زلزلے
اللہ تعالی کے بارے میں ھمارے مذھبی طبقے کی تباہ کن پالیسی ،،
کچھ لوگ اس پر بغلیں بجا رھے ھیں کہ جناب کل کے زلزلے کو مسلمانوں کے گناھوں اور اللہ کی گرفت کی طرف منسوب کر کے انہوں نے بہت سارے لوگوں کے وضو توڑ دیئے ھیں اور اب وہ توبہ تائب کر کے اللہ کی طرف پلٹ آئے ھیں وغیرہ وغیرہ ،،،
یہ صرف " چار دن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات ھے " والا معاملہ ھے ،، ایسے لوگ منہ سے تو کچھ نہیں کہتے مگر اللہ کے کھاتے میں ایک اور زیادتی لکھ لیتے ھیں،، یہ ملحد اور دھریئے نہ درختوں پہ اگے ھیں اور نہ شوق سے ملحد بنے ھیں ،، بلکہ ان میں بہت سارے راتوں کو رونے والے اور اللہ سے ڈرنے والے تھے ،، جن میں اللہ کی محبت پیدا کرنے کی بجائے مزید خوف پیدا کیا گیا ،مزید خوف پیدا کیا گیا، مزید خوف پیدا کیا گیا اور یوں ان کی چوڑی سلپ کر گئ ،،جب آپ کسی نٹ کو اس کی استطاعت سے زیادہ کستے ھیں تو آخر اس کی چوڑی سلپ کر جاتی ھے اور پھر وہ کسی کام کا نہیں رھتا ،، خوف کی اپنی Dynamics ھیں اور اس کی ایک حد ھے جس کے بعد صرف بے خوفی پیدا ھوتی ھے ،، جبکہ محبت کی اپنی Dynamics ھیں اور محبت کی کوئی حد نہیں ھوتی ،، اللہ پاک نے اپنے دین کی بنیاد محبت پر رکھی اور ھم نفرت بھڑکاتے ھیں ،، فطری غلطیوں کے فطری نتائج بھی ھم اللہ کے کھاتے ھیں ڈال دیتے ھیں ،، اور یہ کام ھم صدیوں سے کرتے چلے آ رھے ھیں اسی فارمولے کے تحت ھم نے ترغیب و ترھیب اور خوف ودھشت والی حدیثیں گھڑیں ،، ذرا سا گناہ اور ستر سال جھنم میں جلے گا ،، بال کالے کیئے تو جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا ، التحیات مین انگلیاں گھٹنے سے نیچے لٹک گئیں تو ھونٹوں کے بل جھنم میں لٹکایا جائے گا ،، البتہ اگر ھزاروں مسلمان قتل کر دے تو قاتل و مقتول دونوں جنت میں بازو میں بازو ڈال کر چلیں گے ،، حرم پر منجنیقوں سے سنگ باری کرے ،بیت اللہ کو ھدم کر دے ،، آتشین تیروں سے بیت اللہ میں آگ بھڑکا دے جس سے صدیوں کے محفوظ تبرکات بھی جل جائیں ،، جس نے اپنے ھاتھ سے دس ھزار صرف علماء قتل کیئے ھوں باقی مسلمانوں کا تو حساب ھی نہیں ،، جس نے قسم کھائی ھو کہ جب تک میرے گھوڑے کے سم مکے والوں کے خون میں نہیں ڈوبیں گے تب تک قتل کرتا رھوں گا ،، جس نے فجر کی نماز کے بعد قتال شروع کیا تو ظھر کو تھک کر بند کیا اور باقی لوگ فوج کے حوالے کر دیئے کہ میں ذرا آرام کر لوں تب تک ان کو جانے مت دینا وہ اس امت کا فقیہہ کہلائے ،، ھندوستان میں اسلام پہنچانے کا سہرا اس کے سر باندھا جائے ،قرآن پر اعراب کا ھار اس کے گلے میں ڈالا جائے اور کہا جائے کہ ھم اس کے بارے میں خاموشی کو ھی بہتر سمجھتے ھیں ،البتہ باقی فلاں بھی کافر فلاں بھی فاسق ،فلاں کی اذان نہیں ھوتی ،فلاں کے پیچھے جماعت نہیں ھوتی ، اس دوغلی پالیسی نے ملحد پروڈیوس کیئے ھیں ،،
نیکی اور بدی کے بارے میں اللہ پاک نے پورا قرآن بھر دیا ھے اس اعلان کے ساتھ کہ نیکی اور بدی دونوں کا بدلہ آخرت میں ملے گا اور پورا پورا ملے گا،، فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ، و من یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ ،،، فاما من اوتی کتابہ بیمینہ ،،،، و اما من اوتی کتابہ بشمالہ ،،، و وضع الکتاب وجئء بالنبیین والشداء و قضی بینھم ،،،، و وضع الکتاب فتری المجرمین مشفقین مما فیہ و یقولون یویلتنا ما لھذا لکتاب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصاھا ،،، انما توفون اجورکم یوم القیامہ ،،، یہ ساری آیات بتاتی ھیں کہ نیکی اور بدی کے فیصلے حشر میں ھونگے ،، دنیا میں نہ نیکی کا صلہ ھے نہ بدی کی سزا ،،، سوائے کسی رسول اور نبی کی موجودگی میں جب اتمامِ حجت ھو جاتا ھے تو پھر اس قوم کو سمیٹ لیا جاتا ھے اس سمیٹنے میں کسی قدرتی آفت کا ھی انتخاب کیا جاتا ھے ،،،
جب لوگ یہ دیکھتے ھیں اور سوچنے والے سوچتے ھیں کہ حج اور عمرے کے زرِ مبادلہ سے پیسہ اکٹھا کر کے ایک بندہ پورا فائیو اسٹار ھوٹل کرائے پر لیتا ھے اس کی ٹونٹیاں سونے کی لگواتا ھے اور فرنیچر تک میں سونا استعمال کرتا ھے ،کئ مہنے اھتمام کے بعد وہ اس سونے کے ھوٹل میں چند دن کے لئے قیام کرنے پہنچتا ھے ،، وھی بندہ فرانس کا پورا ساحل بمع قریب ترین پوری بستی کے تین ماہ کے کرائے پہ لیتا ھے تا کہ اس ساحل پہ سکون سے عیاشی کر سکے ،، حالانکہ اس کے اپنے ملک میں ساحل بھی ھیں اور صحراء بھی ، ابھا جیسا برفیلا علاقہ بھی اور نجد کا گرم علاقہ بھی ،، پھر بھی وہ اپنی شان دکھانے کے لئے ایک یورپی ملک کا ساحل کرائے پر لیتا ھے ،ساحل تک جانے تک کا پورا راستہ سنگِ مرر سے بنواتا ھے وھی ٹھنڈا سنگِ مرمر جو حرم کے مطاف میں لگا ھے ، اور اس کی رخصتی کے ساتھ ھی وہ پتھر اکھاڑ دیا جاتا ھے اور ساحل کو ریتلی زمین میں تبدیل کر دیا جاتا ھے ، اگر اس شاہ پر اللہ کا عذاب نہیں آتا تو دیر کے لوگوں پر کیوں آتا ھے حالانکہ وہ ووٹ بھی جماعت اسلامی کو دیتے ھیں ؟ یہ وہ سوال ھیں جن کا علماء کے پاس کوئی جواب نہیں یوں سوال کرنے والے ملحد ھو جاتے ھیں ، ایمان ایک جھجھک کا ھی نام ھے ،، جب یہ جھجھک اتر جائے تو ایمان مسافر ھو جاتا ھے ،،
اللہ پاک نے پورا قرآن اپنی عفو و درگزر کی پالیسی بیان کرنے میں بھر دیا ھے ،بڑے بڑے گناھوں سے بچنے پر چھوٹے خود بخود معاف کر دینے کی خوشخبری سنائی ھے ،، فرمایا کچھ ھم تمہارے معافی مانگنے پر معاف کرتے ھیں اور بہت سارے اپنی رحمت سے معاف کرتے رھتے ھیں ،، ھر وقت ھر قسم کے گناہ معاف کرنے کی امید دلائی ھے ،گناہگاروں کو اپنے بندے کہہ کر مخاطب فرمایا ھے ،، نہ توبہ کی کوئی حد رکھی اور نہ اپنی رحمت پر کوئی قدغن قبول فرمائی ھے ،، بلکہ فرمایا ھے کہ میری رحمت ھر چیز پر پھیلی ھوئی ھے ،، و رحمتی وسعت کل شیء،، جس کے نبی ﷺ کے پاس گناھگار روتا ھوا حاضر ھوتا ھے کہ میں ھلاک ھو گیا میرے گناہ زمین و آسمان سے تجاوز کر گئے ،،، یہ تک نہ پوچھا کہ گناھوں کی تفصیل کیا ھے ؟ بلکہ فرمایا " قل اللھم مغفرتک اوسع من کل شیء، ورحمتک ارجی عندی من عملی ،، اے اللہ تیری بخشش ھر چیز سے وسیع ھے اور مجھے اپنے عملوں کی نسبت تیری رحمت پر زیادہ بھروسہ ھے ،، اس نے یہ دعا حضورﷺ کے پیچھے پڑھی ،، آپ نے فرمایا کہ پھر پڑھ ،، اس نے دوسری بار پڑھی ،، آپ نے فرمایا کہ پھر پڑھ ، اس نے پھر پڑھی ، چوتھی بار آپ نے فرمایا پھر پڑھ ،جب اس نے چوتھی بار پڑھ لی تو فرمایا ،قم قد غفر لک ،،کھڑا ھو جا تو بخش دیا گیا ھے ،، یہ ھے میرا اللہ ،، اور یہ ھے اللہ سے جوڑنے والا میرا پیارا نبی ﷺ ،، ایک پہلوان کسی تین سال کے بچے کو کیا سزا دے سکتا ھے ؟ اس کی ھلکی سی سزا بھی اس بچے کی موت ھے ،ھم تو اللہ کے سامنے ایک چینونٹی سے بھی زیادہ کمزور ھیں ،ھم اس قابل ھی کب ھیں کہ وہ ھمیں سزا دے اور ھم پھر چلتے پھرتے رھیں ،،
ولو يؤاخذ الله الناس بما كسبوا ما ترك على ظهرها من دابة ولكن يؤخرهم إلى أجل مسمى فإذا جاء أجلهم فإن الله كان بعباده بصيرا ( 45)
اگر اللہ لوگوں کو ان کے کیئے پر پکڑنے لگے تو اس زمین کی پشت پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑے مگر اس نے ان کے کیئے کی جزا و سزا کے لئے ایک دن مقرر کر رکھا ھے ، جب وہ دن آئے گا تو اللہ اپنے بندوں کو خوب دیکھے بھالے ھوئے ھیں ،،
وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَابَّةٍ وَلَٰكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ. (61 )
اگر اللہ لوگوں کو ان کے گناھوں پہ پکڑنا شروع کر دے تو اس زمین پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑے ،لیکن گناھوں کے باوجود وہ ان کو ایک مقرر شدہ مدت تک مہلت دیتا ھے ،، پھر جب وہ دن یعنی قیامت آ جائے گی تو وہ ایک لحظہ بھی آگے پیچھے نہ ھو گی ،،
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں