نہیں، معاشرے تربیت سے وجود میں آتے ہیں۔ اور یہ کہ ریاست معاشرے کی ہی آئینہ دار ہوتی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں