شکور پٹھان

ورق ورق گلاب۔۔۔۔۔حصہ چہارم

کارواں بنتا گیا۔

یہ سماجی زرائع ابلاغ یعنی سوشل میڈیا بھی ایک طرفہ تماشا ہے۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ گھر بیٹھے دنیا جہان کے لوگوں سے ایسا تعلق ہوجائے گا جیسے جنم جنم کے ساتھی۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ اپنے ہم ذوق دوست میسر آتے چلے جائیں گے۔ مجھے مختلف شوق رہے اور طرح طرح کے مشغلوں میں زندگی بیتی ، لیکن جوں جوں وقت آگے بڑھتا گیا پرانے دوست دور ہوتے گئے ، نئے نئے لوگ زندگی میں آئے اور طرح طرح کے تعلق بنتے رہے۔

پھر اکیسویں صدی کا یہ عجوبہ یعنی سوشل میڈیا اور اس کی مقبول ترین شاخ " فیس بک" نے بہت سے پرانے دوستوں سے ملوایا تو دوسری جانب نئے لیکن ہم ذوق اور ہم شوق احباب سے بھی شناسائی ہوتی گئی۔
شاید اور بھی ہونگے جنہیں میری طرح ہر مشغلے میں ٹانگ اڑانے کا شوق ہو۔ یہ اور بات ہے کہ کسی ایک میں بھی کمال حاصل نہ کرسکا۔ بچپن ہی سے پڑھنے کا شوق جو قصے کہانیوں سے ہوتا ہوا ابن صفی، نسیم حجازی، اے آر خاتون، زبیدہ خاتون کے ناولوں سے ہوتا ہوا کرشن چندر، عصمت چغتائی، منٹو، قرت العین حیدر، مشتاق احمد یوسفی، شفیق الرحمان، فیض ، فراز ، پروین شاکر، اقبال، میر و غالب، جگر اور حسرت اور نجانے کون کون سے شاعروں اور ادیبوں تک پہنچا۔

یہ تو ہوا ایک شوق۔ اس کے علاوہ گھر آنگن میں بہنوں اور پڑوس کی لڑکیوں اور لڑکوں کے ساتھ پہل دوج ، کھوکھو، کوڑہ جمال شاہی اور چھپن چھپائی جیسے کھیلوں سے لے لے کر گلی میں اپنے ہم عمر لونڈوں کے ساتھ گلی ڈنڈا، پتنگ بازی ، لٹّو بازی قسم کے کھیل اور پھر میدان میں کرکٹ ، فٹبال ،،ہاکی، والی بال اور کالج آکر ٹیبل ٹینس اور امریکن کمپنی میں نوکری کرتے ہوئے باؤلنگ، رافٹ ریس، Touch Rugby جیسے کھیلوں میں بھی حصہ لیا۔

دوسری جانب اخبار پڑھنے کے شوق نے معلومات عامہ کے مقابلوں میں حصہ لینے کا شوق دلایا تو حالات حاضرہ اور سیاست میں بھی عمل دخل شروع کیا۔ ایوبی دور تھا اور دن رات اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی پر ان کی حکومت کے فیوض و برکات سے واقف ہوتے تو  اسکول میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنےوالے ایک استاد نے مولانا مودودی کی عظمت کا نقش ذہن میں بٹھایا۔ کالج گئے تو جمیعت والوں نے گھیر لیا لیکن محلے کے سارے دوست بھٹو صاحب کے دیوانے تھے اور ایک بڑی عمر کے دوست نے دوآنے کا داخلہ فارم بھر واکر پیپلز پارٹی کی رکنیت دلوادی جو تاحال قائم ہے۔

تیسری جماعت میں تھا کہ پہلی بار دونوں چچا مجھے اپنے ساتھ فلم دکھانے لے گئے۔ جوبلی سنیما میں " بھائی بھائی" دیکھی اور یہ شوق تقریباً اب تک ہے یہ اور بات ہے کہ شاید بیس پچیس سال سے کوئی فلم سنیما میں نہیں دیکھی۔ کبھی کبھار ایک آدھ پرانی یا آرٹ فلم یو ٹیوب پر دیکھ لیتا ہوں۔
کچھ عمر بڑھی اور سنجیدگی آنی شروع ہوئی تو دین کی طرف بھی توجہ ہوئی اور ایک عرصہ تک دینی لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا رہا۔ قرآن کریم کے ترجمہ، تفسیر اور تجوید کا شوق ہوا۔ حدیث کا مطالعہ کیا اور حجتہ البالغہ، احیائے العلوم، تبلیس ابلیس، الرحیق المختوم جیسی کتابیں مطالعے میں رہیں۔
اور اب سب کچھ چھوڑ چھوڑ فون پر فیس بک ، واٹس اپ ، یوٹیوب اور گوگل میں سر کھپائے رہتا ہوں۔ لیکن فیس بک کی بدولت ایک کام یہ ہوا کہ میرے مختلف مشاغل اور رجحانات کے مطابق دوستوں کا ایک بڑا حلقہ میسر آگیا۔ ایک بڑا حصہ ان دوستوں کا ہے جنہیں شعر وادب سے شغف ہے۔ ایک حلقہ ان کا ہے جن سے سیاست اور حالات حاضرہ پر گپ شپ رہتی ہے۔ ایک مخصوص حلقہ فلموں اور موسیقی کے شوقین دوستوں کا ہے اور ایک میں وہ شامل ہیں جنہیں کرکٹ سے دلچسپی ہے۔

عادل حسن Adil Hasan

آج تمہید کچھ زیادہ ہی طویل ہوگئی دراصل آج ان دوستوں کا ذکر ہے جن سے مختلف حوالوں سے تعلق ہے۔
میں نے لاہور کا ذکر کیا تھا۔ ایک اور شہر جو زمانہ طالب علمی سے حواسوں پر چھایا ہوا ہے وہ ہے " دِلّی".
کچھ تو غالب کے خطوط، محمد حسین آزاد کے مضامین اور کچھ شاہد احمد دہلوی، اشرف صبوحی وغیرہ کی تحریروں نے دلّی کی ایک تصویر دل میں نقش کردی ۔ لیکن دلّی دیکھنے کا شوق دلانے والی اصل تحریریں تھیں ملا واحدی صاحب، "جنگ "میں ملا واحدی دلّی کے بارے میں لکھتے تھے۔ دلّی کے ساتھ ملاواحدی کی مخصوص شخصیت دل میں گھر کرتی گئی۔ اور اسی شخصیت کا سحر تھا کہ جب میں نے " میرے شہر والے' میں دلّی کی نمائندہ شخصیت کے طور پر ملاواحدی کا ذکر کیا۔
میری یہ پوسٹ لگی تو ہمارے دوست راشد اشرف نے ملاواحدی کے پرنواسے عادل حسن سے تعارف کروایا۔ پتہ چلا کہ عادل میاں نہ صرف ملاواحدی کے پر نواسے ہیں بلکہ اپنے وقت کے مشہور افسانہ اور ناول نگار ' قیسی رامپوری ' کے نواسے بھی ہیں۔ قیسی رامپوری ملا صاحب کے داماد تھے۔
اور جب بچپن میں ابن صفی اور نسیم حجازی کو پڑھتے تھے تو رومانی اور اصلاحی سماجی ناولوں کے لئے ایم اسلم، عادل رشید ، نسیم انہونوی کے ساتھ قیسی رامپوری بھی ہمارے مطالعے کا حصہ ہوتے۔قیسی رامپوری کے ایک دو یا دس پندرہ ناول یا افسانے ہوں تو ذکر بھی کیا جائے۔ یہاں تو ایک طویل فہرست ہے۔ میرے پاس ان کے افسانوں کا مجموعہ "غبار" ہے جو عادل نے مجھے بھجوایا تھا۔ُاس سے  پہلے عادل نے مجھے ملا صاحب کی " میرے زمانے کی دلی" " دلی کا پھیرا" اور راشد اشرف کی مرتب کردہ " ملا واحدی ، معاصر ین کی نظرمیں" اس وقت ارسال کیں جبکہ میں ان سے ملا بھی نہیں تھا۔
اور پھر ایک بار جب میں کراچی کے کتابوں کے اتوار بازار یعنی ریگل چوک پر اپنے بھائی کے ساتھ کتابیں تلاش کرتا پھر رہا تھا، گلی کے ایک کونے سے ایک نوجوان تیزی سے میری طرف آتا دکھائی دیا۔ اتنی دور سے اس نے مجھے پہچان لیا تھا اور مجھے بھی اس پہچاننے میں لمحہ بھر بھی نہ لگا۔ ہم یوں گلے ملے جیسے برسوں سے بچھڑے بھائی ملتے ہیں۔ اس محبت کی گرمی آج بھی محسوس کرتا ہوں۔
عادل ایک نہایت خوش خصال اور نیک طبیعت کے نوجوان ہیں۔ بڑوں کا ادب اور حفظ مراتب یقیناً ملا واحدی اور قیسی رامپوری کے خانوادے سے ہونے کی نشانی ہے۔ عادل حسن خود بہت کم لکھتے لکھاتے ہیں حالانکہ بہت اچھا لکھ سکتے ہیں ۔ البتہ ادب کا ذوق کسی سے کم نہیں اور ہر ادبی محفل میں شریک ہونے کے علاوہ کتابوں کے بازار کے باقاعدہ خریدار ہیں اور معراج جامی اور قیصر کریم بھائی کے ساتھ باقاعدگی سے اتوار بازار کو رونق بخشتے ہیں۔

راجو جمیل۔۔۔ Raju Jamil

میرے فیس بک کا حلقہ احباب ننانوے فیصد ان دوستوں پر مشتمل ہے جن سے فیس بک پرہی تعارف ہوا۔  لیکن ایک دوست ایسے ہیں جنہیں پہلی بار تقریباً چالیس سال پہلے دیکھا تھا۔ لیکن دو تین ملاقاتوں کے باوجود باقاعدہ تعارف نہیں ہوا تھا۔ اور میں انہیں ذوالقرنین عالی کے نام سے جانتا تھا جبکہ فیس بک پر وہ " راجو جمیل" کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اور جب سے فیس بک پر تعلق ہوا پے ہماری ملاقات اب تک نہیں ہوسکی ہے۔

میں بحرین میں یونائٹیڈ بنک سے ملازمت چھوڑ کر بحرین ہلٹن میں نوکر ہوگیا تھا اور میری ڈیوٹی رات کے وقت ہوا کرتی تھی۔ دن میں اکثر یو بی ایل کے دوستوں سے ملنے چلا جاتا۔ ایک دن ایک بھاری بھرکم اور خوش پوشاک صاحب نظر آئے جو میرے یو بی ایل سے جانے کے اگلے ہفتے  یو بی ایل کراچی سے یہاں تعینات ہوئے تھے۔ بتایا گیا کہ یہ جمیل الدین عالی کے صاحبزادے ذوالقرنین ہیں۔

اور اب عالی جی کی بارے میں کیا بتاؤں۔ شاید ہی کوئی ادب کا شوقین ہو جس نے عالی جی کے لازوال دوہے نہ سنے ہوں۔ اور ادب کا شوق ضروری نہیں کونسا پاکستانی ہے جو " اے وطن کے سجیلے جوانوں میرے نغمے تمہارے لئے ہیں"۔۔۔" میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے" ۔۔" اتنے بڑے جیون ساگر میں تو نے پاکستان دیا"۔ اور لاہور میں اسلامی کانفرنس کے دوران مقبول ملی ترانہ " ہم مصطفوی ہیں " کے خالق جمیل الدین عالی کو نہ جانتا ہو۔

بحرین میں راجو صاحب کی دوستی میرے چچا سے تھی۔ بحرین کے پاکستان کلب کی ثقافتی تقریبات میں بھی راجو نظامت کے فرائض انجام دیتے نظر آتے۔ اور جب ایک بار میں کراچی آرہا تھا تو راجو کی ہمشیرہ اور ان کے شیرخوار صاحبزادے کو سفر میں رفاقت بخشنے کی ڈیوٹی بھی میرے ذمے لگائی گئی جہاں پہلی بار میں نے عالی جی کو کراچی ایرپورٹ پر اپنی بیٹی اور نواسے کو منتظر دیکھا۔ اس کا احوال میں اپنی کتاب میں بیان کرچکا ہوں۔

راجو سے میرا دوسرا تعلق فیس بک سے بھی پہلے کا ہے۔ انٹرنیٹ پر راجو کے انگریزی مضامین مجھے ماضی کی خوشگوار یادوں میں لے جاتے۔ راجو کے دو مضامین تو میرے لئے " کلاسیک' کا درجہ رکھتے تھے۔ ایک مضمون پاکستان ریلوے کے بارے میں اور دوسرا کراچی کے سنیماؤں کے متعلق تھا۔ اس مضمون کو میری فرمائش پر راجو صاحب نے فیس بک پر بھی شائع کیا۔

راجو کراچی کی سوشل لائف کے عینی شاہد ہیں اور سرگرمی سے حصہ لیا کرتے تھے۔ ان کی زبانی میٹروپول، بیچ لگژری ہوٹل ، برسٹل ہوٹل وغیرہ کی شبینہ سرگرمیوں کا حال کراچی
کے ان دنوں کی بہترین تصویر پیش کرتا ہے۔ اسی طرح راجو پاکستانی اور انگریزی فلموں کی پوری تاریخ کے راوی ہیں اور اس کے دلچسپ واقعات اپنی بہترین انگریزی میں بڑے ہی دلنشین انداز میں سناتے ہیں۔

راجو وحید مراد اور ایلویس پریسلے کے پرستار ہیں، وحید مراد کی ،ارمان' اور دوسری فلموں کی شوٹنگ کے عینی شاہد ہیں۔ راجو اور میرا ایک اور مشترکہ شوق کرکٹ کا ہے۔ راجو نے بچپن میں اپنے پڑوسیوں حنیف محمد، مشتاق محمد اور صادق کے ساتھ بھی کرکٹ کھیلی۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز بھی راجو کے بچپن کے محلے دار اور دوست تھے۔ ایک طویل فہرست ہے اپنے وقت کے مشہور شعرا اور آدباء سے بھی عالی جی کے توسط سے راجو جمیل کی۔
لیکن یہ راجو کی اپنی شخصیت بطور ایک ٹیلیویژن فنکار ہے جو ایک زمانے سے ناظرین میں مقبول چلی آرہی ہے۔ انکل عرفی، خدا کی بستی سے لیکر ان کہی اور موجودہ دور کے کئی ڈراموں  کی ایک طویل فہرست ہے۔
عالی جی پر میرے مضمون کو راجو نے عالی صاحب کو پڑھ کر سنایا۔ راجو اب بھی انجمن ترقی اردو میں عالی صاحب کی جلائی ہوئی شمع کو تھامے ہوئے ہیں۔
لیکن یہ ایک سعادت مند بیٹے راجو جمیل ہیں جو ہر جمعہ اپنے نامور والدین کی تربت پر حاضری دیتے ہیں اور ان کی دعائیں ہی راجو کے عزت واقبال کا باعث ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم