سنسر شپ
سوشل مڈیا کی وال آج کے دور کا " نوشتہ دیوار " ہے ۔۔۔۔۔۔۔
( کاشف رفیق محسن )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوشتہ دیوار کی تاریخ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے عام طور پر یہ ترکیب کسی ایسے کام کیلئے استمعال کی جاتی ہے جس کا ہونا لازم قرار پا چکا ہو پاکستان میں اسے زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے اور یہ یقین کیا جاتا ہے کہ جب عوام کسی بات پر متفق ہو جائیں تو وہ ہو کر رہتی ہے ۔ عمومی طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ نوشتہ دیوار کی اصطلاح ستر اسی سال سے زیادہ کا تاریخی پس منظر نہیں رکھتی کیونکہ اس سے قبل دیوار پر لکھنے کی اجازت کسے تھی ؟ آزادی اظہار رائے کا وجود ہی نہیں تھا تو دیوار پر سچ کا لکھا جانا عبث تھا مگر ایک تاریخی حوالہ بائبل میں ایسا ملتا ہے جو نوشتہ دیوار کا مفہوم واضع کرتا ہے بابئل کے باب دانیال میں لکھا ہے کہ " بابل کے بادشاہ بتوکد نضر نے یروشیلم پر حملہ کر دیا اور وہاں سے سونے چاندی کے قیمتی برتن لوٹ کر لے آیا۔ یہ برتن خاص طور پر مذہبی تہواروں پر کھانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ یہ قیمتی برتن صرف اور صرف ان ہی کھانوں کے لیے مخصوص تھے۔ بتوکدنضرکی سلطنت کے اختتام پر اس کا بیٹا بیلشضر تخت نشین ہوا ۔ بیلشضر نے امرأ کی بہت بڑی ضیافت کی۔ بیلشضر نے ان برتنوں میں جو اس کا باپ بتوکد نضر یروشیلم سے لوٹ کر لایا تھا مے نوشی کی۔ جس سے ان برتنوں کا تقدس پامال ہوا۔ بیلشضر نے نشے میں بتوں کی تعریف کی ۔یوں وہ گناہ گار ہوا۔ اسی دوران غیب سے ایک ہاتھ نمودار ہوا، اور اس نے دیوار پر لکھا، مئے مئے تقیل و فرسین۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ خدا نے تیری سلطنت کا حساب کیا اور اسے تمام کر ڈالا۔ اس تحریر سے بیلشضر خوف زدہ ہوگیا اور اس نوشتہ ٔ دیوار کو حضرت دانیال علیہ السلام نے پڑھا۔ بیلشضر کی سلطنت جلد ہی ختم ہو گئی"
مگر اس حوالے سے نوشتہ دیوار کا مطلب ایک غیبی آواز واضع ہوتا ہے جسے فی زمانہ زبان خلق کہا جاتا ہے ۔ ہم اس کی تعریف میں یہ شعر بھی پیش کر سکتے ہیں کہ
پابندی جب بھی لگی اخباروں پر
سچ لکھا گیا دیواروں پر
بات اخبار کی چل نکلی تو گذشتہ چند دنوں میں بہت سے سینئر صحافیوں نے پرنٹ و الیکٹرانک مڈیا کی موجودہ صورتحال اور حقائق سے چشم پوشی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صحافت کے درخشندہ دنوں کے حوالہ جات پر مشتمل کالم اور مضامین لکھے مگر حیرت انگیز طور پر ان لکھنے والوں کی تحریروں کا مفہوم بار بار یہی وضاحت کرتا نظر آیا یا ان تحریروں سے یہ تاثر اجاگر ہوا کہ اخبارات کی بندش اور سنسر شپ ستر کی دہائی میں شروع ہوئی اسکے خلاف مزاحمت بھی ستر کی دہائی سے جنرل ضیا کے ابتدائی ایام تک ہی کی گئی اور پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔ 1970 میں اخبارات کی دس روزہ ملک گیر اور مثالی ہڑتال کی قیادت کرنے والے شاعر و صحافی منہاج برنا جنھوں نے 1978 میں بھی آزادی صحافت کی تحریک کی قیادت کی ان تحریروں کا مرکزی کردار رہے بیشک منہاج برنا اور انکے ساتھیوں کی جدوجہد صحافت کی تاریخ کا ایک درخشندہ باب ہے مگر ہم جیسے صحافت کے طالب علمون کو یوں لگا جیسے پاکستان میں سن ستر سے پہلے اظہار رائے کی مکمل آزادی تھی اور مزاحمت ندارد تھی ۔ سچ تو یہ ہے کہ صحافتی آزادی اور آزادی اظہار رائے پر پہلی بندش تو اسی دن لگا دی گئی تھی جب قائداعظم محمد علی جناح کی 11 اگست کی تقریر کی اشاعت روک دی گئی تھی اور پھر اسکے بعد 1958 کے مارشل لا نے کنرولڈ صحافت کی سیاہ رات مسلط کر دی لاہور کے پروگریسو پیپرز لیمیٹڈ پر قبضہ کر لیا گیا اور اسکے دو اخبارات انگریزی اخبار پاکستان ٹائمز اور اردو اخبار روزنامہ امروز اور ہفت روز لیل ونہار قومی تحویل میں لے لیئے گئے جس کے چیف ایڈیٹر فیض احمد فیض تھے ۔ فیض اور ظہیر بابر سمیت دیگر ترقی پسند اہل قلم گرفتار کر لیئے گئے اور انکی جگہہ درباری مصاحب نے لے لی یہ پہلا باضابطہ شب خون تھا جو آزاد صحافت پر مارا گیا اور پھر اسکے بعد کبھی یہ سلسلہ رکا نہیں ۔ نیوز پرنٹ کنٹرول اور سرکاری اشتہار کی بندش نے اخبارات کیلئے " آزادی " کے تمام دروازے بند کریئے پھر آنے والی حکومتیں فوجی ہوں سیاسی یا نیم سیاسی ہر کسی نے انھیں روایتی ہتھیاروں سے صحافتی اداروں کا سرنگوں رکھا ۔ الکیٹرانک مڈیا کی آمد ہوئی تو توقع کی جانے لگی کہ اب آزاد صحافت کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا مگر جس انداز میں خالص کاروباری افراد میں چینلز کے لائسنس تقسیم کیئے گئے اس نے صحافت کو ایک ایسی منافع بخش انڈ سٹری بنا دیا جہاں حکومت اور ریاست کو اب سنسر شپ کی زحمت کم ہی کرنا پڑتی ہے مڈیا ہاوسز اور صحافتی اداروں کے مالکان خود ہی جانتے ہیں کہ انھوں نے حکومت اور ریاستی اداروں کو کس طرح " خوش " رکھ کر اپنے منافع کو برقرار رکھنا ہے اس کے باوجود کسی کو شوق سرفروشی ہو تو اس کیلئے " پمرا کا " ڈنڈا " سپریم کورٹ کا از خود نوٹس کا " ہتھوڑا " بھی موجود ہے اور سڑکوں پر کھڑے ہوکر گالیاں دینے والے جلاو گھیراو کرنے والے مسلح ریاستی جتھے بھی ۔
باوجود اس کے کہ نیشنل مڈیا پر حکومت ریاست اور خود صحافتی اداروں کے مالکان کا شدید ترین دباو موجود ہے پیاز کی پرتوں کی طرح سنسر در سنسر کا ایک طویل سلسلہ موجود ہے عوام کی خبر اور سچائی تک رسائی کیلئے ایک راستہ اب تک کھلا ہے اور وہ راستہ ہے سوشل مڈیا کا راستہ جہاں ٹوئیٹر اور فیس بک پر آج بھی سچ لکھا جا رہا ہے یہ سچ ہے کہ سوشل مڈیا پر بھی سرکار نے اپنے ایجنٹ چار سو پھیلا دیئے ہیں جو مذہبی منافرت سمیت فیک خبروں اور تصاویر کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں مگر عوام کا اعتبار ابھی اس پر قائم ہے اور وہ نیک نیتی سے سمجھتے ہیں کہ ان کی تلاش اور جستجو انھیں اس میڈیم پر سچائی تک پہنچا سکتی ہے اسکے ساتھ ساتھ وہ خود بھی یہاں دل کا غبار نکالنے کیلئے اپنے آپ کو آزاد محسوس کرتے ہیں ۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ کل پابندی کے ایام میں اگر سچ دیواروں پر لکھا جارہا تھا تو آج کا نوشتہ دیوار اپنی ہیت بدل چکا ہے سچ آج بھی لکھا جارہا ہے اور دیواروں پر ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نوشتہ دیوار آج بھی موجود ہے مگر سوشل مڈیا کی دیواروں پر ( وال یا ٹائم لائن ) ۔ اسکی طاقت کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ میں آج بھی اس حوالے سے بحث جاری ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حیرت انگیز اور غیر متوقع فتح میں سوشل مڈیا نے کلیدی کردار ادا کیا ہے کبھی اسکا الزام اندرونی عناصر کو دیا جاتا ہے تو کبھی روسی اداروں کو ۔ چین جیسی مضبوط معیشت کے حامل ملک نے اپنے ملک میں کام کرنے والی چاروں ملٹی نیشن کمپنیوں آئی بی ایم ، مائکرو سافٹ ، ایمزون اور ایپل کو پابند کر رکھا ہے کہ وہ چینی افراد کا ڈیٹا کسی صورت چین سے باہر یوز نہیں کر سکتے ۔ گوگل پر چین نے پابندی لگا رکھی ہے کہ وہ چینی زبان میں ایک محدود ڈیٹا تک ہی چینی عوام کو رسائی دے سکتا ہے ۔ ان ممالک کی تشویش کو دیکھتے ہوئے پاکستانی سرکار کو بھی یہ فکر لاحق ہوگئی ہے کہ ننیشنل مڈیا کو تو سرکاری اشتہارات اور خرید و فروخت کے جمعہ بازار لگا کر کنٹرول کیا جاسکتا ہے مگر سوشل مڈیا پر کس طرح گرفت مضبوط کی جائے لہذا آج کل تمام طاقت کے مراکز پر کنٹرولڈ سوشل مڈیا کے موضوع کو ترجیحی بنیادوں پر ایجنڈے میں رکھا جارہا ہے ۔ آئی ایس پی آر کا ہر آنے والا ترجمان سب سے پپلے اپنے ٹوئیٹر اکاونٹ کو اپ ڈیٹ کرتا ہے اور پھر یہ سلسلہ 24/7 کی سہولت کے ساتھ جاری و ساری رہتا ہے ۔ کہا جارہا ہے حکومت نے فیس بک اور ٹوئٹر کو ریگولیٹ کرنے کی اضافی ذمہ داری پمرا کے گلے ڈال دی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ نیشنل مڈیا کو نکیل ڈالنے کے بعد ریاست اور ریاستی ادارے ایک کٹھ پتلی حکومت کے کاندھے پر رکھ کر سوشل مڈیا کی آزادی کے خلاف کس وقت بندوق چلا کر ایک نئی جنگ کا اعلان کرتے ہیں ۔ ہم تو صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ سوشل مڈیا کی وال آج کے دور کا " نوشتہ دیوار " ہے ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں