جوگی
فلمیں ہمیں کیا سکھاتی ہیں
بہت سے دوستوں کو سمجھاتے وقت ، میں اکثر "کراٹے کِڈ" فلم کی مثال دیتا ہوں۔ ابھی ایک ماہ پہلے ایک نکتہ سمجھاتے ہوئے ، عدیل سے پوچھا کراٹے کڈ دیکھی ہے؟ بولا بالکل دیکھی ہے۔ میں نے پوچھا :۔ گڈ ، اس سے کیا سیکھا ہے؟ بولا : یہ سیکھنے والا آئیڈیا تو آپ سے بات کرتے ہوئے آیا ، اس وقت بس سرسری طور پر فلم دیکھ لی تھی۔
بجائے اس کے کہ انبکس میں سب کو الگ الگ سمجھانا پڑے ، مناسب ہے کہ عوامی استفادے کیلئے ایک تحریر کی صورت بیان کردوں
پسِ منظر
کراٹے کڈ ایک امریکی سیاہ فام بچے کی کہانی ہے۔ جس کی ماں سفارت خانے میں ملازم ہے اور اس کا تبادلہ چین میں امریکی سفارت خانے میں ہوگیا ہے۔ بچے کا یہاں دل بھی نہیں لگتا ، اس پہ مستزاد سکول اور کالونی میں چینی بچے ، اسے ثواب سمجھ کر تنگ کرتے ہیں۔ بچے نے ماں سے شکایت کی ، ماں کیا کرتی ، وہ سکول کی پرنسپل کے پاس شکایت لے کر گئی ، پرنسپل نے بچوں کو ڈانٹا اور کہا اب آپ بے فکر ہو جائیں۔ لیکن وہ بھلا ایک ادھ زنانی ڈانٹ سے کہاں سدھرنے والے تھے۔ بچے نے ماں سے پھر شکایت کی تو ماں نے یہ سمجھ کر جھٹک دیا کہ چونکہ یہ یہاں نہیں رہنا چاہتا ، اس لیے خود ہی بہانے گھڑ لاتا ہے۔ ماں نے سختی سے انکار کردیا اور اپنی جاب کی مجبوری بتائی۔ بچے کے پاس اب سوائے تنگ ہوتے رہنے کے اور کوئی چارہ نہیں ہے۔
لیکن بات تنگ کرنے سے بڑھ مار کٹائی تک پہنچ جاتی ہے۔ کراٹے تو چین کا قومی کھیل ہے لہذا وہاں کا بچہ بچہ بروس لی اور جیٹ لی ہے۔ ایک دن شرارتی بچے مل کر اس کی دھلائی کر رہے تھے کہ جیکی چن کا وہاں سے گزر ہوا۔ اس نے اسے ان کے چنگل سے چھڑایا ۔
جیکی ایک کھڑوس بڈھا ہے ، جو کم گو ہی نہیں مردم بیزار بھی ہے۔ اتفاق سے یہ اس بچے کا ہمسایہ بھی ہے۔ بچے کو معلوم ہوا کہ کسی زمانے میں یہ کھڑوس بڈھا (جیکی) مارشل آرٹ انسٹرکٹر تھا، تو وہ اس کے پیچھے پڑ گیا کہ مجھے بھی کراٹے سکھاؤ، تاکہ میں اپنی حفاظت خود کر سکوں۔ لیکن جیکی اس کی بات کا جواب دینا تو دور اس کی بات توجہ ہی سے نہیں سنتا۔
روز روز اپنی درگت بنواتے بنواتے بچہ بھی تنگ آیا ہوا تھا، اس لیے اس نے بھی جیکی چن کی جان نہیں چھوڑی ، جب تک اس نے کراٹے سکھانے کیلئے حامی نہیں بھر لی۔ اگلے دن فلاں وقت تیار ہو کر آجانا۔
اگلے دن بچہ خوش خوش کراٹے سیکھنے کیلئے پہنچتا ہے ، اور دروازے سے داخل ہوتے ہی خوشی سے چلاتا ہے ، ماسٹر میں آگیا ہوں ، اب جلدی سے مجھے کراٹے سکھائیے ، تاکہ میں ان شریر بدمعاشوں کو سبق سکھا سکوں۔
سبق
جیکی :۔ اپنی جیکٹ اتارو
بچہ :۔ اتار لی
جیکی:۔ کھونٹی پہ ٹانگ دو
بچہ :۔ ٹانگ دی
جیکی:۔ کھونٹی سے جیکٹ اتارو
بچہ :۔ (حیرانی سے) اتار لی
جیکی:۔ جیکٹ پہن لو
بچہ:۔ (حیرانی سے) پہن لی
جیکی :۔ جیکٹ اتارو
بچہ :۔ (کسی قدر جھنجھلا کر) اتار لی
جیکی :۔ کھونٹی پہ ٹانگ دو
بچہ :۔ ٹانگ دی
جیکی:۔ کھونٹی سے جیکٹ اتارو
بچہ :۔ اتار لی
جیکی :۔ جیکٹ پہن لو
بچہ :۔ (اکتا کر) پہن لی
جیکی :۔ جیکٹ اتارو
بچہ :۔ (کسی قدر چڑا ہوا ہے) اتار لی
جیکی :۔ کھونٹی پہ ٹانگ دو
بچہ :۔ ٹانگ دی
جیکی :۔ جیکٹ کھونٹی سے اتارو
بچہ :۔ اتار لی
جیکی :۔ جیکٹ پہن لو
اور بچے کی برداشت جواب دے گئی۔ اس نے غصے سے جیکٹ زمین پر پھینکی اور کہا آپ مجھ سے مذاق کر رہے ہو؟ میں اپنی حفاظت کیلئے کنگفو سیکھنے آیا ہوں اور آپ مجھے جیکٹ اتارو ، کھونٹی پہ ٹانگو پھر اتارو اور پہن لو کی پریکٹس کروا رہے ہیں۔
جیکی ہر قسم کے تاثرات سے پاک سپاٹ چہرے کے ساتھ بچے کے پاس آیا ، زمین سے گری ہوئی جیکٹ اٹھائی اور بولا :۔ تمہارا کیا خیال ہے؟ کنگفو مار دھاڑ کا نام ہے؟ تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ایک ہی دن میں پنچ اور کک مارنے میں ماہر بن جاؤ گے۔ یاد رکھو ، کنگفو مار کٹائی کا نام نہیں ، بلکہ کنگفو ٹیکنیک برداشت کرنا سکھاتی ہے۔ مارشل آرٹ حریف کو مارنے پیٹنے کا نام نہیں ، بلکہ ضبط نفس کا نام ہے۔ آپ کیسے کسی دشمن پر قابو پانے کی امید رکھ سکتے ہو جبکہ آپ اپنے غصے پر اپنے منفی جذبات پر اور اپنے آپ پر قابو نہیں پا سکتے۔ ہمارے دشمنوں کی فہرست میں ہمارے سب سے بڑے دشمن ہم خود ہوتے ہیں۔ لہذا کنگفو آپ کو پہلے اپنے آپ سے لڑنا اور برداشت کرنا سکھاتی ہے۔
اور دوسری بات یہ کہ شاگرد جب تک ماسٹر کی عزت نہیں کرتا ، وہ اس سے کیسے کچھ سیکھ سکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ماسٹر کے احکامات فوری طور پر سمجھ بھی آ جائیں ، لیکن شاگرد کے دل میں ماسٹر کی عزت ہوگی تو اسے یقین رہے گا کہ ماسٹر جو بھی سکھا رہا ہے میرے ہی فائدے کی چیز سکھا رہا ہے۔ تمہیں اس بات کی جلدی تھی کہ میں تمہیں پنچ مارنا ، کک مارنا اور حریف کے حملے کو بلاک کرنا سکھاؤں۔ لیکن سکھانے کیلئے ضروری نہیں کہ میں تمہیں صرف لگی بندھی ٹیکنیکس سکھاؤں۔ جیکٹ اتارنے ، کھونٹی پہ ٹانگنے کا جو عمل تمہیں بے کار اور اکتا دینے والا لگ رہا تھا ۔ یہ دراصل کنگفو کی کچھ ابتدائی ٹیکنیکس کی پریکٹس تھی۔ اور اس کا دوسرا فائدہ تمہارے اندر ٹھہراؤ اور برداشت پیدا کرنا تھا۔
پھر جیکی نے اسے جیکٹ پہنتے وقت بازوؤں کے مڑنے کا زاویہ ، جیکٹ اتارتے وقت بازؤں کی پوزیشن ، اور کھونٹی پہ ٹانگتے اتارتے وقت بازوؤں کی پوزیشن کو جیکیٹ کے بغیر کرکے دکھایا ۔ اور کہا :۔ تم صرف ایک ضدی اور جلد باز بچے ہو جو اپنے آپ کو ماسٹر سے بھی سیانا سمجھتا ہے۔ اب یہاں سے دفع ہو جاؤ ، میں تمہیں سکھانے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔
اس کے بعد فلم کی مزید کہانی اور بچے کی مارشل آرٹ سیکھنے کی جدوجہد ہے ، جنہیں دلچسپی ہو وہ فلم خود دیکھ سکتے ہیں۔ میری نظر میں فلم کا جو منظر شہکار اور سبق سے بھرپور تھا ، اور جس سے میں نے بہت کچھ سیکھ کر زندگی میں بہت کچھ حاصل کیا ، وہ یہی منظر تھا۔ یہ کوئی سنی سنائی گپ نہیں ہے ، کہ کس طرح ایک فلم میں دیکھی گئی بات پر عمل کرنے سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔
بہت سے لوگ مجھ سے متاثر ہوجاتے ہیں ، انہیں لگتا ہے کہ (صرف) استاد جی استاد جی کہہ کر وہ مجھ سے بہت کچھ سیکھ لیں گے۔ سکھانے کے معاملے میں الحمد للہ بخیل نہیں ہوں (یہ دوست دشمن سب جانتے ہیں) اس کے باوجود وہ مجھ سے سیکھ نہیں سکتے ۔ دو دو سال چار چار سال مجھے پڑھتے پڑھتے بیت گئے ، لیکن وہ مجھ سے کچھ سیکھ نہیں سکے۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے ، کہ سیکھنے کیلئے شاگرد بننا پڑتا ہے۔ منہ سے استاد جی کہتے رہنا اور شاگردی کا اعتراف کرنا، ہوا میں محل بنانا ایک برابر ہے۔ سیکھتے وقت ضروری ہے کہ اپنی "میں" پر کنٹرول کیا جائے۔ اپنی عمر بھولنا پڑتی ہے۔ شاگرد ہونا پڑتا ہے۔
جڈاں عشق فرید استاد تھیا
سب علم ، عمل برباد تھیا
پر حضرت دل آباد تھیا
سو وجد کنوں ، سو حال کنوں
فلمیات ِ جوگی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں