جوگی ڈائمینشن
ڈائمنشنز
سوال:۔
مجھے بہت عرصہ پہلے ایک دوست نے سمجھایا تھا کہ ڈائمنشنز دو ہیں۔ مشرق اور مغرب ۔ اور پھر قرآن مجید کی ایک آیت مبارکہ کا حوالہ بھی دیا تھا، جس کا ترجمہ ، اسی کے الفاظ میں "وہی ہے مالک مشرق اور مغرب کا" تھا۔۔۔۔۔پھر کچھ دنوں بعد اس نے مجھے بتایا کہ درست ترجمہ یوں ہے کہ "وہی (اللہ) ہے مالک مشرقین اور مغربین کا"
ابھی کچھ دن پہلے آپ نے کسی تبصرے میں گیارہ ڈائمنشنز کا ذکر کیا تھا، یہ کیا چکر ہے ، اس معاملے پہ کچھ تفصیلی روشنی ڈالیں۔
الجواب
ہاں جی سورۃالبقرہ کی ایک آیت میں یہی درج ہے :
قُلۡ لِّلّٰہِ الۡمَشۡرِقُ وَ الۡمَغۡرِبُ ؕ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿146﴾
کہہ دو مشرق اور مغرب اللہ کیلئے ہیں، وہ جسے چاہے صراطِ مستقیم کی طرف راہنمائی کردیتا ہے۔
سورة المعارج
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِرَبِّ الۡمَشٰرِقِ وَ الۡمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوۡنَ﴿40﴾
پس مجھے قسم ہے مشرقوں اور مغربوں کے رب کی ( کہ ) ہم یقیناً قادر ہیں ۔
سورة الصافات
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا وَ رَبُّ الۡمَشَارِقِ ؕ﴿۵﴾
تمام آسمانوں اور زمینوں (کی مخلوقات) کا پالنے والا ، اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، اور مشارق کا رب
اگر شمال کی طرف منہ کر کے بیٹھیں تو سجے پاسے مشرق ہے اور کھبے پاسے مغرب ہے۔۔۔۔لیکن وہ باقی کی نو ڈائمنشنز کیا ہوئیں؟؟ یہ چیز سمجھنے کیلئے آپ کو پہلے "حد" کا نکتہ سمجھنا پڑے گا۔۔۔۔گزشتہ تحاریر میں تفصیل سے سمجھا چکا ہوں کہ حدِ بصارت ، حدِ سماعت ، حدِ عقل وغیرہ وغیرہ "حدود" ہیں ، جنہیں ہم سمجھنے میں آسانی کیلئے پروٹوکول کہتے ہیں۔ جیسے جیسے کسی "شئے" کی ویو لینتھ بڑھتی جائے گی ، گویا اس کی "حد "بڑھتی جائے گی۔۔۔۔ یعنی نیٹ ورک کے اندر اس کا پروٹوکول بڑھتا جائے گا۔ اس کے حقوق بڑھتے جائیں گے۔۔۔ دنیاوی زبان میں کہہ لیں کہ اس کی ترقی ہوتی جائے گی
جیسے ایک بندہ کسی محکمے میں بنیادی سکیل پر نائب قاصد بھرتی ہو، تو اس کی تنخواہ اور عزت وغیرہ کم ہوگی ، لیکن اگلے ہی سال وہ ترقی کرے تو اس کا سکیل بڑھ جائے گا۔ سکیل بڑھنے سے اس کی تنخواہ بھی آٹومیٹک بڑھ جائے گی ، اس کی عزت بھی پہلے کے حساب سے تھوڑی سی زیادہ ہو جائے گی۔۔۔۔۔اسی طرح فرض کریں اگلے سال وہ کلرک بن جائے ، تو کیا ہوگا؟۔۔۔۔سکیل بڑھے گا ، تنخواہ بڑھے گی ، عزت بھی پہلے سے زیادہ ہوجائے گی
دیکھ لیں ، بندہ وہی ہے ، لیکن صرف پروٹولول بڑھنے سے اس کے پیری فیرلز بڑھتے جارہے ہیں۔
اسی طرح سب عام انسان بائی ڈیفالٹ 2 ڈائمنشل ہیں۔۔۔۔۔یا یوں سمجھ لیں کہ انسان بنیادی طور پر ایک 2 ڈی مخلوق ہے۔۔۔۔جب تک وہ اپنا پروٹوکول نہیں بڑھاتا ، یعنی ترقی نہیں کرتا وہ اس سسٹم (یعنی دنیا) میں 2 ڈائمنشل ہی رہے گا۔۔۔۔آپ جتنا مرضی زور لگا لیں اسے دو سے زیادہ سمتوں کا احساس نہیں دلا سکتے۔۔۔ یہ نکتہ سمجھنے کیلئے ہم اپنی زندگی سے ایک مثال لے لیتے ہیں۔۔۔۔
آپ کو ویڈیو فارمیٹس کا تو پتا ہوگا۔۔3gp۔۔۔۔MP4۔۔۔۔flv۔۔۔۔ mwv۔۔۔۔aiv۔۔۔۔mkv۔۔۔۔HD۔۔۔۔sHD۔۔۔
یہ سب کیا ہیں؟
یہ سب پکسلز کے پروٹوکول ہیں۔یعنی جتنی کسی ویڈیو کی ریزولیوشن کم ہوگی اس کا پروٹوکول اتنا ہی کم ہوگا۔ ریزولیوشن جتنی زیادہ ہوگی ، پروٹوکول بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
اب اگر آپ کوئی 3gp فارمیٹ کی ویڈیو آئی فون کے جدید ماڈل یا گلیکسی کے کسی ماڈل میں پلے کرلیں ، تب بھی وہ دھندلی ہی دکھائی دےگی ، فل سکرین کرنے پر اس کے پکسلز پھٹنے لگیں گے۔
اس معاملے میں کیا موبائل کو قصور وار کہا جاسکتا ہے؟ کوئی احمق ہی ہوگا جو کہے کہ موبائل خراب ہے ، جو صاف نہیں دکھا سکتا۔ حالانکہ یہ موبائل تو سپر ایچ ڈی فارمیٹ بھی کلیئر پلے کی صلاحیت کا حامل ہے۔
پس رولا کس کا ہوا؟
رولا ویڈیو کے فارمیٹ کا ہے۔ ویڈیو کو کسی کنورٹر میں ڈال کے اس کی ریزولیوشن زیادہ کردیں تو وہی ویڈیو پہلے سے بہتر رزلٹ دے گی۔ یعنی اس کا پروٹوکول بڑھایا گیا تو اس کاویژول رزلٹ بہتر ہوگیا۔
اسی طرح عام سینما میں فلم دیکھنے جائیں تو ٹکٹ کر ہال میں بیٹھ جاتے ہیں ، سامنے پردے پر فلم پلے ہوتی ہے سب دیکھتے ہیں، سب کو ایک جیسی آواز سنائی دیتی ہے اور ایک جیسے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔
لیکن اگر اسی عام سینما سکرین پر کوئی تھری ڈی مووی پلے کریں تو کیا ہوگا؟؟ تھری ڈی ایفیکٹ کسی کو نظر نہیں آئیں گے۔وہ تھری ڈی فلم بھی ایک عام ٹو ڈی فلم کی طرح دکھائی دے گی۔ اور عوام باہر نکل کر رولا پا دے کہ پوسٹر پر جھوٹ لکھا ہے یہ فلم تو تھری ڈی ہے ہی نہیں۔
اسی مثال کی دوسری صورت دیکھیں۔
ایک تھری ڈی فلم ایک تھری ڈی سینما میں پلے کی جائے۔
لیکن دیکھنے والے تھری ڈی گلاسز نہ لگائیں تو کیا ہوگا؟؟
وہ تھری ڈی فلم ٹو ڈی ہی نظر آئے گی۔یعنی تھری ڈی سینما پہ تھری ڈی فلم پلے ہونے کے باوجود انسان اس کے تھری ڈی ایفیکٹ نہیں دیکھ سکے۔
کیوں؟؟
کیونکہ سب انسان ٹو ڈائمنشنل ہیں۔اسی لیے فلم سکرین اور انسانی آنکھ میں مطابقت و موافقت قائم رکھنے کیلئے وہ تھری ڈی گلاسز پہن کر فلم دیکھنا پڑتی ہے۔جیسے ہی انسان وہ عینک پہنیں گے تو وہ بھی تھری ڈائمنشنل ہو جائیں گے۔یعنی تین سمتی مناظر کو دیکھنے کے قابل ہو جائیں گے۔
اس سے آپ نے کیا سمجھا؟؟ کہ تین سمتیں تو آلریڈی موجود تھیں ، بس دیکھنے والوں میں وہ قابلیت نہیں تھی۔۔۔۔
جونہی قابلیت حاصل کی ، وہ تین سمتیں دکھائی دینے لگیں۔۔
پھر جوں جوں یہ قابلیت بڑھتی جاتی ہے ، ویسے ویسے انسان 2 ڈائمنشنل سے ترقی کرتا جاتا ہے ، تھری ڈائمنشنل ، 4 ڈائمنشنل ، 5 ڈائمنشنل ، 6 ڈائمنشنشل۔۔ 7 ڈائمنشنل اسی طرح گو آن
انسان بنیادی طور پر ایک 2 ڈائمنشنل مخلوق ہے ، لیکن شعور کی ترقی سے یہ بغیر کسی اضافی محنت کے 4 ڈائمنشنل ہو سکتا ہے۔
ہر تعلیم یافتہ انسان ایک 4 ڈائمنشنل مخلوق ہوتا ہے۔
یعنی اپنے ساتھ رہنے والوں سے دو درجے ترقی یافتہ۔
یہ فور ڈائمنشن کی قید اس لیے ہے کہ جس سیارہ زمین پر ہم رہتے ہیں ، یا یوں کہہ لیں کہ جس "عالم" میں ہم رہتے ہیں وہ 4 ڈائمنشن سپورٹڈ ہے۔ پانچویں ڈائمنشن کو دیکھنے کیلئے ہمیں اس عالم سے نکلنا پڑے گا۔ چاہے جیتے جی نکل جائیں چاہے مرنے کے بعد۔
اولیاء کرام بھی ہم جیسے انسان ہی تو ہوتے ہیں ، لیکن ان کا زیادہ ادب کیوں کیا جاتا ہے؟ اس لیے کہ وہ علم میں ہم سے بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔جیسے ہماری دنیا میں کوئی بڑا افسر ہو تو سب اسے جی سر جی سر کرتے ہیں۔ یہ "جی سر" دراصل اس کے پروٹوکول کا احترام ہے۔ یہی مثال اولیاء کرام کی ہے ، ہم ان کے پروٹوکول کا احترام کرتے ہیں ، کہ ان کی پہنچ اس عالم سے باہر نکل کر باقی عالمین تک ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کی ڈائمنشنز بڑھ چکی ہوتی ہیں۔
ڈائمنشن والی بات آپ کو اور بھی زیادہ چس دے گی جب آپ ایک اور نکتہ سمجھ جائیں گے۔
جاری ہے
جواباتِ جوگی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں