چُک

کچھ مزدور ایک ریگستانی علاقے میں کام کر رہے تھے- وہاں سے وقت کے ایک عظیم دانشور کا گزر ہوا-

دانشور کچھ دیر مزدوروں کو کھدائ کرتے دیکھتا رہا- پھر دریافت کیا تم لوگ آخر زمین میں کیا چیز تلاش کر رہے ہو-

ایک مزدور سر جھاڑتا ہوا بولا زمین میں سیمنٹ کے کچھ پختہ پائب دبے ہوئے ہیں- ہم انہیں نکال رہے ہیں تاکہ کسی دوسری جگہ استعمال کئے جا سکیں-

دانشور نے کہا ذرا مجھے بھی دکھاؤ کہاں ہیں وہ پائپ ؟

مزدور نے بیلچے سے کچھ ریت اور سنگریزے ہٹائے تو پائپ کا سرا نظر آنے لگا-

دانشور نے کہا کمال ہے ، اتنے آسان کام کو تم لوگوں نے اس قدر مشکل بنا رکھا ہے- پائپ کو ایک طرف سے اٹھاؤ وہ خود باہر آ جائے گا-

یہ کہ کر وہ دانشور آگے بڑھا اور جھک کر پائپ کو اٹھانے کی کوشش کی- پائپ تو نہ نکلا مگر دانشور کو چُک پڑ گئ-

ڈاکٹر نے پی-کیم جیل کی مالش کر دی ہے اور آرام کا مشورہ دیا ہے- احباب سے دعائے صحت کی اپیل ہے-

ظفرجی فیلنگ چُک --- !!!!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری