اویس قرنی

قدیم مصر میں (آج سے پانچ ہزار سال قبل تک) مصری زبان لکھنے کیلئے ہیروگلیفک رسم الخط رائج تھا۔ اس رسم الخط میں حروف کسی نہ کسی شئے کی علامتی شکل میں ہوتے تھے۔ مصر کے دوسرے شاہی دور میں ایک اور رسم الخط ایجاد ہوکر مقبول و مروج ہوا۔ جسے ہیرولیٹک کہا گیا ہے۔ ہیرو لیٹک کی ایجاد کے بعد بھی ہیروگلیفک لکھائی کا رواج مقبروں اور معبدوں کی دیواروں پہ جاری رہا۔ پھر تقریباً ڈھائی ہزار سال کے بعد لگ بھگ 700 قبل مسیح میں ایک نیا رسم الخط رائج ہوا۔ جسے ڈیموٹک کا نام دیا گیا۔
ڈیموٹک کی ایجاد اور عوامی پذیرائی کے بعد ہیرولیٹک صرف مذہبی پیشواؤں کی حد تک زندہ رہ سکا۔ یہاں تک کہ پانچویں صدی عیسوی میں یونانی اپنی زبان و رسم الخط کے ساتھ آن پہنچے۔ اور قدیم رسم الخط قصہ پارینہ بن کرمقبروں کی دیواروں پہ لکھے اور پرانے صندوقوں میں پڑے وقت کی ریت میں دب گئے۔

پھر ایک وقت آیا اور مصر میں قدیم آثار و مقبروں کی دریافت و بازیافت سے تحقیق و جستجو کا ایسا سلسلہ چلا کہ ہزاروں سال قدیم مصری زبان اور رسم الخط دوبارہ زندہ ہوگئے۔ لسانیات میں اپنی فطری دلچسپی اور مختلف زبانیں سیکھنے کے شوق میں جوگی نے یہ زبان بھی سیکھنا شروع کی۔ تین سال کے عرصے میں وہی غالب والا حال ہے کہ "رفت گیا اور بود تھا" لیکن یہ بھی کم نہیں کہ کسی قدر دقت اور کوشش سے بہرحال مطالب تک گرتا پڑتا پہنچ جاتا ہوں۔

قدیم مصری  معاشرے  ، ادبی تحاریر  و شاعری میں محبوب اور شوہر کو "بھائی" اور محبوبہ و بیوی کو  "بہن" کہا جاتا تھا۔ فراعین کے علاوہ باقی تمام معاشرہ زن مریدی میں مقامِ شیفتگی پہ فائز تھا۔ قدیم مصری ادب سے چند نمونوں کا اردو ترجمہ پیش ہے۔(طالب علمانہ کوشش میں غلطی کا احتمال بہرحال موجود رہتا ہے)

1:۔

دریا کے کنارے میری "محبوبہ" کی بوئے بدن (سونگھ کر)
آوارہ مگرمچھ ریت میں گھات لگائے پڑا ہے۔
لیکن مجھے کوئی ڈر نہیں ہے
"محبوبہ" کے بوسوں کی (جانفزا)حرارت  میرے دل (کو گرمائے ہوئے)ہے
اور میں (بےخطر)دریا میں  چھلانگ لگا دیتا ہوں
میں آخر کیوں ڈروں؟
محبوبہ کے بوسے میرے لیے تعویز ہیں
وہ مجھے ہر بلا سے بچا لیں گے۔

2:۔

میں اپنے کمرے میں لیٹا ہو اہوں
کیونکہ میں تیری وجہ  سے بیمار ہوں
پڑوسی میری عیادت کیلئے آتے ہیں
لیکن انہیں کیا معلوم کہ میری بیماری کیا ہے
اے کاش!! میری "بہن" بھی پڑوسیوں کے ساتھ چلی آئے
وہی  میرے  خیرخواہوں کو بتا سکتی ہے کہ مجھے کس دوا سے فائدہ ہوگا
کیونکہ صرف وہی ایک ہی تو میری بیماری جانتی ہے

مردانہ شیفتگی کے بعد زنانہ شیفتگی کا  ایک نمونہ بھی ملاحظہ ہو۔ شکاری حسینہ "ہاڑا" فرماتی ہیں:۔

اے پیارے سے چہیتے بھائی!!
تو کہا ں ہے؟ آخر تو کہاں چلا گیا ہے؟
میں کنکھیوں سے جال بُن کر تجھے پھانسنے گئی تھی۔
پو آئت کی ساری چڑیاں مصر میں آ اترتی ہیں
جو چڑیا بھی اپنے غول سے آگے بڑھ جائے
میرا جگنو اسے موہ کر اپنے پاس اتار لیتا ہے
لیکن پیارے بھائی!! میرا دل تو تیرے ہی ساتھ ہے
آخر تو کہاں چلا گیا ہے؟
میرا من چاہتا ہے کہ ہم دونوں مل کر ساری چڑیاں اپنے جال میں پھنسا لیں
اے کاش ! ایسا ممکن ہو تا کہ میں تیرے ساتھ بالکل اکیلی رہ سکوں
اے کاش ، تو میری خوشبو بھری چڑیا کی چیخیں سن لے
اپنے محبوب کو پھنسانے کیلئے مجھے جال تیار کر لینا چاہیے
ہاں! میرا جال ، میرے پاس ہی لگا ہوا ہے
پیارے بھائی ! آجا اور میرے جال میں چپ چاپ پھنس جا
لیکن حسین دوست ! تو میرے جال میں کیسے پھنسے گا
تم تو وہاں جا چکے ہو جو محبوبوں کی سرزمین ہے
میرے من کو موہ لینے والے پیارے بھائی!
میرے دل کو تب تک چین نہیں آئے گا ،
جب تک
تیری بیوی بن کر تیرے ساتھ نہ رہوں
تو جہاں بھی جائے ، مجھے اپنے ساتھ لے جانا
لیکن اس طرح کہ
تیرا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا ہوا ہو
اس وقت میں اپنے سینے میں دبی دل کی ساری باتیں تم سے کہہ سکوں گی
میرے سرتاج بھائی !آج رات تم نہ آئے تو تمہیں بتا ؤں کیا ہوگا؟
میں ویسی ہو جاؤں گی جیسے قبر میں سونے والی میت ہوتی ہے
چونکہ تو ہی تندرستی اور زندگی کا حامل ہے
میرے پیارے!! صرف تو ہی میرے دل میں، تندرستی اور خوشی اتار سکتا ہے
ہاں !ہاں ! مجھ میں
جو تیری تلاش میں سب کچھ بھول چکی ہے

سب سے آخر میں ایک خاص غزل کا  صرف ایک شعرتاکہ ملاحظے میں آسانی رہے کہ معاملاتِ عشق و محبت و شیفتگی پانچ ہزار سال پہلے بھی کچھ مختلف نہ تھے

٭٭جب میں اسے پیار کرتا ہوں اور وہ اپنا نازک سا منہ کھول دیتی ہے
تو پھر کس کافر کو شراب کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے  ٭٭

تنبیہی نوٹ:۔ (اس تحریر کے تمام مندرجات صرف اور صرف معلوماتی نکتہ نگاہ سے پیش کیے گئے ہیں۔ کسی بدنیت کا اسلام و ایمان ڈگمگانے کی صورت میں جوگی ذمہ دار نہیں ہے۔ اور اگر کسی وڈے "عالم" نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو اگلی گل اونوں پتا اے۔ آہو)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم