تیاھی کا ذمہ دار کون


12 · Edited · تباہی کا ذمہ دار کون ؟پروپیگنڈے نےاسکا ذمہ دار مسلمانوں کوٹہرایا ہے۔حالانکہ تباہی سےسب سےزیادہ متاثر فریق بھی یہی ہے۔مسلمانوں کےبعدسب سےزیادہ نقصان امریکہ نے اٹھایاہے۔برطانیہ،روس،چین اورہندوستان وغیرہ بھی اس پوزیش میں نہیں کہ وہ موقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔پھر حقیقت میں دہشتگرد کون ہے؟اسکےلیئےہمیں دیکھنا ہوگا کہ کون ہے کہ جس نےکم سےکم نقصان اٹھا کر سوفیصد فائدہ اٹھایاہے؟یہ یہودی ہیں جو اقلیت میں ہیں اور ہمیشہ سےانہیں اکثریت پر حکمرانی کا شوق ہے۔آج پوری دنیا انہی کی سازش کا شکار ہوکرجہنم بن رہی ہے۔انہوں نے اکثریت کو ہمیشہ متصادم رکھا ہےتاکہ انکی حکمرانی برقرار رہ سکے۔آج اگر دنیا عظیم سانحہ کا شکار ہوکرغیر محفوظ ہوجائےیا آبی ومعدنی وسائل ناقابل استعمال ہوجائیں تو سب سےبڑا نقصان اکثریت کو ہی ہوگا۔جبکہ یہودیوں کا نقصان میں حصہ انکی آبادی کے تناسب سےنہایت کم ہوگا۔دنیا کو غیر محفوظ کرنے میں ہی انکی بقا ہے۔یہ دنیا کےتمام وسائل کو قبضے میں لیکر آگ تو لگاسکتےہیں۔لیکن اکثریت کےاستعمال کے قابل ہرگز نہیں چھوڑینگے۔انکا کنٹرول ہمیشہ بالواسطہ ہوتا ہے﴿انکے کچھ شعوری آلئہ کارہیں اورکچھ لاشعوری﴾یہ ہرگز نہیں چاہیں گے کہ امریکہ و یورپی ممالک،نام نہاداسلامی فوجیں،القاعدہ،طالبان اور داعش عرصےسےجاری بےمقصدجنگ کی بھٹی سےنکلیں۔جنگ کاکوئی فریق اگرصحیح معنوں میں کامیاب ہوگیاتو انکابنابنایاعظیم کھیل بگڑ سکتاہے۔اسلیئےجنگ کوبھڑکانےکا کوئی نہ کوئی سانحہ آئےروز کسی فریق کے ہاتھوں برپا کروادیتےہیں۔اس جنگ کوہم کیانام دےسکتے ہیں؟یہ دہشتگردی کےخلاف نہیں۔۔دہشت وخوف پھیلانےکی جنگ ہے۔تہذیبی تصادم نہیں۔۔یہودی بالادستی کی جنگ ہے۔صلیبی جنگ نہیں بلکہ عیسائیوں کو جھانسادےکر بری طرح دلدل میں پھنسادیاگیا ہے۔غذائی ومعدنی وسائل پرقبضےکی نہیں بلکہ انکوحاصل کرکےتباہ کرنےکی جنگ ہے۔کفرواسلام کی جنگ نہیں بلکہ کفر کی جانب سےعالم اسلام پرمسلط کی گئی یکطرفہ جنگ ہے۔ابھی ہم اس جنگ کو کوئی خاص نام نہیں دے سکتے۔یہ آئندہ ہونیوالی تباہ کن جنگ کا پیش خیمہ ہے۔یکطرفہ ہونےکےباوجود یہ جنگ انتہائی تباہ کن ہے توسوچنے کی بات یہ ہےکہجب دوسرا فریق پورے شعور کے ساتھ اپناکردار اداکرنے پرمجبور ہوگا تو صورتحال کتنی تباہ کن ہوگی؟کیا کوئی انسانیت کو خطرے سے دوچار کرنے والی اس جنگ کوروک سکتا ہے؟مسلم،عیسائی اورہندو دانشوراپنی اپنی قوم کو پیش آنےوالی عظیم تباہی سےنجات دلاسکتے ہیں؟ہمارےخیال میں جو آگ لگا دی گئی ہے اسکو روکنا اب کسی کے بس میں نہیں۔جو کوشش کرےگا اسکو راستےسےہٹاکراسی کےنام پریہ آگ اوربھڑکادی جائےگی۔پھربھی اسکا منطقی انجام لازمی ہے۔اکثریت جب اپناسب کچھ کھوکر نتائج پرغورکرےگی توفساد کےذمہ دارعناصر کو چن چن کر صفحئہ ہستی سےمٹادےگی۔یاپھر ایسی قیادت کا انتظارکرنا ہوگاجو موجودہ صورتحال میں مئوثرلائحہ عمل ترتیب دے کر دنیاکوتباہی کے عظیم خطرےسےبچاسکے۔یوں بھی آج مسلمان ،عیسائی اور خود یہودی بھی اپنے نجات دہندہ کےمنتظر ہیں۔

تحریر نمبر 2............... استحصالی نظام  ..... / ..... توہین رسالت ............
( تحریر طویل ہوئی اسکی معذرت .... تحریر صرف سنجیدہ دوستوں کے لئے ، دو ٹوپک کو یکجا کردیا ہے ......  تحریر کے جملہ حقوق محفوظ نہیں ، دوست اپنے نام سے بھی کاپی 'پیسٹ کرسکتے ہیں ............ تحریر پڑھنے اور وقت  دینے کا پیشگی شکریہ .............  شاید تیرے دل میں اتر جائے میری بات  ......!!!!!!!!  )
.................................................................................................

موجوده ماڈرن ورلڈ کا سارا "کاروبار حیات" سرمایہ دارانه نظام کے شجر سے وابسته ھے. ساری جدوجهد اسی سوکھتے شجر کو ھرا بھرا رکھنے کے واسطے ھے. اسی واسطے عالمی جنگیں لڑی گئیں' روس 'امریکا سرد جنگ کا طبل بجایا گیا. مقصد اس نظام کو بچانا.
اسی نظام کے وسیلے اس دنیا کے چند افراد'چند ملٹی نیشنل کمپنیز ' ھماری خوبصورت' پرامن دنیا کے مجموعی سرماے پر قابض ھو چکے ھیں. یہ عالمی ساھوکار ھی ساری دنیا کی سیاست' اکنامی ' کھیل 'میڈیا کو اپنے مزموم مقاصد کے لۓ استعمال کرتے ھیں. اس کی سادا سی مثال, جب مائکروسافٹ کے بل گیٹس پر 1996'1997 میں ' اس کی مثابقتی کمپنی نے عدالت میں صرف مقدمه درج کروایا تو ساری دنیا کی اسٹاک ایکسچینج کریش کرگئں اور ساری دنیا کی اکنامی شدید بحران کا شکار ھوئیں.
اس ماڈرن ورلڈ کے تمام ساھوکاروں کا اصل دھندا منشیات ' اسلحہ ' جوا' تیل اور جنس کے کاروبار کے گرد گھومتا ھے. یہ سب اسی سرمایہ دارانه نظام کی چھتری تلے انجام پاتا ھے.
(مذهب یا مذاهب ان کا  براه راست مسلئه ھے ھی نھی. نا ان کو مسلمانوں سے کوئی ڈر خوف ھے ' ھاں اسلام کے اصل منصفانہ نظام سے خوف ضرور هے)
اپنے مقاصد کی تکمیل کے لۓ جو چینل استعمال کئے جاتے ھیں وه ھیں عالمی میڈیا اور موجوده دور میں ' تهذیبوں کا تصادم ' کی تھیوری. میڈیا کے زریعے برین واشنگ اور سماجی' معاشرتی ازھان تخلیق کئے جاتے ھیں. " تهزیبوں کا تصادم" کی تھیوری کے نتیجے اقوام' معاشروں ' مزاھب میں خوف کی فضا پیدا کی جاتی ھے
عالمی معاشی پالیسیاں' سیاسی اکھاڈ پچھاڈ' جغرافیائ سرحدوں کا تعین ' عالمی ' علاقائی جنگیں ان سرمایہ دار ساھوکاروں کی " نظر کرم" کی محتاج ھیں.
اس کھیل میں ھمارا میڈیا بھی آزاد نھیں' عالمی رجحان   و رویئے کی خبریں ' ھمارے میڈیا پر طاقتور عالمی ٹی وی چینلز CNN, BBC  کی چھلنی سے چھن کر هی آتی ھیں. اسی تناظر میں ایک مشهور اصطلاح" شدت پسند" دلچسپی سے خالی نھیں.  " مزاحمت کار دور کھڑا ھو ' ھاتھ نه آے تو " شدت پسند" اور جب پکڑا جاے تو " دھشتگرد" اسی لائن کو ھمارے میڈیا نے کثرت سے رگیدا. اس " ھوشیاری " میں آج تک " امت مسلیمه" سمجھ ھی نه سکی که دھشتگردی کی آخر تعریف کیا ھے یا کیا تعریف کی جاۓ?
ساھوکاروں نے جنگ کے میدان سجاۓ ' اور ھم نے اپنے ھاتھوں سے مزھب اسلام ان کو دان کردیا. آپس میں ھی ابهام کا شکار ھوۓ. مزھب اسلام کی آڑ میں دھشتگردی کرنے والے " رینٹ  اے کار" نام نهاد اسلامی جھادیوں کو ھیرو بنایا اس کے پس  پردہ  ان ساھوکاروں کا دھندا چلتا رها' اسلحہ' منشیات ' تیل کا کاروبار فروغ پاتا رها' پیسہ بنتا رها.
غریب ممالک میں من پسند معاشی اصلاحات کروای جاتی ھیں قرض داربنایا جاتا ھے سود در سود جکڑ کے معشت کو مفلوج کر کے اپنا ایجنڈا نافذ کیا جاتا ھے ' دنیا میں فری اکنامی کا ڈول ڈالا جاتا ھے ' گلوبل ولیج کا دل فریب نعره بھیجوے کو یورپ میں قانونی جواز فراھم کر کے ' ساری دنیا کے کالے دھن کو سفید بنانے کی مشین بنایا گیا.
ھر ملک میں اس کے  مزاج کے مطابق کھیلوں کو فروغ دیا جاتا ھے ( جبکه پاکستان جیسا  ترقی پزیر ملک کرکٹ جیسے کھیل کا متحمل نهیں ھوسکتا.)
استحصالی نظام پر مکمل تحریر اعداد و شمار کے ساتھ اگلے وقت کیلئے اٹھا رکھیں .
یهاں ھم گفتگو کو روکتے ھیں اور حالیہ توھین آمیز خاکوں کا زکر کرتے ھیں.
یہ توھین آمیز حرکت ناقابل برداشت ھے.احتجاجی زھن و حرکات سے بچ کر اس کے پس پرده محرکات پر غور ھونا چاھۓ . توھینی حرکات متواتر سرزد ھورھی ھیں جو اس بات کا واضح ثبوت ھیں که علماۓ کرسچ اپنے پیروکاروں کی مذھبی و اخلاقی تربیت کرنے میں بری طرح سے ناکام ھوگۓ ھیں اور مزھب صرف ویٹیکن سٹی تک محدود سا ھو گیا ھے. اس ماحول میں مزھب یا علماۓ کرسچ سے امید رکھنا عبث ھی ھوگااس مسئلے کے مستقل و پائیدار حل کے لئے صرف قانونی چاره جوئی کا راستہ بچتا ھے لیکن یہ محازسر کرے کون? " پرامن احتجاج" مظاھرے' یاداشت اس کا حل بھی نھیں. 
............
کرنے کا کام ' اسے بار بار کر.
ساری " امت مسلمه " کا ٹھیکیدار بنے سے بچیں ' فلمیں گانے " کھیل " سیاسی شور شرابے جیسی غیر ضروری سرگرمیوں سے نکلنا ھوگا.  تعلیم' تحقیق' تلاش' کتاب کے کلچر کو فروغ دینا ھوگا. لڑائی' مار دو کاٹ دو والی زھنیت سے نکلیں اور ماڈرن ورلڈ سے ان ھی کی زبان میں بات کرنے  کا ڈھنگ   اپنائیں.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم