جوگی غالبیات
ہر شمیمے را مشامے درخور است
بوئے پیراہن بہ کنعاں می رود
ترجمہ:۔
ہر خوشبو کیلئے مشام بھی اس کے معیار کا ہے، (جیسے) پیراہن کی خوشبو اپنے لائق مشام کیلئے کنعان جا رہی ہے
شرح:۔
اس شعر کے مطالب اور شرح تک پہنچنے سے پہلے ہمیں کچھ حقائق کا ادراک کرلینا چاہیے۔
1:۔ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں ، اس میں لگ بھگ سات ارب انسان آباد ہیں۔ سوا دو سو سے زائد ممالک میں ہزاروں مختلف زبانیں بولی جا رہی ہیں۔ جب ایک مختلف ملک کے لوگ کسی اور ملک کے لوگوں سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں تو ایک دوسرے کی زبانوں سے ناواقفیت کے باوجود بھی کسی تیسرے فرد کے ذریعے اس زبانی نامطابقتی کا حل نکال لیتے ہیں۔ وہ تیسرا فرد ترجمان (انٹرپریٹر) کہلاتا ہے۔ جہاں ترجمان بھی میسر نہ ہو وہاں اشاروں کی عالمگیر زبان کام آجاتی ہے۔
2:۔ جب ہم ایک نظام کی بات کرتے ہیں ، تو یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ نظام مختلف النوع اراکین کے باہمی تعاون اور اتحاد کی صورت ہے۔ ہر نظام کے مختلف النوع اراکین آپس میں ایک دوسرے تک اپنی بات کہنے کیلئے ایک رابطہ زبان اور رابطے کے پروٹوکول وضع کر لیتے ہیں۔
3:۔ اسی طرح جب ہم ایک نیٹ ورک کی بات کرتے ہیں ، تو جانتے ہیں وہ نیٹ ورک مختلف النوع اراکین کے باہمی تعاون اور اتحاد کی صورت ہے۔ ہر نیٹ ورک کے مختلف انواع کے اراکین ایک دوسرے تک اپنا نکتہ نظر اور اپنا حال پہنچانے کیلئے ایک رابطہ زبان اور اس رابطے کے پروٹوکول مقرر کرلیتے ہیں۔
ذرا سی دیر اپنے آپ کو کائناتی تناظر میں دیکھیے۔ اس اتنے بڑے کائناتی نیٹ ورک میں مختلف النوع موجودات ہیں۔جنہیں ہم اپنی آسانی کیلئے جمادات ، نباتات ، حیوانات میں تقسیم کئے ہوئے ہیں۔ حیوانات کیلئے آپس میں ایک دوسرے سے رابطہ کسی قدر آسان ہے۔ نباتات کیلئے بھی آپس میں ایک دوسرے سے رابطہ آسان ہے۔ جمادات کیلئے بھی آپس میں ایک دوسرے سے رابطہ آسان ہے۔ لیکن جب حیوانات نباتات سے رابطہ کرنا چاہیں تو انہیں آپس میں ایک انٹرپریٹر اور ایک پروٹوکول کی ضرورت پڑے گی۔ نباتات کو جمادات سے رابطہ کرنے کیلئے بھی یہی ضرورت درپیش ہوگی۔ اور اگر یہ تینوں بنیادی انواع آپس میں رابطہ کرنا چاہیں تو انہیں ایک وسیع تر انٹرپریٹر اور وسیع تر پروٹوکول کی ضرورت پڑے گی۔
اس میں لطف یہ ہے کہ
4:۔ اگر نیٹ ورک کا کوئی رکن اس نیٹ ورک کے مرکز میں موجود ہونے کے باوجود بھی اس نیٹ ورک کا پروٹوکول فالو نہیں کررہا تو وہ اس نیٹ ورک میں ہونے کے باوجود اس نیٹ ورک کے اندرونی روابط کاحصہ نہیں ہے۔اور اگر کوئی بظاہر اس نیٹ ورک کے مرکز سے ہزاروں میل دور ہے ، لیکن اسی نیٹ ورک کا پروٹوکول فالو کر رہا ہے ، تو اس دمیانی بُعد کے باوجود وہ اس نیٹ ورک کے اندرونی روابط کا حصہ اور برابر شریک ہے۔ (یہی وجہ ہے کہ انبیاء کی بعض اولادیں بھی کفر و گمراہی پر مریں، اور یہی وجہ ہے مکہ میں موجود عمر بن ہشام اور یمن کے قرن میں موجود اویس قرنی میں سے ایک بدستور ہدایت سے عاری رہ گیا اور ایک نے ہدایت پائی)
5:۔ اس کائنات کی تمام موجودات آپسی رابطے کیلئے فریکوئنسی کی زبان استعمال کرتی ہیں۔ اور اس زبان کیلئے طول موج کو پروٹوکول مقرر کیا ہوا ہے۔
کسی بھی پیغام رساں کے ایک سیکنڈمیں ہلنے کی تعداد فریکوئنسی (ارتعاش کا تعدد) ہے۔ انسان اس کام کیلئے زبان سے کام لیتے ہیں، وہ فی سیکنڈایک مخصوص تعداد میں زبان کو حرکت دیتے ہیں ، تو دوسرے انسان اپنے کان کے ذریعے وہ تھرتھراہٹ محسوس کرکے اسی فریکوئنسی کے ذریعے دماغ تک پہنچاتے ہیں۔ دماغ ایک سیکنڈ کے دوران ہونے والے اس ارتعاش کی تعداد کو شمار کر کے اس تعداد کا موازنہ اپنے اندر محفوظ حروف اور الفاظ کے ذخیرے سے کرنا شروع کردیتا ہے۔ وہ تعداد جس لفظ سے میچ ہو جائے ، دماغ اس حرف کو الگ کر لیتا ہے، اور اسی طرح سگنلز کی صورت آنے والے اس سارے ارتعاش کو پروسس کرتا ہوا، موازنے کے عمل سے گزارتا ہوا ، ان سے میچ کرنے والے حروف الگ کرتا جاتا ہے ، اور ان سے لفظ بناتا جاتا ہے اور پھر اس کا ایک سیکشن ان الفاظ کو پھر موازنے والے تھکا دینے والے پروسس سےگزار کر ان کا مطلب نکالتا ہے۔ اب اگر یہ پیغام سننے والا اس کا جواب دینا چاہتا ہے تو پہلے اس کا دماغ دیئے جانے والے جواب کے الفاظ کو حروف میں توڑے گا، پھر ایک سیکشن حروف کا موازنہ تعددِ ارتعاش سے کرتا جائے گا، اور ہر حرف جس تعددِ ارتعاش سے میچ کرتا جائے گا ، اس تعدد کو زبان کی طرف بھیجتا جائے گا۔ اور زبان اس بتائے گئے تعدد کے مطابق تھرتھرا کر فریکوئنسی کی زبان میں کنورٹ کر دے گی۔
6:۔ یہ فریکوئنسی جب کائناتی نیٹ ورک کا حصہ بنے گی تو اس پورے نیٹ ورک میں موجود ہر رکن تک پہنچے گی۔ بالکل ایسے ہی جیسے اس نیٹ ورک کے دیگر اراکین کی پیدا کردہ ساری فریکوئنسیز اس بولنے والے تک بھی آتی ہیں۔
ذرا دیر کو فرض کریں کہ اس دنیا کے سات ارب انسانوں کی پیدا کردہ ہر آواز اس کائنات کے ہر بڑے سے بڑے جانور سے لیکر چھوٹے سے چھوٹے یک خلوی جاندار کی آوازیں ، اس کائنات میں موجود ہر سیارچے ، ہر سیارے ، ہر شہابیے ، ہر پتھر ، ہر چٹان ، ہرذرے ، ہر بلیک ہول ، ہر سپرنووا کی آوازیں (یعنی فریکوئنسیز) کائنات کے ہر باشندے کو سننی اور سہنی پڑیں تو کیا تماشا ہو؟
ہر ایک کھوپڑی میں لگے پروسیسر ہینگ بٹا ہینگ ہو کر رہ جائیں گے۔ اور ہر موجود شئے کی طبیعاتی و کیمیائی بانڈنگ ٹوٹ جائے گی ، اور کائنات کے اکثر باشندے ریزوں میں بدل جائیں گے، (بلیک ہولز کا مجھے نہیں پتا کہ کیا ہوگا)۔
لیکن خوش قسمتی سے ایسا نہیں ہو رہا ہے۔
کیونکہ اس نیٹ ورک میں ایک پروٹوکول بھی نافذ ہے۔ اس پروٹوکول کے انسانی زبان میں کئی مترادفات ہیں۔ اسے حد کہیں تو مطلب پورا نہیں ہوتا۔ اور اگر حدِ بصارت ، حدِ سماعت ، حدِ فلاں فلاں میں گننے لگیں تو طوالت کا اندیشہ ہے۔ ہم اسے قابلیت (ایبیلٹی) کہہ تو لیں ، لیکن مطلب ہو بہو ادا نہیں ہوگا۔ کہ بھئی قابلیت؟ کیسی قابلیت؟ تفصیل میں پھر وہی طوالت آڑے آئے گی کہ کس کس قابلیت کا ذکر کریں۔ میری کم علمی کی مجبوری سمجھ لیں کہ میں اس وقت کائناتی نیٹ ورک میں نافذ پروٹوکول کے ادائے مطلب کیلئے کوئی مناسب سا لفظ یا اصطلاح نہیں ڈھونڈ پایا۔ لیکن مزے کی بات ہے کہ لفظ کی عدم موجودگی اور میری لاعلمی کی پرواہ کیے بغیر وہ پروٹوکول پھر بھی کائنات میں نافذ ہے۔ یعنی ہمیں معلوم ہونے یا نہ ہونے ، ہمارے مان لینے یا نہ ماننے پہ اڑے رہنے سے حقائق شرمندہ نہیں ہوتے ، اور موجود سے عدم نہیں ہوتے۔
7:۔ پروٹوکول ہی یہ طے کرتا ہے کہ نیٹ ورک میں کس کو کتنی رسائی دینی ہے، اور کس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یوں بے شمار ارتعاشات کی موجودگی کے باوجود یہ نیٹ ورک اور اس کے اراکین بغیر کسی ڈیزاسٹر کے فعال ہیں۔
بصری پروٹوکول کی بات کریں تو سب موجودات کا ایک الگ پروٹوکول ہے، جو کسی دوسرے کا (بائی ڈیفالٹ) نہیں ہوتا۔ ہرموجود چیز کی ایک خاص حدِ بصارت ہے۔سمعی پروٹوکول کی بات کریں تو سب کا الگ کھاتہ ہے۔ ہر کسی کی حدِ سماعت مختلف ہے۔ بہت سی آوازیں ہیں ، جو موجود ہیں لیکن انسانی کان انہیں سننے کی قابلیت نہیں رکھتے۔ بہت سے مناظر ہیں ، جو سامنے موجود ہونے کے باوجود نہیں دیکھے جا سکتے۔ کتے اور کچھ دیگرجانور اپنی حدِ سماعت مختلف ہونے کی وجہ سے وہ آوازیں بھی با آسانی سن لیتے ہیں ، جنہیں سننے کیلئے ابھی انسانوں نے آلات بھی ایجاد نہیں کیے۔ جیسے آپ اکثر کسی جیٹ طیارے کی تعریف میں سنتے ہونگے کہ ریڈاربھی اس کی موجودگی نہیں جان پاتا۔ اس کے پیچھے بھی دراصل یہ وجہ ہے کہ طیارے کی رفتار اور دیگر عوامل کو محسوس کرسکنے والی قابلیت اس ریڈار کو بنانے والے نے اس میں ودیعت نہیں کی ہے۔ حالانکہ طیارہ اس کے دائرہ حدود میں سے گزرے گا ، لیکن عدم قابلیت کی وجہ سے ریڈار اس کی موجودگی کا ادراک نہیں کر پایا۔ یہ ادراک تب ممکن ہے جب طیارے اور ریڈار کا پروٹوکول ایک ہو جائے۔
اس بات کوسمجھنے کیلئے سب سے سادہ مثال ریڈیو ٹرانسمشن کی ہے۔ اسی لمحہ موجود میں دنیا بھر میں نجانے کتنے ہی ریڈیو اسٹیشن براڈکاسٹنگ میں مصروف ہیں ، ایف ایم ریڈیوز کی نشریات بھی جا ری ہیں۔مگرانہیں سننے کیلئے ایک آلہ چاہیے جو اس نشریات کی فریکوئنسی والی زبان سمجھ سکتا ہو۔ یہ ریڈیو سیٹ ، ٹرانسٹر دراصل وہ انٹرپریٹر ہوتا ہے جو ہمارے پروٹوکول اور ریڈیائی نشریات کے پروٹوکول کے درمیان رابطے میں مددگار بنتا ہے۔ لیکن صرف ایک ریڈیو سیٹ کی موجودگی ہی کافی نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ فرئکوئنسی کا پروٹوکول مطابق کردیا جائے۔ پس اگر ریڈیو پاکستان بہاولپور کی نشریات سننی ہوں تو پروٹوکول "میڈیم ویو" کا تعدد 1341 مقرر کرنا پڑے گا۔ دوسرے لفظوں میں جب ہمارے ریڈیو کا ریسیور ایک سیکنڈ میں ایک ہزار تین سو اکتالیس بار تھرتھرائے گا ، تب وہ دور بہاولپور ریڈیواسٹیشن میں بیٹھے براڈکاسٹر کی آواز انٹرپریٹ کرکےہمیں سنانے کے قابل ہوجائے گا۔
اس ساری وضاحت کے بعد امید ہے قارئین یہ سمجھنے کے قابل ہو چکے ہوں گے ، کہ صرف کانوں کی موجودگی کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا مالک کچھ بھی سننے کے قابل ہے۔ آنکھوں کی موجودگی کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا حامل کچھ بھی دیکھنے کے قابل ہے۔ یہی اصول قوتِ شامہ کو بھی اپنے دائرے لیے ہوئے ہے، کہ ناک کی موجودگی کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ اس ناک والا کچھ بھی سونگھنے کے لائق ہے۔ صرف حواس ہی پروٹوکول کی زد میں نہیں آتے ، دماغ کی پروسیسنگ بھی اسی دائرے میں قید ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ناک جس خوشبو کو سونگھ کر سگنل دماغ کو بھیج رہا ہے ، دماغ اپنی موازنے والی مجبوری کے باعث اپنے اندر اس کے موازنے لائق کوئی ڈیٹا محفوظ نہیں پاتا۔ پس اس کیلئے اس خوشبو کا ہونا اور نہ ہونا ایک برابر ہے۔
اب غالب کے شعر پر غور کریں تو مطلب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ واضح ہو چکا ہے۔ کہ ہر خوشبو کو سونگھنے کیلئے اس کے لائق مشام ہے۔ اس مشام کے علاوہ کوئی اور اس خوشبو کو نہیں سونگھ سکتا۔ اسی لیے حضرت یوسف علیہ السلام کے پیراہن کی خوشبو مصر سے کنعان جا رہی ہے۔ کیونکہ جس پائے کی وہ خوشبو ہے ، اس پائے کا مشام اس وقت صرف کنعان میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے پیکر میں موجود ہے۔
اس شعر میں دوسرا نکتہ یہ بھی ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے پیراہن کی جو خوشبو ان کے گیارہ بھائی بھی نہ سونگھ سکے تھے، اور نہ ہی وہ خوشبو کنعان میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس موجود دیگر اہلِ خانہ سونگھ سکے تھے۔ بلکہ قرآن مجید کے الفاظ میں انہوں نے تو حضرت یعقوب کی خوشبو سونگھنے والی بات پر "ضلالک قدیم" (پرانی گمراہی) میں مبتلا کہہ دیا تھا۔ ایک بار پھر غور کیجیئے ، جو خوشبو سونگھنے کی قابلیت نہیں رکھتے وہ اپنی ناقابلیت پہ نظر ڈالنے کی بجائے خوشبو سونگھنے والے کی بات کو "وہی پرانی گمراہی" قرار دے رہے ہیں۔ یعنی پروٹوکول رشتے داری نہیں ہے۔ یہ صرف باپ کا بیٹے کی خوشبو سونگھ لینا نہیں ہے۔ بلکہ یہاں درکار پروٹوکول "نبوت" تھا۔ اسی لیے ایک نبی کی خوشبو کو صرف ایک نبی کے مشام ہی محسوس کر سکتے تھے۔
انسانی نفسیات کی بددیانتی کا یہ مظاہرہ آج بھی عام دیکھنے کو ملتا ہے، جب وہ لوگ جنہوں نے ایک ادھ بار دیوانِ غالب پڑھ لیا ہے ، وہ مجھ پہ ٹھٹھہ فرماتے ہیں کہ جوگی تو غالب کے عشق میں گمراہ ہو کر کچھ بھی بکتا رہتا ہے، یہ پاگل ہی ہے۔ وغیرہ وغیرہ
جبکہ حقیقت کسی کی رشتے دار یا پابند نہیں ہوتی، نیٹ ورک ایڈمنسٹریٹر نے یہ پروٹوکول طے کردیا ہے کہ ہر خوشبو کیلئے اس کے لائق مشام ہیں۔ غالب کی خوشبو اگر کچھ مشام سونگھ سکتے ہیں ، تو اس لیے کہ وہ اس قابل پائے گئےہیں، اور جو یہ خوشبو نہیں سونگھ سکتے ، انہیں چاہیے کہ جلنے کڑھنے ، یا ضد میں منکر ہونے کی بجائے ، اپنے اندر وہ اخلاص اور وہ قابلیت پیدا کریں۔
غالبیاتِ جوگی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں