اویس قرنی
قسطِ اول
سوچ رہا ہوں کہاں سے بات شروع کروں کہ درد بھی بیاں ہوجائے اور میری "بداخلاقی" کا گند بھی پوشیدہ رہے۔ سجاد حیدر یلدرم سے شروع کر لوں جنہوں نے لکھا تھا "مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" لیکن اس سے بات واضح نہیں ہوتی، آخر مجھے دوستوں سے کیا تکلیف ہے۔ یا پھر اس بدقسمت شخص کی کہانی سناؤں، جسے دوستی کرنے کیلئے ریچھ ہی ملا تھا۔ اور ایک دن جب وہ شخص سو رہا تھا ، اور اس کا مخلص دوست یعنی ریچھ بیٹھا مکھیاں اڑا رہا تھا۔ کہ ایک مگسِ لجوجی کو نشانہ بنانے کے چکر میں اس نے ناک سمیت اپنے دوست کا سر پھوڑ دیا تھا۔ اس کہانی میں بات تو واضح ہو جاتی ہے ، لیکن یہ کہانی درد کی اس خاص مقدارکا ابلاغ نہیں کر پاتی ، جو کہ قارئین تک پہنچانی مقصود ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی میرا مؤقف ، درد کی عین مقدار کے ساتھ ، مکمل سیاق و سباق میں صرف دیوانِ غالب نے بتایا ہے۔
دلِ حسرت زدہ تھا ، مائدہِ لذتِ درد
کام یاروں کا بقدرِ لب و دنداں نکلا
شعر زیادہ مشکل نہیں ، پھر بھی مزید آسان کیے دیتے ہیں ، تاکہ اتمامِ حجت میں کوئی نکا جیا خلا بھی نہ رہ جائے۔ مندرجہ بالا شعر میں قبلہ غالب ؔ فرماتے ہیں:۔ " میرا حسرتوں کا مارا دل تو لذتِ درد کے سبب دستر خوان بن چکا تھا۔ جس پر میرا جلا بھنا دل ، کلیجہ ، تلی اور میرا فرائی شدہ بھیجا ، اور گوشت پڑا تھا۔ میری یاری کے دعویداروں کو بچھا بچھایا ، اور لوازمات سے بھرا دستر خوان مل گیا، اب ان کا کام لبوں اور دانتوں کی طرح ، دستر خوان پہ پڑی اشیا کو چبانا اور نگلنا تھا، سو انہوں نےاس کام سے پوری طرح انصاف کیا ہے۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے
یہ بدتہذیب ، بداخلاق ، بدمزاج ، خردماغ جوگی، جو کبھی بھی اپنے اجداد کو یا اپنے حسب نسب کو اپنی پہچان یا ریفرنس بناتا نہیں پایا گیا۔ پنجاب کے پسماندہ حصے کے ایک دوردراز پنڈ کا پینڈو ہے۔ غالب کے آباء کا پیشہ سو پشت سے سپہ گری تھا، میرے آباء کا پیشہ پچھلی کم ازکم نو پشت سے دوا گری رہا ہے۔ اس خاندان کی معلوم تاریخ میں بزرگ تو بہت گزرے ہیں لیکن کوئی علمی شخصیت ، کوئی فرسٹ کلاس تو کیا کوئی تھرڈ کلاس شاعر یا ادیب بھی نہیں ہو گزرا۔ میرے والد صاحب جن کا انتقال 2013 میں ہوگیا، وہ اپنی مٹی اور روایات سے ایسے جڑے ہوئے تھے کہ اپنی 71 سال کی عمر میں انہوں نے "شلوار" جیسا جدید لباس کبھی نہیں پہنا ، ہمیشہ تہبند قمیض پہنی اور پھر کفن پہن کر قبر میں جا لیٹے۔ پانچویں جماعت میں بہاولپور بورڈ سے پوزیشن لینے کے باوجود، اپنے دونوں بڑے بھائیوں کے میٹرک سے آگے نہ بڑھ سکنے کی سزا مجھے ملی اورغالب خستہ بلال موٹر ورکشاپ میں کاروں جیپوں کا مکینک بننے پہ لگا دیا گیا۔ پنڈ سے روزانہ شہر آنا جانا مشکل ثابت ہوا تو اباجی کے ایک پرانے دوست جو ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر تھے ، ان کے گھر میری رہائش کا انتظام کردیا۔ ایک دن اسٹیشن ماسٹرنی صاحبہ کی آواز میرے کانوں میں پڑی، اپنے بیٹے کو ڈانٹ رہی تھیں کہ کمبخت پڑھ لے ، ورنہ اویس کو دیکھ لے نالائق بچے ایسے ورکشاپوں میں رُلتے ہیں۔ بہت تکلیف ہوئی کہ لوگ اپنی آنکھوں کے کُکروں کو بھی دوسرے کی شخصیت کا ادھورا پن اور پتھریلا پن سمجھ لیتے ہیں۔ پھر مزاحمت کی ایک لمبی کہانی ہے کہ کن کن طریقوں سے رُل رُل کراورمار کھا کھا کر بڑوں کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہوگیا کہ عقلمندی اور بڑائی کا عمر سے کوئی تعلق نہیں ، نیز کسی چھوٹے کا بڑوں سے کوئی اختلاف بہرحال کُفر نہیں ہوتا۔ سندباد جہازی کی طرح جوگی نے رُل رُل کر کبھی یہاں کبھی وہاں تعلیم پائی۔ مجھے جہاں روایتی اساتذہ کی کٹھ ملائیت کا نشانہ بننا پڑا ، وہیں مجھے ایسے ایسے عظیم اساتذہ کرام کا دستِ شفقت بھی میسر آیا جنہوں نے میرے اندر کے امریکہ کو دریافت کیا۔
اب یہ حال ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میری تعلیمی قابلیت کیا ہے۔ جو کاغذ کے پرزے کسی طالب علم کو تعلیم یافتہ ثابت کرتے ہیں وہ ایک دن جلتے تنور کی نذر کردیئے تھے۔ ورنہ کمپیوٹر سائنس سے زراعت اور ٹنل فارمنگ اور ایئر ٹکٹنگ تک وہ کونسا بحرِ ظلمات ہے جس میں گھوڑے نہ دوڑائے ہوں۔ لیکن اب بھی جب کوئی پوچھے کہ آپ کی تعلیم کتنی ہے تو ہنس کے کہتا ہوں " ہوئے پڑھ کے ہم جو رسوا ، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا"
لازم نہیں کہ دنیا ہماری منشا کے مطابق چلتی ہو، تو یہ بھی لازم نہیں کہ جوگی بھی دنیا والوں کے طریق پر چلے۔ اہلِ دنیا بہت سیانے ہیں ، ایک سے بڑھ کر ایک ریاکار، لیکن مجھ سے یہ سب نہیں ہوتا۔ ایک بار مقامی کیبل نیٹ ورک پہ چلانے کیلئے ایک سکول کا ایڈ بنا رہا تھا کہ پرنسپل صاحب نے فرمایا :۔ میرے نام حافظ فلاں کے ساتھ "بی۔اے، دورہ حدیث شریف" کا بھی اضافہ کر دیجیئے۔ جوگی بہت ہنسا ، کھل کے ہنسا ۔ ایک بار ایک شاپنگ سنٹر کا ایڈ بننے آیا ، ایک چھوٹے سے دو سوتر کے قصبے میں کس لیول کا شاپنگ سنٹر ہوسکتا ہے ، آپ اندازہ کر ہی سکتے ہیں، اسی حساب سے جوگی نے دکاندار کے نام کے ساتھ پروپرائٹر لکھ دیا۔ ایڈ کیبل پر چلا ، شاپنگ سنٹر والا منہ بسورتا آگیا کہ جی میرے نام کے ساتھ پروپرائٹر نہیں ، بلکہ "مینیجنگ ڈائریکٹر" لکھیں ، لکھ دیا۔ ایک بار ایک اللہ لوک سے ملنا پڑا۔ تعارف میں حضرت نے بتایا کہ :۔ "میں فلاں ٹریولنگ فرم میں ایز اے مینیجر، ایز اے ٹکٹنگ مینیجر اور ایز اے مارکیٹنگ ایڈوائزر کام کرتا ہوں۔" ان کی لن ترانیاں سننے کے بعد انہیں رخصت کرنے نکلا تو ان کے موٹر سائکل کے پیچھے خرجین میں پاپڑ اور سلانٹیاں بھرے پڑے تھے، نیز ایک بڑی کپی شاید پٹرول سے فل تھی۔ میری نگاہوں کی حیرانی بھانپ کر فرمایا کہ چھٹی والے دن دیہاتی ہٹیوں پر پاپڑ ، سلانٹیاں اور پٹرول بھی سپلائی کرتا ہوں۔ ایک دن بہاولپور سے واپسی پر سرِ راہگزر وہ ٹریولنگ فرم نظر آئی ، جس کے تین کلیدی عہدوں پر وہ صاحب فائز تھے۔ وہ "ٹریولنگ فرم" اکلوتے شٹر والی ایک دکان میں قائم تھی۔ ہم نے سوچا سلام دعا ہو جائے، اندر گئے ، فرم کے مالک سے ملے اور پوچھا کہ آپ کے مارکیٹنگ ایڈوائزر ، مینیجر اور ٹکٹنگ مینیجر سے ملنا ہے۔ وہ غریب پریشان ہوگیا، مزید وضاحت میں جب ہم نے مطلوب و مقصودِ مومن کا نام لیا تو اس کا رکا ہوا سانس پُھس کر کے نکلا اور بولا "آااااااچھا وہ لڑکا جو کمپیوٹر آپریٹر ہے، وہ آج نہیں آیا۔" دنیا کی ظاہرداری اور ریاکاری پر بات چل ہی پڑی ہے تو ایف ایم جیوے پاکستان کے ڈی جے اور مارکیٹنگ مینیجر صاحب کا قصہ بھی بیان ہو جائے۔ آپ کالج کے دنوں میں ہمارے کلاس فیلو ہوا کرتے تھے۔ پہلے دن تعارف میں بتایا کہ ایف ایم جیوے پاکستان میں ایز اے ڈی جے اور ایز اے مارکیٹنگ مینیجر کام کرتا رہا ہوں۔ ہم رشک میں تب تک لتھڑے رہے جب تک ہم نے ایف ایم جیوے پاکستان کے نشریاتی سٹیشن اور سٹوڈیو کا اندر سے تفصیلی دورہ نہیں کر لیا۔ لودھراں پائی پاس خانیوال روڈ پہ پھاٹک کے پاس ایک خستہ سے اور جھاڑ جھنکار اور گھاس پھوس سے بھرے احاطے کے درمیان واقع اکلوتے کمرے میں جس کے اندر ہارڈ بورڈ سے مرغیوں کی کھڈی جتنی پارٹیشن کر کے ایک کھڈی کو آن ایئر سٹوڈیو قرار دیا گیا تھا۔ اس میں ایک مائک اور ایک کمپیوٹر رکھا تھا۔ ڈی جے صاحبان کے بیٹھنے کیلئے ریوالونگ چیئر تو تھی لیکن اس کے نیچے دو پہیوں کی کمی پوری کرنے کیلئے دو پکے روڑے رکھے ہوئے تھے۔ جس کھڈی پر آفس ہونے کی تہمت عائد تھی ، اس میں ایک جھلنگا سی چارپائی ، جس پہ اتنی میلی رلی بچھی ہوئی تھی کہ مجھے اس بیان کیلئے تشبیہہ میسر نہیں۔
اس ساری غیبت سے مقصود یہ فرق ظاہر کرنا تھا کہ دنیا اور دنیاداری کے طور طریقوں اور تقاضوں سے ناواقف نہیں ہوں۔ لیکن جیسا کہ عرض کیا تھا کہ لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریں۔
جوگی دنیا کو کس نظر سے دیکھتا ہے ، صرف اتنے بیان سے بات پوری نہیں ہوتی ، ضروری ہے کہ یہاں یہ بھی بتایا جائے کہ دنیا جوگی کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔
ہمیشہ مجھے یہ حسرت رہی کہ کبھی ہمارے والدین بھی ہماری تعریف میں کوئی ایک ادھ جملہ ہی بولیں گے۔ لیکن قیامت تو آسکتی ہے ، یہ انہونی نہیں ہو سکتی۔ دوسروں پہ بہت رشک آتا تھا جب ان کی مائیں بتاتی تھیں کہ میری بیٹی چودھویں میں پڑھ رہی ہے ، فلاں کا بیٹا سولہویں جماعت میں پڑھ رہا ہے، ہماری اماں جا ن سے جب جب پوچھا گیا تو اماں نے ناک سکوڑ کر کہا "ایہو کوئی ڈپلومہ کریندا دا ودے"(یہی کوئی ڈپلومہ سا کر تو رہا ہے) ایک طرف یہ حال ہے کہ دھنوٹ میں کہیں چلے جائیں لوگ سر جی کہتے احتراماً کھڑے ہو جاتے ہیں اوردوسری طرف ہمارے اباجی کا ہمارے بارے میں حسنِ ظن کا یہ عالم تھا کہ ایک بار جب پٹرول پمپ پہ فلنگ کرواتے ہوئے ڈرائیور محمد اسلم نے مجھے کہا کہ اویس سائیں ذرا میٹر پہ دھیان رکھیے ، کہ کتنا پٹرول بھرا جا چکا ہے۔ اگلی سیٹ پہ بیٹھے ابا جی ہنسے اور فرمایا :۔ اسے ان چیزوں کا پتا نہیں لگتا ، بہتر ہے کہ خود دیکھ لو۔ ابا جی تو خیر بزرگ تھے جو کہتے سر آنکھوں پر ، مگر اس بات کا جو نتیجہ اب تک بھگت رہا ہوں وہ نہایت تکلیف دہ ہے۔ محمد اسلم اور اس کے توسط سے جتنوں تک یہ روایت پہنچی ہے وہ صدق دل سے مجھے ایک بھولا بچہ سمجھتے ہیں ، جس کا بس قد اور عمر بڑھی ہے۔ صرف سمجھتے تو بھی خیر تھی، وہ مجھے باقاعدہ بھولے بچے کی طرح ٹریٹ بھی کرتے ہیں ، اکثر دل میں ہنس لیتا ہوں لیکن کبھی کبھار دل کو تکلیف بھی ہوتی ہے۔ آخر انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں۔
ابا جی کا میرے بارے میں ایک اور قول بھی بہت مشہور ہے کہ :۔ "اویس نہ زندوں میں ہے نہ مُردوں میں ہے"
میرے والدین کی بڑی اولادیں اور ان کے بہن بھائیوں سمیت ان کی اولادیں مجھے کنفرم پاگل سمجھتے ہیں۔ ہاں بس اتنی بچت ہے کہ میرے منہ پہ کہتے سب کی جان جاتی ہے۔ میری ایک دور کی کزن کی آل اولاد جو ون ٹو آل دس نمبر جاہل ہیں کہ الف کے بعد بے کا بھی نہیں پتا۔ کبوتر اڑانا ، کتے پالنا اور پھر انہیں فخر سے ٹہلاتے پھرنا، تھرڈ کلاس سگریٹ کا دھواں منہ میں بھر کر اڑاتے ہوئے خود کو ال پچینو سمجھنا ان کی چند نمایاں خصوصیا ت ہیں۔ ایک بار جب کیبل والوں کے سنٹر پہ ایڈ بنانے گیا۔ وہاں کسی نے میرے بارے میں کچھ پوچھا تو میرے تعارف میں کھوپڑی کی طرف اشارہ کر کے ہاتھ سے نفی کا اشارہ کیا گیا۔ جس کا سلیس اردو میں "اس کا اوپر والا خانہ خالی ہے" ترجمہ کیا جا سکتا ہے۔صاف ظاہر ہے کہ ان جاہلوں کی نظر میں خود کو عقلمند ثابت کرنے کیلئے مجھے کبوتر اڑانے ہونگے ، گریبان کھول کر اجے دیوگن بنے پھرنا ہوگا۔ ہر کسی کی دھی بھین تاڑنی ہوگی، کتے ٹہلانے ہونگے ، اور ایمبیسی فلٹر ، کے ۔ٹو اور ماروی سگریٹ کے کش لگانے ہونگے۔ اگر صرف یہی ہوتا تو شاید میں عقلمندی کا یہ ڈپلومہ بھی کر لیتا ، لیکن مصیبت یہ ہے کہ دنیا میں فقط یہی ایک ٹولہ ہی تو نہیں ہے۔ یہاں بھانت بھانت کے لوگ ہیں جو اپنے آپ میں افلاطون ، سقراط اور ارسطو ہیں، ہر کسی کے نزدیک عقلمندی اور اخلاقیات کے معیار مختلف ہیں۔ بندہ کس کس کو عقلمند بن بن کے دکھاتا پھرے؟
میری تکلیف کا اندازہ کریں۔ تیس سال تک دماغ کی دہی کرنے کے بعد مجھے پتا چلا کہ ناحق تحصیلِ علم میں سر کھپایا اور بے کار وقت ضائع کیا ، اب بھی ایک پاگل اور جاہل سے زیادہ کچھ نہیں ہوں۔
بات ابھی پوری نہیں ہوئی ، بیانِ تکلیف جاری ہے۔ ہمت ساتھ دے تو پڑھتے رہیے
فریاداتِ جوگی
قسط دوم
اس حقیقی کہلانے والی دنیا میں میرا کوئی دوست نہیں تھا۔ کوئی دوست ہوتا بھی کیسے؟ دوستی کیلئے ذہنی ہم آہنگی اور کسی حد تک ہم پسندی و ہم مزاجی ضروری ہے۔ اور مجھے دستیاب دنیا میں بڑے سے بڑا موضوع عورت ہے ، اس سے ہٹے تو تھکڑ فلمیں ہو گئیں۔ نیز اسی قبیل کےاور بھی تھرڈ کلاس موضوعات ہیں۔
عملی زندگی کی ابتدا میں میرے ساتھ ایک دوست پڑھاتے تھے، ان کی چاپلوس طبیعت کے باعث سکول کے میٹرک پاس مالک نے انہیں کاغذات میں پرنسپل لکھوایا ہوا تھا۔ تواسی حساب سے وہ اپنے آپ کو سیانا بھی سمجھتے تھے۔ ایک دن ہم سے پوچھا تم جو اتنی انگریزی فلمیں دیکھتے ہو ، مجھے بھی کوئی فلم دکھاؤ ۔ جوگی نے نہ صرف انہیں رسل کرو کی پانچ آسکریافتہ فلم "گلیڈی ایٹر" تجویز کی بلکہ انہیں کہیں سے لاکر فراہم بھی کی کہ یہ بےچارہ کہاں سے ڈھونڈتا پھرے گا۔ اگلے دن مجھے توقع تھی کہ حضرت سیانے شاہ صاحب میرے ذوق کی داد دیں گے ، لیکن حضرت مجھے دیکھتے ہی چلائے :۔"جا او یار جا ، کیسی تھکڑ فلم دکھانے لگے تھے۔ یہ بھی کوئی فلم ہے ، فلم شروع ہوئی ، کوئی سین ہی نہیں تھا (کوئی سین نہ ہونے سے مراد آنکھیں سیکنے کے قابل کوئی سین نہ ہونا ہے)، بس گھوڑے ہی گھوڑے تھے۔ آگے کی (فارورڈ کی) پھر وہی خون خرابہ ہو رہا تھا۔ میں پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں دیکھ سکا اور فلم ڈیلیٹ کردی۔" اس کے بعد حضرت دوسرے ٹیچرز سے "یہ دل عاشقانہ" فلم کی سٹوری اور کمالات پہ تبادلہ خیال کرنے لگے۔
ٹریول ایجنسی میں رُلنے کے زمانے میں ہمارے باس نے ایک دن یہی فرمائش کردی۔ اس بار ہم نے احتیاطاًپوچھ لیا کہ کس قسم کی دیکھنا پسند کریں گے؟ فرمایا کوئی زبردست ایکشن فلم ہو ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میں تائیکوانڈو کراٹے کا انسٹرکٹر بھی ہوا کرتا تھا، اسی لیے کوئی فائٹنگ والی فلم بتائیں ۔ جوگی نے انہیں "نیکڈ ویپن" دیکھنے بٹھا دیا۔ لیکن حسبِ توقع جناب پندرہ بیس منٹ ہی تاب لا سکے۔ اور ہم ایک بار پھر بدذوق ثابت ہونے پر مدتوں کھسیائے کھسیائے پھرے۔
ایک دن آفس پہنچا تو حضرت کے کیبن سے موسلا دھار قہقہوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ انہیں میری آمد کی خبر ہوئی تو وہیں سے مجھے آواز دی ، قرنی صاحب ادھر آئیں ، آج میں آپ کو دکھاتا ہوں ، کامیڈی مووی ، آئیے ذرا۔ ادھر گیا تو دیکھا حضرت یو ٹیوب پرایک ہریانوی ڈرامہ دیکھ رہے تھے۔ جو اوور ایکٹنگ کا شاہکار اور تھرڈ کلاس کامیڈی سے لبریز تھا۔ حضرت ہر اوٹ پٹانگ سین پر کرسی پہ بیٹھے بیٹھے ایسا قہقتے کہ بھنگ پیے ہوئے بھنگی بھی کیا قہقتے ہونگے۔
اس تنگ دنیا سے اکتا کر جوگی انٹرنیٹ کی وسعتوں میں داخل ہوا۔ یہاں مجھے وزیرآباد سے علی جاوید چیمہ صاحب ملے ، پھر ابو ظہبی سے احسان الحق شانی میسر آیا ، پھر اسلام آباد سے ملک حبیب اللہ صاحب ملے ۔ یہ میرے کولمبس ہیں۔ انہوں نے مجھے دریافت کیا ، اور میرے اندر سوئے لکھاندڑ کو اپنی واہ واہ کے شور سے جگا دیا۔ یہ ایک نیا احساس تھا۔ کہ میری بات پڑھ کر اور سن کر کوئی مجھ پر ہنسا نہیں کہ" پاگل ای اوئے"
مجھے پاگل کہے جانے سے ڈر نہیں لگتا ، ہاں البتہ میرے لیے یہ احساس کربناک ہے کہ اپنے استادِ عظیم کا سچے موتیوں سے قیمتی کلام ، دنیائے انٹرنیٹ کے ان کبوتر بازوں ، کتے ٹہلانے والوں اور کے ۔ٹو فلٹر سگریٹ کا دھواں اڑانے کو کمالِ زندگی سمجھنے والے بے تمیز اور بے قدرے لوگوں کو سنا کر اس کلام کی تذلیل کا سبب بنوں۔ پس اب جو قدردان میسر آئے تو جوگی نے لکھنا شروع کر دیا اور لکھتا ہی چلا گیا۔ لوگ ملتے گئے کارواں بنتا گیا۔اردو ویب سے مہ جبین فاطمہ ملیں ۔ کہنے کو یہ صرف "ایک" خاتون ہیں لیکن عملاً یہ ایک پوری جماعت ہیں۔(حضرت جماعت علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی مریدنی جو ہوئیں) ذوالقرنین ملا ، عبدالرزاق ملا ، اور جوگی چلتا رہا ، چلتا رہا۔
اس دوران قدر محبتیں اور اس قدر حوصلہ افزائیاں پائیں کہ شمار میں نہیں۔ ظاہر ہے حاسدین کے حسد اور دشمنوں کی حوصلہ شکنیوں کا تناسب بھی اسی حساب سے بےشمار رہا۔ یہ دوستیاں یہ محبتیں یہ قدردانیاں محض خیالی دنیا کی گپ نہ رہیں۔ انٹرنیٹ سے نکل کر عملی زندگی کی دوستیاں اور محبتیں بنتی گئیں۔ الحمد للہ پورے پاکستان میں پڑھنے والے ، مجھ سے سیکھنے والے اور مجھے چاہنے والے بکھرے پڑے ہیں۔
لیکن تصویر کا دوسرا رُخ عجیب ہی نہیں نہایت تکلیف دہ بھی ہے۔ جو میرا دوست بنا ، اسے میری لت لگ گئی۔ جسے میری لت لگی اس نے مجھ پر قبضہ جمانا چاہا ۔ لیکن بھلا غالب پہ بھی کوئی قبضہ جما سکا تھا جو کوئی مجھ پہ قبضہ جما پاتا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جس طرح حد سے بڑھی مٹھاس کڑواہٹ بن جاتی ہے ، میرے لیے یہ حد سے بڑھی محبتیں دشمنیاں بنتی گئیں۔
کس کس کا نام لوں۔ شدید درد ہوتا ہے۔۔۔۔
شیرزا چوہان سوز ایک دوست تھا۔ صرف دوست نہیں تھا، بہت ہی پیارا دوست تھا۔ کمبخت مخلص اتنا کہ کیا کسی کے سگے بھائی ہوں گے۔ اسے لفظ لفظ جوڑنا اور لکھنا سکھایا۔ یاری دوستی اپنی جگہ لیکن استادی شاگردی اپنی جگہ۔ میری سخت گیری سے تنگ آکراس نے ہمیشہ اڑیل بیل کی طرح رسا تڑانے کی کوشش کی کہ "بس مجھ میں لکھنے کے جراثیم ہیں ہی نہیں" ، میرا اپنا دماغ بھی کھپ جاتا تھا، لیکن غالبان جنونی ہوتے ہیں، اس لیے نہ خود ہمت ہاری نہ اسے ہارنے دی۔ جب وہ لکھنے کے قابل ہوا تومیرے اس سادہ و مخلص دوست نے (شاید نادانستگی میں) ہمیشہ مجھ پر ہی آری چلائی۔ اپنے حد سے گزرے خلوص کے زور میں اس نے مجھے روندا اور میرے امیج کو جتنا نقصان پہنچایا ، اتنا تو میرے سارے دشمن مل کر بھی مجھے آج تک گندا نہ کر سکے تھے۔ دوست شاید ہوتے ہی اسی لیے ہیں کہ وقت پڑنے پر وہ ہمیں ذلیل کرکے ہمارا ٹیمپر ماپنے کا تماشا کریں۔
ایسے ہی کچھ مخلص دوستوں نے اپنے پیہم اصرار سے مجھ میں ہوا بھری کہ کملیا ، اپنے ٹیلنٹ کو کام میں لا ، ظالما کتابیں لکھ ، مشہور ہونے کی کوشش کر۔ اور انہی مخلص دوستوں نے ہمیشہ عین مشہور ہونے سے کچھ قدم پہلے اپنی دانست میں مجھ پر بیٹھی مکھی اڑانے کے بہانے میرا سر پھوڑ دیا۔ مجھے آج تک میرا کوئی دشمن بھی ذلیل و بےعزت نہیں کروا پایا ۔ ہاں جب بھی مجھے گندا کیا ، میری ریپوٹیشن خراب کی ، میرے کچھ سادہ و مخلص دوستوں نے کی۔
شہرت کسی بازار سے ملتی ہوتی تو جا کر خرید لیتا۔ زمین سے اگتی ہوتی تو میرے والد صاحب کاشتکار تھے ، کچھ زرعی ڈپلومے میرے کندھوں پر بھی ہیں ، کھیتوں میں اگا لیتا۔ لیکن یہ تو قطرہ قطرہ ملتی ہے، اور دوستوں کی سپورٹ سے ملتی ہے۔ مجھے کیا خاک ملنی تھی ، کہ قدرت کی مہربانی سے مجھے ایسے ایسے دوست ملے ہیں جو عملاً مجھ پر جان قربان کرنے کو تیار ہیں ، لیکن وہ مجھے" کچھ" سمجھنے کو بھی تیار نہیں۔ جوگی آج تک کسی دوست کو یہ دقیق نکتہ نہیں سمجھا پایا کہ مجھے جبرئیل اور میکائیل علیہ السلام ستر ہزار فرشتوں کی جماعت کے ساتھ پڑھنے نہیں آئیں گے نہ لائک و کمنٹ کر کے مجھے مشہور کردیں گے۔ یہ سب آپ کو ہی کرنا پڑے گا۔ لیکن میرے دوستوں کو دوسروں کو لائک و کمنٹ کرنے سے فرصت ہو تو وہ مجھے لائک جیسی حقیر چیز سے نوازیں۔ ہاں "بے تکے مشوروں" جیسی قیمتی چیز اور جان دینے کیلئے وہ ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔
میرے بہت سے مخلص دوست اول دن سے یہ سننے کو بے تاب ہیں کہ میری کتاب کب پبلش ہورہی ہے۔ میرے دوست فیصل عظیم اور عبدالرزاق کی کیا تعریف کروں ، ان کے خلوص کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ وہ میری لکھی ہوئی تحریریں خرید کر پڑھنا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ مجھے مفت میں کبھی پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے۔ عبدالرزاق میرے ان دوستوں میں سے ہے جن کے احسانات نہ شمار کرسکتا ہوں، نہ ہی کبھی ان احسانات کا بدلہ چکا سکتا ہوں۔ میرے اس دوست کا بس نہیں چلتا کہ یہ ہر اچھی کتاب خرید کر میرے پاس بھجوا دے۔ یہی وہ دوست ہے جو بارہا اس عزم کا اظہار کر چکا ہے کہ اگر کوئی پبلشر چھاپنے کو تیار نہیں ہے تو ہم آپس میں ہی کوئی جگاڑ کر کے پیسے مل ملا کر کتاب شائع کر لیتے ہیں۔ لیکن میرا یہ دوست مجھے فیس بک پہ پڑھنے کی زحمت نہیں کرتا۔ ہاں البتہ یہ ہر کتے ،بلے ،بھانڈ، میراسی کی پوسٹ پر ضرور حاضر ہوتا ہے ، وہاں اتنے لائک و کمنٹ کرتا ہے کہ اس کی فرینڈ لسٹ میں سب کو پتا چل جاتا ہے کہ مجذوبِ فیس بک عبدالرزاق ، فلاں صاحب کی پوسٹ پر رونق لگائے ہوئے ہے۔ لیکن یہ میرا دوست میری ہفتہ بھر کی کھپ کے بعد لکھی گئی کسی تحریر کو لائک ایسے کرتا ہے جیسے کتے کو روٹی پھینکی جاتی ہے۔ ہاں کبھی کمنٹ کردے تو مجال ہے کبھی موضوع پہ کوئی بات کرلے۔ تنگ آکے کمنٹ ڈیلیٹ کردوں تو یہ بھی میری بدمزاجی ، احسان فراموشی کا ایک ثبوت شمار کیا جاتا ہے۔ میں جاؤں تو جاؤں کہاں؟
میرا دوست فیصل عظیم میرا وہ مخلص ترین دوست ہے کہ پہلی ملاقات کے وقت جب میں لاہور اڈے پر اترا، تو یہ حضرت ایک ڈھول والا ، کچھ ہار اور پھولوں کا بوکے ہاتھ لیے میرے استقبال کو موجود تھے۔ ڈھول کی ڈغا ڈغ میں فیصل بھنگڑے ڈالتا ہوا ، اور نعرے لگاتا ہوا "او میرا استاد آیا ، میرا دوست آیا " مجھ تک پہنچا ، میرے گلے میں تازہ گلابوں کے ہار ڈالے ، خوبصورت بوکے مجھے تھمایا اور دھمال ڈالنے کے دوران ہی مجھ پر بیس بیس کے نوٹ نچھاور کرنے لگا۔ جب بھی لاہور جاؤں ، صبح کے تین بجے ہوں ، پانچ بجے ہوں دوپہر کا ایک بجا ہو یا شام کے سات بجے ہوں ، فیصل عظیم الہٰ دین کے جن کی طرح حاضر ہے، مجھے پک اینڈ ڈراپ کی ذمہ داری اپنے کندھوں پہ لیے رہتا ہے۔ اس دور دراز پنڈ میں جہاں ابھی تک ٹوجی کوریج پہ گزارہ ہے ، فیصل عظیم نے ہی مجھے زونگ کی بولٹ ڈیوائس گفٹ کی ، تاکہ میں ڈھنگ کی نیٹ سپیڈ پہ دنیا سے رابطے میں رہ سکوں۔
تصویر کا دوسرا مگر دردناک رُخ یہ ہے کوئی اور میرا لکھا کیا پڑھے اور کیوں پڑھے ، جب کہ مجھے فیصل عظیم ہی نہیں پڑھتا۔ یہی فیصل عظیم میری کتاب کیلئے چندہ جمع کرنے کو تیار ہے ، یہی فیصل عظیم میری پیٹھ پیچھے میرے علم میں لائے بغیر میری کتاب شائع کروانے کیلئے کوششیں کرتا ہے، لیکن یہی فیصل عظیم میری پی آر بڑھانے کو کبھی میری تحریر پر نہیں آیا۔ ہاں البتہ عین اسی وقت یہ کسی بھی کتے، بلے ، خچر، گدھے کی بے تکی باتوں پہ لائک و کمنٹ سے حوصلہ افزائی کرنے ضرور جاتا ہے۔(شاید اس میں زیادہ ثواب ملتا ہو)
میری بے بسی کا اور میری تکلیف کا اندازہ کیجیئے کہ آج تک اپنے دوستوں کو یہ نہیں سمجھا پایا کہ آپ کے دیئے ہوئے لائک یا کمنٹ سے میرا پیٹ نہیں بھر جائے گا ، نہ ہی ان لائکس کے بدلے مجھے فیس بک انتظامیہ کیش آپ کے اکاؤنٹ سے نکال کر مجھے دے دے گی۔ ہاں البتہ !! آپ کے دئیے ہوئے لائک و کمنٹ سے میری پی آر بنے گی اور بڑھے گی۔ میری پی آر کو گولی ماریں ، میری پی آر بڑھائیں آپ کے دشمن ۔۔۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کے اصول کے مطابق آپ کا کیا ہوا ایک لائک و کمنٹ آپ کی فرینڈ لسٹ کے دوسرے ناواقف لوگوں کو بھی ظاہر ہوتا ہے، یوں کسی بھی غالب کے متلاشی کو درست راہ مل سکتی ہے۔ لیکن یہ سب نکتے کوئی کیسے سمجھائے اور کوئی سمجھنے کے بعد بھی مجھ پہ یہ احسان کیوں کرے؟
میرا دوست شانی ابوظہبی میں بیٹھ کر بلا مبالغہ چھ چھ گھنٹے مجھ سے بات کر سکتا ہے، وہ لاہور سے مجھے گھنٹوں گھنٹوں کال کر سکتا ہے ، میری تعریفوں کے پل باندھ سکتا ہے، مجھ سے اپنی مطالعہ کی ہوئی کتابوں اور دیگر مذاہب کا گیان بانٹ سکتا ہے ، لیکن اس شخص نے میری کسی تحریر پہ کوئی ڈھنگ کا ایک کمنٹ کرنے کو گناہ سمجھا ہوا ہے۔
آپ اگر بہت سیانے ہیں تو جوگی کو لائکس کا حریص اور شہرت کا بھوکا بھی سمجھ لیجیئے کوئی مضائقہ نہیں ، لیکن میرے سادہ و مخلص دوستو!! کوئی بھی پبلشر میری کتاب چھاپنے کیلئے میری مقبولیت دیکھے گا۔ اب وہ زمانے نہیں رہے کہ کتاب علم دوستی میں چھپتی تھی، اب تو نری دکانداری ہے۔ دکاندار یہ دیکھے گا کہ کتاب چھاپنے کے بعد بکے کی کتنی؟ اس دیکھنے کیلئے وہ فیصل عظیم ، عبدالرزاق ، ذوالقرنین ، سعد چودھری سے نہیں پوچھے گا کہ ہاں بھئی یہ بندہ اس لائق ہے کہ نہیں؟ اور آپ اس سے کتنے مخلص و جانثار ہو۔ وہ بس میری تحریروں کی اوسط رونق دیکھ کر اندازہ لگائے گا۔ جہاں حال یہ ہے کہ میرے سگے دوست لائک نہیں کرتے ، دشمنوں کو کیا پڑی ہے کہ وہ میری پی آر میں اضافے کا سبب بنیں ۔ بس ایک جبرئیل اور میکائیل علیہ السلام رہ گئے ہیں ، ہاں بس وہی مجھے پڑھ جاتے ہیں اور جو بیس تیس لائک کمنٹ دکھائی دیتے ہیں یہ انہی کی مہربانی ہے۔
چارپانچ ڈھنگ کے پبلشرز نے مجھے ایڈ کیا تھا۔ ہم بھی ان دنوں اس امید پر اچھے سے اچھا لکھتے رہے کہ شاید کسی کو ترس آجائے۔ لیکن پبلشر میری تحاریر پہ آنے والے لائکس و کمنٹس سے میری مقبولیت کا اندازہ لگاتے رہے ، اور میرے سیانے دوست مجھے اپنے گھڑے کی مچھی سمجھ کر دوسرے ڈڈو (مینڈکوں) کا پھدکنا دیکھنے جاتے رہے، بھلا کون احمق پبلشر تیس لائکس کو دیکھ کر میری کتاب کا ہزار والا ایڈیشن نکالنے کی سوچتا؟
مجھے لائکس اور شہرت نہ ملنے کا دکھ نہیں ، میرا اصل دکھ یہ ہے کہ میرے یہی کمینے دوست ان بکس میں میرا سر کھاتے ہیں ، بار بار پوچھ کر میرا دل جلاتے ہیں کہ میں اپنی کتابیں کب شائع کر رہا ہوں۔؟
میں دوستوں کا کیا رونا روؤں ، مجھے تو میرے سگے رشتے داروں نے کبھی اس لائق نہیں سمجھا۔ میرے سگے ماموں میرے ساتھ ایڈ ہیں ، کچھ کزنز بھی ایڈ ہیں ، ملیں گے تو تعریفوں کے فلائی اوور باند دیں گے ، لیکن ہاتھ ٹوٹنے کے ڈر سے کبھی انگوٹھے والا لائک بھی نہیں دیا۔ شاید اس کی ایک نفسیاتی وجہ بھی ہے ، انہی لوگوں نے مجھے بچپن میں بہتی ناک اور ریں ریں کرتے دیکھا ہوا ہے۔ اب ان کو موت پڑتی ہے کہ وہ مجھے دانشور سمجھ لیں۔ ان کی بڑائی میں خم آتا ہے۔ اس لیے وہ سختی سے پرہیز کرتے ہیں۔
جوگی وہ غریب ہے کہ ایسے ایسے صاحبانِ اخلاق کی دوستی کا بوجھ اٹھائے کمر دہری ہوچلی ہے۔ لیکن کسی کو چھ ماہ اور کسی کو پونا سال (الحمد للہ میری دوستی کی سالگرہ منانا بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے) ہوچکا ہے۔ لیکن مجال ہے جو ان لوگوں نے کبھی کسی ایک تحریر کو ہی پڑھنے کی زحمت کی ہو۔ لائک و کمنٹ تو قسمت والوں کو ملتے ہیں کبھی کوئی تنقیدی کمنٹ ہی کیا ہو۔ چونکہ ان صاحبانِ اخلاق کا گریبان نہیں ہے اس لیے انہوں نے کبھی اس میں نہیں جھانکا ، ہاں البتہ کبھی بھل صفائی کے دوران ان کی دوستی کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتار پھینکوں تو اگلے ہی دن یہ ٹسوے بہاتے ، میری بداخلاقی کی دہائیاں دیتے پائے جاتے ہیں ۔
ہائے ری میری بداخلاقی
آپ اگر ابھی تک تھک نہیں کے تو مژدہ ہو کہ یہ بیانِ تکلیف و بداخلاقی ابھی جاری ہے۔ ہمت ہے تو پڑھتے رہیے۔ عبرت آپ خود پکڑ لیں ، اجر اللہ دے گا۔
فریاداتِ جوگی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں