جوگی

لوگ علم نہیں سیکھنا چاہتے ، نہ ہی وہ حق کی تلاش کر رہے ہیں۔ لوگ بس اپنے مؤقف کی تائید ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔ ان کے موقف کے خلاف بے شک اللہ تعالیٰ پورا قرآن لکھ دے ، اور ائمہ حدیث صحاحِ ستہ لکھ دیں۔ وہ نہیں سمجھیں گے۔ ہاں اگر راسپوٹین کا کوئی ایک قول بھی انہیں اپنی تائید میں مل جائے، تو اس پر مست ملنگ ہو کر دھمالیں ڈالیں گے۔

میں خود کو ایسے لوگوں کی دوستی کے قابل نہیں سمجھتا۔ وہ مجھے بخش دیں ، مجھ پر رحم کریں ، مجھ پر بوجھ نہ بنیں۔

جو لوگ مجھے اس امید پر دوست بناتے ہیں کہ میں ان کی تسکین کیلئے جرنیلوں کو کوسنے دوں ، جمہوریت پہ ٹسوے بہاؤں، ان سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں کہ اللہ والیو! یہ میرا کام نہیں ہے۔ لہذا مجھے بخش دیں ، مجھ پر رحم کریں ، مجھ پر بوجھ نہ بنیں

جو لوگ مجھے اس امید پر دوست بناتے ہیں کہ میں انہیں مرشدی ، استادی ، سیدی ، پروفیسر صاحب ، شاہ صاحب ، چوہدری صاحب کہہ کر ان کا احترام کروں گا ، ان سے بھی معافی چاہتا ہوں ، مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا۔ مجھ پر رحم کھائیں مجھ پر بوجھ نہ بنیں۔

جو لوگ مجھے اس امید پر دوست بناتے ہیں کہ وہ مجھے استادی ، مرشدی اور سیدی کہہ کر چغد بنا لیں گے ، اور میں ان کی زبانی کلامی مٹھاس کے جھانسے میں آجاؤں گا ، وہ بھی مجھے معاف کریں۔ مجھ پر بوجھ نہ بنیں۔

اور میں خاص طور پر ان لوگوں سے بھی پناہ مانگتا ہوں ، جو نازک مزاج ہوتے ہیں۔ کاش وہ سمجھ سکتے کہ ان کی یہ نازک مزاجی دوسروں کیلئے کتنا بڑا عذاب ہے۔ ایسے لوگ مجھ پر رحم کریں اور مجھ پر بوجھ نہ بنیں

جو لوگ اس امید پر دوست بناتے ہیں کہ میں ان کی آکڑ کے بدلے انہیں اپنے اخلاق سے متاثر کرنے کی کوشش کروں گا ، وہ جان لیں کہ مجھ سے بڑا بداخلاق آج تک کوئی پیدا ہی نہیں ہوا۔ وہ دفع ہو جائیں اس سے پہلے کہ میں انہیں ذلیل کرنے پر تُل جاؤں۔

میں کسی سے عزت نہیں کروانا چاہتا۔ اللہ گواہ ہے مجھے کسی کا مرشد بننے کا شوق نہیں ہے۔ مجھے واہ وا سننے کی حرص نہیں ہے۔ جو لوگ اس غلط فہمی میں ہیں وہ اپنی غلط فہمی دور کریں ورنہ بھاڑ میں جائیں۔

میں صرف ان کو سمجھ آ سکتا ہوں ، اور انہیں ہضم ہو سکتا ہوں ، جنہیں میری ضرورت ہو۔ میں ہر اس شخص کی عزت اپنے آپ سے بڑھ کر کرتا ہوں ، جو عملاً طالب علم ہو۔ جوگی طالب علموں کا خدمت گزار ہے۔ اور اسے غالب نے نوازا ہی اسی لیے ہے کہ وہ طالب علموں میں بانٹے۔

لہذا مجھے تلاش ہے ایسے طالب علموں کی جو ضرورت مند ہوں ، بھوکے ہوں، جنہیں کوئی اور منہ نہ لگاتا ہو۔ میں انہیں گلے لگاؤں گا، لیکن شرط طالب علمی ہے۔

جو طالب علم نہیں ، وہ بھلے ہی زمانے کا ولی ہو ، مجھ سے عزت کی امید نہ رکھے۔ جوگی اپنا بھی منکر ہے وہ آپ کا تکبر کیا خریدے گا۔ میں یہاں کسی ادھ پڑھے کو امتحان دینے نہیں بیٹھا۔

تھوڑے کہے کو بہت جانیں ، اور خدا را مجھے بخش دیں ، مجھ پر بوجھ نہ بنیں،، مجھے اپنی بے نیازی سے بچائیں۔ ورنہ میرے نام کا مطلب بھیڑیا ہے۔

میری فرینڈ لسٹ میں اس وقت 63 لوگ موجود ہیں۔ ان میں سے جو طالب علم نہیں ہیں ، انہیں جبری رخصت کر دیا جائے گا۔ اور بار بار انبکس میں پوچھ کر شرمندہ نہ کریں۔ میں خود کو آپ سب جیسے عظیم مسلمانوں اور عظیم اخلاق والوں کی دوستی کے قابل نہیں سمجھتا۔ یہ اپنی بے نیازی کسی اور کو دکھائیے۔ جس نے مجھے بے نیازی دکھائی ، میں سمجھوں گا اس نے مجھے ماں کی گالی دی۔

حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے
آخر گناہگار ہوں ، کافر نہیں ہوں میں

طالب علمیات ِ جوگی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم