اللہ کی زبان

نیاز فتح پوری اور قرآن و رسول ﷺ !

نیاز صاحب قرآن کو اللہ کا کلام نہیں مانتے ظاھر ھے جو اللہ کو ھی نہیں مانتا وہ اللہ کے کلام کو کیونکر مانے گا ، مگر اس کے لئے دلائل جو دیئے گئے ھیں وہ تو امید سے بھی زیادہ بچگانہ ھیں ،،

اللہ کلام کیسے کر سکتا ھے جبکہ کلام کے لئے انسانی اعضاء (پھیپھڑے ، ووکل کارڈز ، ھونٹ وغیرہدرکار ھیں -

سرکار آج انسان نے ایسی چیزیں تخلیق کر لی ھیں جن کو نہ پھیپھڑوں کی ھوا کی ضرورت ھے ، نہ ووکل کارڈز اور نہ ھی ھونٹوں کی ضرورت ھے ،، سی ڈی میں سے بغیر پھیپھڑوں اور ھونٹوں کے ھر قسم کی مقدس و غیر مقدس آوازیں سنی جا سکتی ھیں ، قرآن کی آواز بغیر ھونٹوں کے ھی سی ڈی میں سے نکل رھی ھے ،

اسٹیفن ھاکنگ (stephenh awking) صرف سوچ رھا ھوتا ھے اور اس کی سوچ تحریر میں تبدیل ھوتی ھے اور پھر اسی کی آواز میں سنائی دیتی ھے -

کیا انسانوں کے خالق کو ھی بغیر ھونٹوں کے کلام کرنا نہیں آتا ؟ یا اپنے کلام کو اپنی سوچ سے ایک محفوظ کتاب میں پرنٹ کرنا نہیں آتا ؟

اللہ پاک نے موسی علیہ السلام سے بواسطہ درخت خطاب کیا ، کیا درخت کے پھیپھڑے اور ھونٹ نکل آئے تھے؟ اور سوچ میں نہیں بلکہ کلم اللہ موسی تکلیماً ،، اللہ پاک نے موسی علیہ السلام سے ان کی مادری زبان میں اسی طرح کلام فرمایا جس طرح واقعی بات کی جاتی ھے ، وہ موسی علیہ السلام کی سوچ میں نہیں بولا -

فرماتے ھیں کہ قرآن اگر اللہ کا کلام ھوتا تو کسی اور زبان میں ھوتا ، عرب کے منہ سے عربی قرآن تو اس عرب کی اپنی سوچ ھی ھو سکتی ھے جو غیر عربی میں سوچ ھی نہیں سکتا -

اللہ پاک  اپنی دھاک بٹھانے کے لئے عبث کام نہیں کرتے ،  اس نے انسانوں کو ھدایت پہنچانی تھی جو کہ منطقی طور پر ان کی اپنی زبان میں ھی ھونی چاہیے تا کہ وہ سمجھ لیں اور کل یہ عذر پیش نہ کر سکیں کہ ھمیں تو سمجھ نہیں آئی ، اور یوں ان سمجھے ھوئے لوگوں سے یہ بات آگے ناسمجھ لوگوں تک جائے ،، یہ اعتراض کوئی نیا نہیں اور نہ اس اعتراض کے لئے علامہ ھونا ضروری ھے یہ اعتراض جاھل مشرکین مکہ پہلے ھی کر چکے ھیں،،

اور اس کا جواب بھی اللہ پاک نے دے دیا ھے کہ اگر ھم اس قرآن کو عجمی زبان والا بناتے تو ان لوگوں نے کہنا تھا کہ اس کی آیات کھُل کر کیوں نہیں سمجھائی گئیں ؟ یہ کیسی عجیب بات ھے کہ مخاطب عرب ھیں اور کتاب عجمی نازل کی گئ ھے ؟
(( وَلَوْ جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا أَعْجَمِيًّا لَّقَالُوا لَوْلاَ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ أَأَعْجَمِيٌّ وَعَرَبِيٌّ ؟ )) فصلت -54

اللہ پاک نے قرآن میں بیان کر دیا ھے کہ ھر قوم میں رسول اس قوم کی زبان میں بھیجا گیا اور ظاھر ھے کہ کتاب بھی اسی قوم کی زبان میں نازل کی گئ یعنی اللہ پاک نے سریانی ،عبرانی میں بھی اسی طرح رسول اور ان کی قوم سے خطاب کیا جس طرح عربی میں خطاب کیا ، اس لئے عربی کو اللہ کی زبان قرار دے کر اس پر اعتراض کرنا ھی ایک غیر معقول بات ھے - اللہ زبانوں سے بےنیاز اور بالاتر ھے ، البتہ انسان محتاج ھیں کہ اللہ پاک ان سے ان کی زبان میں خطاب کرے اور ان کو بات سمجھائے ،گویا زبانیں انسانوں کی مجبوری ھیں ،-

محترم علامہ صاحب کی نظر میں نبئ کریم ﷺ کو بھی جوشِ جذبات میں معاذ اللہ مغالطہ لگ گیا ، وہ جس کلام کو اللہ کا کلام کہہ کر درج کرا رھے تھے ، وہ اصل میں ان کے جذبہ اصلاح کی اس کیفیت کی انتہاء تھی کہ جس میں خود ان کا اندر ھی ابل پڑا تھا جو قوم کے لئے اپنی اصلاحی اقوالِ زریں نوٹ کروا رھا تھا ، اس کیفیت کو جبرائیل بھی کہہ رھے تھے یعنی گویا کہ رسول اللہ ﷺ اور قرآن دونوں جو جبرائیل علیہ السلام کو تھرڈ پرسن کے طور پر متعارف کرا رھے ھیں کہ اس نے یہ قرآن نازل کیا رسول اللہ ﷺ کے قلبِ مبارک پر ، جبرائیل کو درمیانی راوی اور واسطہ بنایا ھی اس لئے گیا کہ کوئی اس قرآن کو محمد ﷺ کی سوچ قرار نہ دے سکے ، علامہ کے نزدیک  اللہ اور رسول ﷺ دونوں کا بیان معاذ اللہ غلط بیانی تھی - جبرائیل یا کلام اللہ کا کہیں وجود نہیں تھا ، بس ایک مصلح کے جذبات کا سیلاب تھا جو قرآن کی صورت میں ان کے ابدر سے ابل رھا تھا ( اور خود رسول اللہ ﷺ کو ھی اس کی خبر نہ ھوئی اور آپ ﷺ اس کو کلام اللہ کے طور پر درج اور حفظ کراتے رھے ؟ ) اور اگر علامہ صاحب پیدا نہ ھوتے تو ھم کو بھی خبر نہ ھوتی ،،

گویا ؎
اک دسترس سے تیری حالی بچا ھوا تھا -
اس کو بھی تو نے آخر چرکہ لگا کے چھوڑا -

ایک طرف ان کو صادق اور امین تسلیم کرنا ، دوسری طرف آپ پہ الزام رکھنا کہ قرآن کو کلام اللہ کے طور پر پیش کر کے دانستہ یا نادانستہ غلط بیانی کی ( معاذ اللہ ) جبرائیل کو دیکھنے کا دعوی کیا جبکہ باھر کوئی جبرائیل تھا ھی نہیں بلکہ یہ آپ ﷺ کے اندر کی کوئی کیفیت ھی تھی جو جبرائیل نظر آ رھی تھی آپ ﷺ کو ،،، علامہ صاحب نے اپنی ھی ممدوح ھستی کو مریض قرار دے دیا ،، پہلے اللہ کو ھاتھ سے گنوایا ، پھر کلام اللہ سے ہاتھ دھوئے اور آخر میں رسول اللہ کو بھی کھو دیا -

اس قسم کی باتوں کے درمیان علامہ صاحب بڑی لمبی لمبی قبل مسیح کی کہانیاں سنانا شروع کر دیتے ھیں جن کے درمیان رکھ کر وہ اپنی بات بھی قاری کے دل و دماغ میں اتار دیتے ھیں -

((وَبِالْحَقِّ أَنزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ ۗ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا (105) وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَىٰ مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنزِيلًا (106) قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا ۚ إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا (107) وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا (108) وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا ۩ (109) قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَٰنَ ۖ أَيًّا مَّا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا (110) وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ ۖ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا (111) بنی اسرائیل

اس قرآن کو ھم نے حق کے ساتھ نازل کیا اور یہ واقعی حق کے ساتھ نازل ھو گیا - وہ قرآن جس کو ھم نے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ھے تا کہ آپ اس کو لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں ، اور اھم نے اس کو نازل کیا خاص خاص مواقع کی ضرورت کے مطابق-

( من و یزداں صٖفحہ جات، 324- 329 کا تجزیہ )

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم