سوشل ڈس آرڈر ---- ظفرجی
" لاء آف دی .... سوشل انوائرمنٹل آف دی.... ڈِس آرڈر .... آف دی .... " وغیرہ وغیرہ کے نام سے ڈاکٹر صاحب معاشرتی بیانئے کا ایک نہایت اہم اصول وضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
" جب معاشرتی بیانیہ سیاسی و مذھبی حالات ، رسم و رواج یا روزمرہ معمولات کے تابع ہو جائے ، اسے معاشرتی اپاہجگی کہا جا سکتا ہے"
اس ضمن میں دینیات کے ایک استاد و شاگرد کے بیچ ہونے والاتاریخی و عِلمی مکالمہ خاصا دلچسپ و عجیب ہے جو بلا کم و کاست پیشِ خدمت ہے:
استاد: اوئے دِتیا ... سویر دی بانگ ملے تے کی کرّی دا .... !!!
شاگرد: چاہ پکائ دی ... !!!
استاد: لخ دی لانت .... پیشی دی بانگ ملے تے ؟؟
شاگرد: فیر چاہ پکائ دی ... !!!
استاد: او لانتیا .... میں نماج دی گل پچّھی ... دِیگر دی بانگ ملے تے کی کرّی دا ؟؟
شاگرد: اسی پٹّھے وڈھّی دین ... مولی صاب نماز پڑھدین !!!
استاد: الو دیا پٹّھا .... !!! کن پھڑ لے !!
اس پر ہونہار شاگرد کھڑے کھڑے کان پکڑ لیتا ہے-
اس مکالمے کے تناظر میں ڈاکٹر صاحب مستقبل کا علمی مکالمہ کچھ یوں تشکیل دیتے ہیں:
استاد: اوئے دِتیّا .... مسلمان کِنّوں کہندے آ ؟
شاگرد: جہڑا باقیاں نوں کافر آکھے !!!
استاد: کافر کِنوں کہندے آ ؟
شاگِرد: جیہڑا مُحَرماں وچ پِٹّے !!!
اُستاد: فٹّے مونہہ .... کن پھڑ لے
اور شاگرد آگے بڑھ کر استاد کے کان پکڑ لیتا ہے-
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں