برقع
کسی کی بیوی ، بیٹی یا بہن خوبصورت ہے تو اپنے شوہر کے لئے ہے ، اس کو اگر آپ دیکھیں گے تو بھی خوبصورت ہی لگے گی ، عام آدمی کو بھی اور مفتی صاحب کو بھی ، تو خوبصورت چیز کا خوبصورت لگنا عیب نہیں ، نہ ہی اللہ پاک نے کہیں ارشاد فرمایا ہے کہ تقوی یہ ہے کہ خوبصورت تمہیں بدصورت نظر آنا شروع ھو جائے گی ،مگر جس طرح کسی کی گاڑی کے خوبصورت لگنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو گناہ ھوا ہے اسی طرح کسی کی بیوی کے خوبصورت لگنے کا مطلب بھی یہ نہیں کہ آپ کو گناہ ھو گیا ھے اور اب اس کا مداوہ آپ اس پر تیزاب پھینک کر کریں اور نہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ کو اس کی خوبصورت گاڑی کا چوری کرنا واجب ھو گیا ہے، اور اس پر فرض ھو گیا ہے کہ وہ آپ سے بچانے کے لئے اپنی گاڑی پر ترپال ڈال کر چلائے اور بیوی پر برقع لاد کر نکلے ـ خوبصورت لگنا گناہ نہیں مگر گناہ والی حرکت سے گناہ ھوتا ھے کہ آپ اس کو نظروں سے اسکین کرنا شروع کر دیں کہ اس پر برقع جب نہیں ڈالا تو میرا اس طرح دیکھنا واجب ھو گیا ہے اور میری اس بدنظری کا گناہ بھی عورت کے ولی پر ہو گا ـ عورت کو زیب و زینت چھپانے سے پہلے مرد کو نظروں کو جھکا کر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ، آپ اپنے حصے کا کام کیجئے ، ویسے عورت کے برقعے ، دوپٹے ، جوتے اور پرس میں بھی بہت کشش ہے ان کا کیا کیجئے گا ؟ بہتر نہیں کہ اپنی نظروں کو اللہ کے حکم کا پابند بنائیں ـ جب فضل ابن عباسؓ نے حج میں رسول اللہ ﷺ کی سواری پر رسول اللہ ﷺ کے بدن مبارک کے ساتھ بدن جوڑ کر سوال پوچھنے والی عورت کو گھورنا شروع کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کو پردے پر درس نہیں دیا بلکہ فضل بن عباسؓ کا چہرہ اپنے دستِ اقدس سے دوسری طرف موڑ دیا ـ بس یہ ہے دین ،، اپنا اپنا بوتھا سنبھالو ــ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں