تلخی

ہم میں سے زیادہ تر جو ہوتے ہیں وہ سوشل میڈیا پر نظر نہیں آتے ۔
اس کی وجہ صرف یہ ھے کہ ہم سب یہاں لفظوں کے جادوگر ہیں ۔ لفظوں سے محل بناتے ہیں ۔لفظوں سے سبز باغ دکھاتے ہیں ۔الفاظ ہمارا ہتھیار ہوتے ہیں اور ہم بے دریغ اسے استعمال کرتے ہیں ۔کوئی یہاں فلسفی ھے ۔کوئئ شاعر ،کوئی تجزیہ نگار ھے ،کوئی حاضر جواب ھے ،کوئی گہرا مشاہدہ کرتا ھے ۔کوئی غمگین ھے ۔ کسی کا حس مزاح بہت اچھا ھے ۔
مگر سچ تو یہ ھے کہ ہم سب کہیں اندر سے ٹوٹے پھوٹے لوگ ہیں ۔جیسے کوئی شرابی غم غلط کرنے کے لئے پیتا ھے ۔ہم بھی addicted ہیں سوشل میڈیا کے۔ اپنوں سے دوری ہمیں غیروں سے قریب لے گئی ھے۔ وجہ یہی ھے کہ جب ہمیں آئینے میں اپنی شکل نظر آتی ھے ۔(اپنوں کی بےزاری یا نا پسندیدگی کی صورت میں) ۔تو ہم چہرے پر میک اپ کر کے کسی اور کو دکھاتے ہیں ۔تاکہ کہیں سے تو تعریف ملے ۔
میرے جیسا منہ پھٹ ،بد تمیز انسان بھی یہاں علمیت جھاڑتا ھے ۔جس کی بات پر گھر والے منہ  بناتے ہیں وہ یہاں مذاق بھی کرے تو لوگ بھانڈ یا میراثی نہیں کہتے بلکہ حس مزاح کی تعریف کرتے ہیں ۔
یہیاں بات کرنے والے کو "جا اوئے وڈا فلسفی" نہیں کہتے بلکہ "بہت خوب" کہتے ہیں ۔
لوگ منافق بننا نہیں چاھتے ۔ مگر پھر بھی بننا پڑتا ھے۔ گھر میں کچھ اور ، یہاں کچھ اور ۔
کوئی دس منٹ بھی گھر میں کسی کو دینے کے لئے تیار نہیں ۔ یہاں دو دو گھنٹے ایک دوسرے سے بات کی اور سنی ،پڑھی جاتی ھے ۔
یہاں کوئی نہیں کہتا " چپ کر ،اسی جان دے آں تینوں "
یہاں کہا جاتا ھے ۔"جی ہم سمجھ رھے ہیں آپکی بات" ۔
ہم اور آپ سب وہی ہیں جن سے ملکر معاشرہ بنا ھے ۔ ہم ان گھروں سے تعلق رکھتے ہیں ۔جن میں ہمارے ساتھ رھنے والے سے اگر غصہ کریں تو ایکدوسرے کو طعنوں میں پرو دیا جاتا ھے ۔اور اسی فیس بک پر ایکدوسرے سے ہی بات کرنے کے بعد دس دس بار معذرت کی جاتی ھے ۔
کوئی بھی رویہ یکطرفہ نہیں ھوتا ۔ یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ھے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم