کشتہ خر
کشتہء خربالشت ---- ظفرجی
ایک بار حکیم صاحب دکان پر تشریف لائے تو ہاتھ میں مٹّی کی ھانڈی تھی-
کہنے لگے:
" آج وہ کشتہ بنانے لگا ہوں کہ دنیائے مردمی میں انقلاب آ جائیگا- زن بیزار اٹھ کھڑے ہونگے ، اور مردم بیزار بھاگتے نظر آئیں گے"
میں نے کہا " اگر شنگرف کا حلوہ بنا رہے ہیں تو چکھائیے گا ضرور"
بولے ہر وقت پیٹ سے سوچتے ہو- ہانڈی میں گڈوئے (جونکیں) ہیں- کشتے کی تیاری کےلئے تمہیں میرے ساتھ باہر چلنا ہوگا-
میں نے کہا " کسی دوسرے شاگرد کو لے چلئے ، مجھے کیڑوں مکوڑوں سے خوف آتا ہے "
دواخانے میں میرا کام حکیم اجمل دھلوی کی "گلدستہء حکمت" کا سلیس ترجمہ لکھنا تھا- نہ تو مجھے "دوری ملناں" چلانا آتا تھا ، نہ ہی سانڈے پکڑنے کے طریقوں سے واقف تھا-
بہرحال اس روز کاکا چُھٹی پر تھا ، حکیم صاحب کے شدید اصرار پر مجھے ہی آؤٹ ڈور شوٹنگ پر جانا پڑا-
ہم چلچلاتی دھوپ میں گاؤں سے مُلحقہ چراگاہ پہنچے- یہاں کمہاروں ، دھوبیوں اور مُسلّیوں کے خرہائے نمایاں چر رہے تھے-
وہ بولے: "تم گدھے کو تیار کرنا- میں جونک چپکاؤں گا"
میں نے کہا: "واللہ یہ کام مجھ سے نہ ہو گا"
وہ بولے: "ٹھیک ہے ، میں گدھے کو تیّار کرتا ہوں ، تم جونک چپکاؤ "
میں نے کہا" بخدا یہ بھی مجھ سے نہ ہوگا ، اتنے خطرناک مقام پر جونک چپکانا ..... امرِ محال ہے ... !!! "
بولے سب سے آسان کام روٹی کھانا ہے ، وہ تم شوق سے کھاتے رہو ، روٹی کمانا تم جیسوں کا کام نہیں- اب دفع ہو جاؤ .... میں اکیلے ہی دونوں کام سنبھال لونگا"
میں خاموشی سے چلتا ہوا ایک درخت کے نیچے جا بیٹھا- حکیم صاحب گدھوں کو بہلانے پھسلانے میں مصروف ہو گئے-
کوئ گھنٹہ بھر کے بعد وہ ہانپتے کانپتے ہانڈی اٹھائے واپس آئے اور کہا:
"تمہارے عدم تعاون کی وجہ سے دو جونکیں کام سے گئیں- تمہیں پتا ہے کس قدر مشکل کام ہے جونک پکڑنا"
میں نے کہا : " ہاں ، لیکن اس سے بھی مشکل کام وہ مقام پکڑنا ہے ، جہاں آپ نے جونک چپکائ ہے "
وہ بولے " فی جونک دس روپے تمہاری تنخواہ سے کاٹوں گا"
میں نے کہا: "میں بھی "گلدستہء حکمت" کا ایسا ترجمہ کرونگا کہ مریض اچھلتے پھریں گے"
یوں ہم لڑتے بھڑتے واپس مطب پہنچ گئے- انہوں نے ان جونکوں کا تیل نکالا اور کشتہ کی تیّاری میں مصروف ہو گئے-
کشتہء خَر بالِشت علاقے بھر میں مقبول ہوا- یہاں تک کہ کچّا کھوہ ، اور اوکانوالا بنگلہ کے زن بیزار بھی بھاگے چلے آئے- علاقے بھر کے حکماء کی دکانیں ویران ہو گئیں اور "مطب شیراں والا" پر عوام نے رش کیا-
نوٹ:
میں ایک دفتری کام کے سلسلے میں جُبیل (سعودیہ) آیا ہوا ہوں- اگر کوئ دوست ملاقات کی خواہش رکھتا ہے تو دل ماء شاد-
( ظفرجی)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں