نشئی
پیٹرول، "دوائی" اور بم ۔۔۔
پچھلے دو چار دن میں نے خود پر بہت روک لگائے رکھی تھی کہ عمران خان کے بارے میں کچھ نہیں لکھوں گا لیکن ان سپاہیوں کا عزم اور جوش و جزبہ دیکھ کر خاموش رہنا مشکل ہے بلکہ اگر ایسا کیا تو اسکا شمار کتمان حق اور شہادت چھپانے کے جرم میں ہوگا۔ ایسے سپاہی خاص غیبی امداد کے بغیر نہیں ملا کرتے۔ وہ ایسے موقع پر ہی کہا کرتے ہیں نا کہ
یہ منصبِ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں
وغیرہ وغیرہ تو ہماری طرف سے وہی شعر۔ ان اللہ کے شیروں کا بس صرف ایک مطالبہ ہے "انہیں صرف پیٹرول دیا جائے ان کی مخصوص "دوائی" مہیا کیا جائے اور انکے جسموں سے بم باندھ کر ان کو انڈیا کی طرف میزائل کر دیا جائے پھر دیکھیے یہ مجاہدانِ نشہ مست وہاں سو دن پورے ہونے سے پہلے پہلے کیا کیا "تبدیلیاں" مچاتے ہیں۔
ان جانباز سپاہیوں کی بلند حوصلگی دیکھ کے لگتا ہے کہ یہ مشاہد اللہ خان کے بس کی بات نہیں۔ یہ اس نے ہرگز تیار نہیں کیے اس نے تو یوں ہی اسمبلی میں ایک بے بنیاد سا الزام لگایا تھا کہ "نشئی کے دو ہی تو کام ہوتے ہیں یا چوری کرتا ہے یا بھیک مانگتا ہے"۔ نہیں نشئی بھیک ہی نہیں مانگتا وقت آنے پر "بم" بھی مانگتا ہے۔
نشئ کابینہ کے اس سردو گرمِ زمانہ چشیدہ پارلیمنٹیرین کا یہ ببانگ ببانگ دہل اعلان بلکہ نعرہ مستانہ یہ ثابت کر رہا ہے کہ مشاہد اللہ خان کا مشاہدہ سراسر غلط ہے بالکل غلط ہے۔ ہم اس ناہنجار مشاہداللہ خان کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔
ایسے بلند ہمت اور سربکف شعلہ و چنگاری قسم کے اراکین کا انتخاب اور ایسی غیبی پارلیمنٹ کی تشکیل عمران خان کے انتخابِ لاجواب عثمان بزدار کے اپنے ذہنِ زرخیز اور خاموشی سے کام کرنے والے مزاج اور خوئےجہد کی پیداوار ہے اور اپنے ان داتا کے الطاف و اکرام اور بھروسے کا ایک ادنیٰ سا بدل اور وہ شے ہے جسے سندھی میں "سوکھڑی" کہتے ہیں۔
گر قبول افتد زہے عز و شرف
نشئی پارلیمنٹ کے اس قائد ایوان نے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے جس طرح اپنے آقائے ولی نعمت عثمان بزدار کی بجائے عمران خان کو مخاطب کیا ہے اسے دیکھ کر وہ پرانا مقولہ یاد آتا ہے
Only like knows like
ولی را ولی خوب می شناسد
اور
کند ہم جنس با ہم جنس پرواز
وغیرہ وغیرہ
😛 😂 😝
پس نوشت
عمران خان کے سپاہیوں کی اس غیبی پارلیمنٹ کے اس سپوت نما رکن رکین سے واقف کروانے کے لئے
راقم سطور ھٰذا پروفیسر ڈاکٹر Aziz Ur Rehman کا ممنون ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں